لیلۃ الہریر
علی محمد الصلابیچوتھے دن کے آغاز یعنی ’’لیلۃ الہریر‘‘ میں پھر جنگ شروع ہوئی، آج کی رات فارسیوں نے لڑائی کا انداز بالکل بدل دیا تھا، جب رستم نے دیکھا کہ اس کی فوج مطاردت میں مسلمان شہ سواروں کا مقابلہ نہیں کر سکتی، بلکہ اس کے قریب بھی جانے کے لائق نہیں ہے تو اس نے پورا ارادہ کر لیا کہ پورے لشکر کو لے کر ایک ساتھ جنگ لڑی جائے تاکہ پچھلے معرکوں کی ان پسپائیوں کا پورا پورا بدلہ لیا جا سکے جو فارسی فوج کی معنوی قوت توڑنے کا اہم سبب بنی تھی۔ چنانچہ بہادر و جانباز مسلمانوں کے میدان جنگ میں نمودار ہونے کے بعد فارسی فوج کا کوئی بھی پہلوان نہ تو مقابلہ کے لیے سامنے آیا اور نہ دشمن کو پیچھے دھکیلنے کے لیے۔ رستم نے اپنی فوج کو تیرہ صفوں میں بانٹ دیا، قلب اور میمنہ و میسرہ متعین کیا، ادھر حضرت قعقاع بن عمروؓ نے جنگ چھیڑ دی۔ دوسرے مرد میدان اور جانباز مجاہدین نے بھی میدان جنگ کو گرما دیا۔ حالانکہ حضرت سعدؓ نے اپنی منصوبہ بندی کے مطابق ابھی تکبیر کا نعرہ نہیں لگایا تھا تاہم آپ نے قعقاعؓ اور ان کے ساتھیوں کو جنگ جاری رکھنے کی اجازت دے دی، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا مانگی۔ پھر جب آپ نے تین تکبیریں کہیں تو جنگ کے تمام افسران اور لشکر کے تمام مجاہدین باقاعدہ جنگ پر اتر آئے۔ یہ تین صفوں میں تھے، پہلی صف میں تیر انداز، دوسری صف میں شہ سوار اور تیسری صف میں پیدل فوج تھی، اس رات کی جنگ کافی بھیانک اور سخت تھی۔ شروع رات سے صبح تک کچاکچ تلواریں چلتی رہیں، دونوں افواج کسی سے بات کرنے کو تیار نہ تھیں، صرف چیخ پکار کی آوازیں فضا میں گونج رہی تھیں۔ اسی لیے اس رات کو ’’لیلۃالہریر‘‘ کہا جاتا ہے۔
(الہریر کے معنی کتے کی آواز جو تکلیف یا سردی کی وجہ سے نکلتی ہے) مسلمان سخت مقابلہ کے اندیشہ کے پیش نظر آپس میں ایک دوسرے کو پامردی اور جنگ میں پوری قوت جھونک دینے کی نصیحت کر رہے تھے۔ ان میں سے بعض کے اقوال تاریخی مصادر میں ملتے ہیں۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 472)
مثلاً درید بن کعب نخعی نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے کہا: آج مسلمانوں نے دشمن کو پست کرنے کا عزم کر لیا ہے، اس لیے آج رات تم جہاد فی سبیل اللہ اور رضائے الہٰی کی طلب میں ان سے آگے بڑھ جاؤ، کہ آج کی رات سبقت لے جانے ہی کے حساب سے اللہ کے یہاں ثواب ملے گا۔ شہادت کی موت مرنے میں ان سے مقابلہ کرو اور شہادت کی موت سے روح کو سکون دو، کیونکہ اگر تم دنیا میں کامیابی کے طالب ہو تو یہی تم کو بری موت سے نجات دینے والی ہے، ورنہ آخرت کا فیصلہ تو تمہاری نیتوں پر ہے۔
اور اشعث بن قیس نے کہا: اے عرب کے لوگو! آج کے دن یہ قوم دشمن موت پر تم سے زیادہ جری نہ ہونے پائے اور نہ تم سے زیادہ دنیا سے بے زار ہونے پائے، آل و اولاد کو لے کر مقابلہ کرو، قتل سے مت گھبراؤ، بے شک شرفاء و پاک باز لوگ ہی اللہ کے راستے میں قتل ہو جانے کی تمنا کرتے ہیں۔ یہ قتل شہادت کی موت ہو گی۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 384)
’’لیلۃ الہریر‘‘ میں قبیلہ جعفی کے بالمقابل فارسی فوج کا ایک مسلح دستہ تھا، انہوں نے اس فارسی فوج پر حملہ کیا تو دیکھا کہ ان کی تلواریں کند پڑ گئی ہیں اور کام نہیں کرتیں تو واپس لوٹنے لگے۔ حمیضہ بن نعمان بارقی نے ان کو آواز دے کر کہا: کیا بات ہے، کیوں واپس ہو رہے ہو؟ لوگوں نے بتایا کہ تلواریں کام نہیں کرتیں۔ حمیضہ نے کہا: ٹھیک ہے، تم جہاں ہو وہیں رہو میں تم کو دکھاتا ہوں، دیکھو، اور پھر ایک فارسی فوجی پر حملہ کر دیا، پلٹ کر اس کے پیچھے گئے اور اس کی پیٹھ پر نیزہ گھونپ دیا، پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: مجھے یقین ہے کہ یہ سب تمہارے ہاتھ سے موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ پھر سب نے مل کر ایک ساتھ حملہ کیا اور انہیں ان کی صف تک دھکیل لے گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 386)
قبیلہ کندہ کے بالمقابل ترک طبری نامی فارس کا ایک فوجی افسر اپنی جماعت کے ساتھ کھڑا تھا، اشعث بن قیس کندی نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے میری قوم کے لوگو! انہیں پیچھے دھکیل دو، انہوں نے سات سو 700 آدمیوں کو لے کر فارسی فوج پر حملہ کر دیا، فوج پیچھے ہٹ گئی اور افسر قتل کر دیا گیا۔ ’’لیلۃ الہریر‘‘ کی جنگ خون ریز تھی، پوری رات جنگ جاری رہی، تمام قبائل کے سردار اپنے شہ سواروں کو صبر و ثابت قدمی کی تلقین کرتے تھے، اس رات کی دل دوز جنگ کی سختی کو انس بن حلیس اس طرح بیان کرتے ہیں: میں ’’لیلۃ الہریر‘‘ میں حاضر ہوا، پوری رات لوہار کے لوہا پیٹنے کی آواز کی طرح صبح تک تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی رہی، وہ لوگ بے انتہا صبر و آزمائش کے مرحلے سے گزر رہے تھے، حضرت سعدؓ نے پوری رات ایسی شب بیداری کی کہ کبھی ایسی رات نہ گزاری تھی، عرب و عجم نے جنگ کا ایک بھیانک منظر اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ رستم اور سعد دونوں کو کچھ نہ معلوم ہوتا تھا کہ فوجیں کس حال میں ہیں۔ سعد، اللہ کی بارگاہ میں دست دعا دراز کیے ہوئے تھے، جب آدھی رات گزر گئی تو قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ شعر پڑھتے سنا:
نحن قتلنا معشرًا وزائدًا
أربعۃ وخمسۃ وواحدًاوزائدًا
’’ہم نے گروہ کے گروہ بلکہ اس سے بھی زیادہ تلوار کے گھاٹ اتار دیے، چار چار، پانچ پانچ اور ایک ایک بھی۔‘‘
نحسب فوق اللبد الأساودا
حتی إذا ماتوا دعوت جاہدا
’’ہم کثیر سے کثیر جمعیت پر بھاری سمجھے جاتے ہیں، چنانچہ میرے حریف جب تک موت کی نیند نہ سو گئے میں برابر انہیں تیغ آزمائی کے لیے للکارتا رہا۔‘‘
اللہ ربی واحترست عامدا
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 386)
’’اس عقیدہ کے ساتھ کہ اللہ میرا رب ہے اور بالقصد میں بچا۔‘‘
حضرت سعدؓ نے ان اشعار سے اسلامی فوج کی فتح مندی کی فال نکالی اور پھر بقیہ رات میں اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعائیں کرتے رہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ حضرت سعدؓ مستجاب الدعوات شخصیتوں میں سے ایک تھے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 9 صفحہ 474)