سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا حسنؓ کی شہادت پر خوش ہونا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا حسنؓ کی شہادت پر خوش ہونا
بعض شیعہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا حسنؓ کی وفات کی خبر جب سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس پہنچی تو وہ بہت خوش ہوئے کہ آج سیدنا حسنؓ فوت ہوگئے شیعہ بطور دلیل یہ روایت پیش کرتے ہیں کہ۔
سند:
وحدث محمد بن جرير الطبرء عن محمد بن حميد الرازى عن على بن مجابد عن محمد بن اسحاق عن الفضل بن عباس بن ربيعة قال۔
متن: فضل بن عباس کہتے ہیں سیدنا امیر معاویہؓ نے تکبیر کہی تو اہلِ خضراء نے بھی تکبیر کہی تو فاختہ بنت قرظۃ آئیں اور کہا امیر المؤمنین آپ کس بات پر خوش ہیں کہ تکبیر کہہ رہے ہیں تو سیدنا امیر معاویہ نے جواب دیا سیدنا حسن بن علیؓ فوت ہوگئے ہیں جب اس کی خبر سیدنا ابنِ عباسؓ کو پہنچی تو وہ سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس گئے تو سیدنا امیر معاویہؓ نے ان سے کہا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ سیدنا حسن بن علیؓ فوت ہوگئے ہیں؟ تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا کیا اسی وجہ سے تکبیر کہہ رہے ہو؟ تو سیدنا امیر معاویہؓ نے جواب دیا ہاں۔
(مروج الذهب للمسعودی (عربی) جلد 3 صحفه 8)۔
یہ واقعہ امام دمیریؒ نے وفیات الاعیان (عربی) جلد 2 صحفہ 66 اور ابنِ خلکان نے حیاة الحيوان (عربی) جلد 1 صحفہ 81 پر ابنِ خلکانؒ کے حوالے سے مختلف الفاظ کے ساتھ بغیر سند کے نقل کیا ہے یعنی اس واقعہ کی اصل مؤرخ مسعودی کی کتاب ہی ہے۔
اسناد کا تعاقب: اس واقعہ کی سند میں چار علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی محمد بن حمید رازی متروک الحدیث ہے اس کے حالات ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یہ ضعیف ہے یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں اس نے بکثرت منکر روایات نقل کی ہیں امام بخاریؒ کہتے ہیں فیہ نظر (اور یہ جملہ امام بخاری متروک راوی کے بارے میں استعمال کرتے ہیں) امام ابو زرعہ نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے فضلک رازی کہتے ہیں میرے پاس ابنِ حمید کی بیان کردہ پچاس ہزار احادیث ہیں لیکن میں ان میں سے ایک حرف بھی روایت نہیں کرتا محمد بن شاذان کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ ابنِ حمید کذاب ہے صالح جزرہ کہتے ہیں ہم ابنِ حمید کو ہر حدیث میں متہم قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں سے احادیث حاصل کرتا تھا اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تبدیل کر دیتا تھا ابنِ خراش کہتے ہیں اللہ کی قسم ابنِ حمید جھوٹ بولتا ہے ابو علی نیشاپوری کہتے ہیں میں نے امام ابنِ خزیمہؒ سے کہا اگر آپ ابنِ حمید سے بھی سند حاصل کر لیتے تو مناسب ہوتا کیونکہ امام احمدؒ نے اس کی تعریف کی ہے تو انہوں نے جواب دیا امام احمدؒ اس سے واقف نہیں تھے اگر وہ اُس سے اسی طرح واقف ہوتے جیسے ہم ہیں تو کبھی اس کی تعریف نہ کرتے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 6 صحفہ 148،149)
ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی سخت ضیعف و متروک ہے اور اس کی بیان کردہ روایات منکر ہیں اس لئے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
دوسری علت:
اس روایت کا راوی علی بن مجاہد کذاب ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
اس نے ابنِ اسحاق سے روایات نقل کی ہیں یحییٰ بن ضریس نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اس کا ساتھ دیا ہے (یعنی اسے کذاب قرار دیا ہے) یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ حدیث ایجاد کرتا تھا۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ (199)۔
امام ذھبیؒ خود اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
علی بن مجاہد کذاب ہے۔
(المغنی فی الضعفاء (عربی) جلد 2 صحفہ 23)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
نوویں طبقہ کا متروک راوی ہے۔
(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صحفہ 644)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ علی بن مجاہد بھی کذاب ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
تیسری علت: علی بن مجاہد (کذاب) کا محمد بن اسحاق سے سماع ثابت نہیں۔
امام ابنِ ابی حاتمؒ فرماتے ہیں۔
یحییٰ بن ضریس کہتے ہیں علی بن مجاہد نے ابنِ اسحاق سے سماع نہیں کیا۔
(كتاب الجرح والتعدیل (عربی) جلد 6 صحفہ 205)۔
چوتھی علت: اس روایت کا راوی محمد بن اسحاق مدلس ہے اور تدلیس کر رہا ہے محمد بن اسحاق عن فضل بن عباس اور یہ چوتھے طبقہ کا مدلس ہے۔
امام ابنِ حجرؒ نے اس کو مدرلسین کے چوتھے طبقہ میں شامل کیا ہے۔
(تعریف اہل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدلیس (عربی) صحفه 51)۔
اور چوتھے طبقہ کے مدلسین کی معنن کے بارے میں امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں۔
یہ وہ ہیں جن (کی معنن) کے بارے میں اتفاق ہے کہ ان کی حدیث سے ہرگز احتجاج نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ سماع کی تصریح نہ کریں یہ کثرت سے ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرتے ہیں۔
(تعریف اہل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدلیس (عربی) صحفه 14)۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا حسنؓ کی وفات پر خوش تھے جائز نہیں۔
کتاب مروج الذہب کی حقیقت:
اور اس کتاب مروج الذہب کا مصنف المسعودی بھی شیعہ ہے۔
شیعوں نے اس کو شیعہ مؤرخین میں شامل کیا ہے۔
جیسا کہ ملاباقر مجلسی شیعہ علماء کے نام بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔
اور ان میں فاضل شیعہ شیخ علی بن حسین بن علی المسعودی ہیں جو کہ مروج الذهب کتاب کے مصنف ہیں۔
(بحارُ الانوار (عربی) جلد 55 صحفہ 299)۔
اور شیعہ زاکر محمد بن احمد بن ادریس حلبی بھی مسعودی کی اِسی کتاب "مروج الذہب" سے ایک بات کا حوالہ نقل کرتے ہوئے کہتا ہے۔
جیسا کہ ابو الحسن علی بن الحسین المسعودی نے اپنی کتاب مروج الذہب اور معادن الجوہر میں کہا ہے (پھر کہتا ہے) یہ ایک اچھی اور کثیر الفوائد کتاب ہے اور یہ مصنف (یعنی مسعودی) ہمارے اصحاب میں سے ہے اور حق کا معتقد ہے۔
(كتاب السرائر الحاوى التحرير الفتاوی (عربی) جلد 1 صحفه 615)
شیعہ زاکر جواد العاملی بھی کہتا ہے کہ:
اور علی بن حسین المسعودی جو کہ کتاب مروج الذہب کا مصنف ہے وہ شیعہ ہے۔
( مفتاح الكرامة (عربی) جلد 12 صحفہ 247)۔
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا مصنف مسعودی بھی شیعہ ہے اور شیعوں نے اسے اپنے شیوخ میں شمار کیا ہے۔
اور ہم یہ بھی ثابت کرچکے ہیں کہ یہ روایت سند کے اعتبار سے بھی موضوع ہے اس لئے اس روایت اور اس مصنف کی کُتب کی کسی روایت سے ہرگز استدلال جائز نہیں۔