سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا حسنؓ کو زہر دلوانا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا حسنؓ کو زہر دلوانا
بعض شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ کو زہر سیدنا امیر معاویہؓ نے دلوایا تھا اور اس اعتراض پر 4 روایات پیش کرتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
پہلی روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی پہلی روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
قال هيثم بن عدى۔
متن: ہیثم بن عدی کہتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے (سیدنا حسنؓ) کی بیوی سہیل بنت عمرو کو ایک ہزار دینار کے بدلے سیدنا حسنؓ کو زہر دینے کا کہا انہوں نے زہر اس کے پاس بھیجا تو اس نے ایسا کر دیا (یعنی زہر سیدنا حسنؓ کو دے دیا)۔
(انساب الاشراف (عربی) جلد 3 صحفہ 295)۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کاراوی ہیثم بن عدی کذاب اور متروک الحدیث راوی ہے اس لئے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
اس راوی کا ترجمہ گزر چکا ہے۔
(دیکھیں باب سیدنا امیر معاویہؓ کا مال کی خاطر سیدنا حکم بن عمروؓ کو قید کرنا تیسری سند کا تعاقب)۔
دوسری روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی دوسری روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
قال وانا محمد بن سعد انا محمد بن عمر نا عبد الله بن جعفر عن عبد الله بن حسن قال۔
متن: عبد اللہ بن حسن کہتے ہیں سیدنا حسنؓ نے بہت زیادہ عورتوں سے نکاح کیا عورتیں ان کے پاس بہت کم عرصہ گزار پاتیں سب عور تیں جن سے آپؓ شادی کرتے وہ آپؓ سے محبت کرتیں کہا جاتا ہے کہ ان کو زہر دیا گیا لیکن وہ بچ گئے پھر زہر دیا گیا لیکن وہ پھر بچ گئے جب آخری دفعہ زہر دیا گیا تو وہ فوت ہوگئے جب ان کی وفات کا وقت قریب تھا تو طبیب نے کہا ان کی انتڑیاں زہر نے کاٹ دی ہیں سیدنا حسینؓ نے کہا اے ابومحمد مجھے بتائیے کہ آپ کو زہر کس نے دیا ہے؟ آپؓ نے پوچھا کیوں اے بھائی؟ سیدنا حسینؓ نے کہا اللہ کی قسم میں اسے آپؓ کو دفن کرنے سے پہلے قتل کر دوں گا اس پر سیدنا حسنؓ نے فرمایا اے میرے بھائی یہ دنیا چند فانی راتوں پر مبنی ہے اس شخص کو چھوڑ میں اسے اللہ کے ہاں مل لوں گا یہ کہہ کر انہوں نے اس کا نام بتانے سے انکار کر دیا میں (سیدنا عبداللہ بن حسن) نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کے کسی خادم کو زہر دینے پر اکسایا تھا۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 13 صحفہ 284 283)
(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 3 صحفہ 274)
اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی محمد بن عمر بن واقد جو کہ واقدی کے نام سے مشہور ہے یہ کذاب اور متروک الحدیث راوی ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
امام احمدؒ فرماتے ہیں یہ کذاب ہے یہ احادیث کو الٹ پلٹ دیتا تھا یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے اس کی حدیث کو تحریر نہیں کیا جائے گا امام بخاریؒ اور امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے امام ابوحاتمؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ حدیث ایجاد کرتا تھا امام علی بن مدینیؒ کہتے ہیں واقدی حدیث ایجاد کرتا تھا ابنِ راہویہ کہتے ہیں میرے نزدیک یہ ان افراد میں سے ہے جو حدیث ایجاد کرتے تھے۔
(میزانُ الاعتدال (ارده) جلد 6 صحفه 283 285)
امام ذھبیؒ اس پر آخری حکم بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
امام بخاریؒ وغیرہ نے کہا ہے یہ متروک ہے۔
(الكاشف للذہبی (عربی) جلد 2 صحفہ 205)
امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
نوویں طبقہ کا متروک راوی ہے۔
(تقریب التہذیب (اردو) جلد 2 صحفہ 120)
امام نسائیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کرکے کہتے ہیں۔
یہ متروک الحدیث ہے۔
(كتاب الضعفاء والمتروكين للنسائی (عربی) صحفه 217)۔
امام ابنِ جوزیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کرکے کہتے ہیں۔
امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے اور احادیث ایجاد کرتا تھا امام بخاریؒ امام رازیؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے اور امام رازیؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ احادیث وضع کرتا تھا۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 3 صحفہ 78 79)
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ واقدی کذاب اور متروک الحدیث ہے اور یہ روایت موضوع ہےاس لئے اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔
تیسری روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی تیسری روایت یوں ہے۔
سند:
حدثنی احمد بن عبيدالله قال حدثنی عيسىٰ بن مہران قال حدثنا يحيىٰ بن ابی بكير قال حدثنا شعبه عن أبي بكر بن حفص قال۔
متن: ابوبکر بن حفص کہتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علیؓ اور سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سیدنا امیر معاویہؓ کے عہد کے دس سال گزرنے کے بعد فوت ہوئے کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے ہی ان دونوں کو زہر دلوایا تھا۔
( مقاتلُ الطالبين لابی الفرج الاصفہانی (عربی) صحفہ 80 81)
اسناد کا تعاقب: اس روایت میں تین علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی احمد بن عبید اللہ شیعہ ہے اور شیعہ کے اکابرین میں سے ہے۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں یہ شیعہ کے اکابرین میں سے ہے یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ یہ قدریہ فرقہ سے تعلق رکھتا تھا۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 1 صحفہ 180)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی شیعہ اکابرین میں سے ہے یعنی غالی شیعہ ہے۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی عیسیٰ بن مہران یہ شیعہ اور کذاب ہے۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یہ شیعہ اور انتہائی سخت جھوٹا ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس نے موضوع احادیث بیان کی ہیں اور یہ رفض میں جلنے والا شخص ہے امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے خطیبؒ کہتے ہیں یہ شیعوں کےشیاطین اور ان کے مردود لوگوں میں سے ایک ہے اس کی تصانیف میں سے ایک کتاب میرے پاس پہنچی جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن اور ان کی تکفیر کے بارے میں ہے تو اس میں موجود موضوع روایات کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میری ہڈیوں پر کپکپی طاری ہوگئی۔
(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 5 صحفہ 381)
معلوم ہوا یہ راوی بھی کذاب اور شیعہ ہے اس کی روایت سے بھی استدلال جائز نہیں۔
تیسری علت: اس کتاب کا مصنف علی بن حسین ابوالفرج الاصفہانی بھی شیعہ ہے اور اس کو جھوٹا بھی کہا گیا ہے۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یہ الاغانی کتاب کا مصنف ہے اور شیعہ ہے اس نے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں اور ایسی روایات نقل کی ہیں جن کی صفت نہیں بیان کی جاسکتی خطیب بغدادیؒ نے اپنی سند سے شیخ ابو محمد حسن بن حسین کا قول نقل کیا کہ ابو الفرج سب سے بڑا جھوٹا تھا۔
(میزانُ الاعتدال (اردو)، جلد 5 ، صحفه 168)۔
معلوم ہوا کہ ابو الفرج بھی شیعہ اور کذاب ہے اس لئے اس کی کتاب کی کسی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے ہر گز استدلال جائز نہیں۔
چوتھی روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی چوتھی روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
حدثنی احمد بن عبيد الله بن عمار قال حدثنا عيسىٰ بن مہران قال حدثنا عبيد بن الصباح الخزاز قال حدثنی جرير عن مغيره قال۔
متن: مغیرہ کہتے ہیں سیدنا امیر معاویہؓ نے جعدہ کی طرف پیغام بھیجا کہ اگر تم سیدنا حسنؓ کو زہر دے دو گی تو تم کو ایک لاکھ درہم دوں گا اور اپنے بیٹے یزید سے تمہاری شادی کر دوں گا تو ( جعدہ نے) سیدنا حسنؓ کو زہر دے دیا تو (سیدنا امیر معاویہؓ نے) اس کو مال دے دیا لیکن یزید سے اس کی شادی نہیں کروائی۔
( مقاتلُ الطالبین لابی الفرج الاصفهانی (عربی) صحفہ 80)
یہ روایت مؤرخ بلخی نے بھی اسی حوالے سے کتاب البداء والتاریخ (عربی) جلد 2 صحفہ 238 پر نقل کی ہے۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت میں چار علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی عبید بن الصباح ضعیف ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔
امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
امام ابوحاتمؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے (پھر اس کی نقل کردہ منکر روایات میں سے ایک کا ذکر کیا)۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 ، صحفه 56)۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی احمد بن عبیداللہ بن عمار یہ شیعہ ہے اور شیعہ کے اکابرین میں سے ہے اس کا ترجمہ پچھلی روایت کے تعاقب میں گزر چکا ہے۔
تیسری علت: اس روایت کا راوی عیسیٰ بن مہران کذاب اور شیعہ ہے اس کا ترجمہ بھی پچھلی روایت کے تعاقب میں گزر چکا ہے۔
چوتھی علت: اس کتاب مقاتلُ الطالبین کا مصنف علی بن حسین ابوالفرج الاصفہانی بھی شیعہ اور کذاب ہے اس کا ترجمہ بھی سابقہ روایت کے تعاقب میں ملاحظہ فرمائیں۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے استدلال درست نہیں اور اس بارے میں کوئی ایک روایت بھی صحیح سند سے ثابت نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ سیدنا حسنؓ کو زہر سیدنا امیر معاویہؓ نے دلوایا اس لئے سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض کرنا ایک الزام سے زیادہ کچھ نہیں۔
اور اس اعتراض کا رد کرتے ہوئے امام ذھبیؒ فرماتے ہیں
میں (ذھبیؒ) کہتا ہوں یہ بات صحیح نہیں (کہ سیدنا معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ بھی کو زہر دلوایا) اور ابات پر کون مطلع ہوسکا ہے؟ (کہ کس نے ان کو زہر دلوایا)۔
(تاریخ الاسلام للذہبي (عربی) جلد 4 صحفہ 40)
علامہ ابنِ کثیر بھی اس اعتراض کا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
'میرے نزدیک تو یہ بات بھی صحیح نہیں کہ یزید نے سیدنا حسنؓ کو زہر دلوایا اور اس کے والد سیدنا معاویہؓ کے بارے میں یہ کہنا بطریق اولیٰ صحیح نہیں ہے۔
(البدایہ والنہایہ (عربی) جلد 11 صحفہ 209)۔
اس لئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کو زہر دلوایا کسی صورت درست نہیں۔