سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو محبوس رکھنے کا الزام

  کلینی الرازی

صفحہ 2 از 3

حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (1225 ھ) لکھتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ پر یہ الزام کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کو مارا تھا جس سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئیں جھوٹ اور افتراء ہے اور اگر کہیں کوئی تادیب ثابت ہو جائے تو بھی حق سیدنا عثمانؓ کی جانب ہوگا سیدنا عمار بن یاسرؓ نے ایک مرتبہ سیدنا عثمانؓ سے ایسی گفتگو کی جو ان کے لائق نہ تھی تاہم انہیں کچھ نہ کہا البتہ ان کے بعض نوکروں نے جنہیں سیدنا عمارؓ کے مقام و مرتبہ کا علم نہ تھا انہوں نے ان سے گستاخی کی تھی جس کا آپؓ کو علم نہ تھا جیسے ہی یہ بات آپؓ کے علم میں آئی تو آپؓ نے ان سے معذرت فرمائی اور قسم کھا کر فرمایا کہ یہ بات میرے علم میں نہ تھی اور نہ میں نے ایسا کہا تھا آپؓ معافی کے خواستگار ہوئے چنانچہ آپؓ ان سے راضی ہو گئے تھے (سیف مسلول صفحہ 337)۔

علامہ حافظ ابنِ تیمیہؒ (728 ھ) بھی اس قسم کی باتوں کو جھوٹ بتاتے ہیں آپ لکھتے ہیں: 

فهذا كذب باتفاق اهل العلم ( منهاج السنة جلد 6 صفحہ 655)۔

 آپ ایک اور جگہ لکھتے ہیں یہ بڑا ذلیل جھوٹ ہے (المنتقی صفحہ 575 اردو)۔

قاضی ابوبکر بن العربی المالکیؒ (543 ھ) بھی لکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں جھوٹ اور تہمت ہیں ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

واما ضربه لعمارؓ وابن مسعودؓ ومنعه عطاؤه فزور وضربه لعمارؓ افك مثله (العواصم من القواسم صفحہ 78)

 امام شمس الدین ذہبیؒ (748 ھ) لکھتے ہیں:

فهذا من اسمج الكذب المعلوم (المنتقى للذهبی صفحہ 394)۔

 یہ خود تراشیدہ کھلا جھوٹ ہے۔

شیخ حسین محمد بن الحسن الدیار البکری (960ھ) لکھتے ہیں فكله بهتان واختلاق لا يصح منه شئی (تاریخ خميس جلد 2 صفحہ270)۔ 

یہ سب کا سب بہتان اور مٙن گھڑت ہے اس میں کوئی بات صحت تک نہیں پہنچتی(ماخوذ از آثار التنزیل جلد 1صفحہ161)۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ازالۃُ الخلفاء میں سیدنا ابوزرغفاریؓ کا واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی وفات کے بعد مال جمع کرنے کے مسئلہ میں اختلاف ہوا (یعنی کہ مسلمان کو مال اپنے پاس رکھنے کی اجازت ہے یا سب کا سب الله کے راستہ میں خرچ کر دینا چاہئے سیدنا ابوزرؓ کا موقف دوسرا تھا کہ مؤمن کو اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھنا چاہیئے جبکہ دوسرے حضرات کا موقف یہ تھا کہ اس کی اجازت ہے یہ شرعاً منع نہیں تو امیر المؤمنینؓ نے جانب راجح کو جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے سامنے رکھتے ہوئے سیدنا ابوذرؓ کو (اپنے موقف کی تشہیر اور اس پر شدت سے کام لینے سے منع فرمایا مگر جب بات بہت بڑھ گئی تو پھر آپؓ نے انہیں ملک شام سے مدینہ بلالیا اور ربذہ کی جانب روانہ فرما دیا کہ آپ وہاں رہیں اس فعل میں کونسی نامناسب بات وقوع میں آئی اجتماعی مسئلہ وہی ہے جس سے سیدنا ذی النورینؓ نے تمسک فرمایا سیدنا ابوذرؓ کہتے ہیں کہ جب ہمارے درمیان اختلاف ہوا تو سیدنا عثمانؓ نے مجھے لکھا کہ مدینہ آجاؤ تو میں مدینہ آگیا آپؓ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو تنہائی اختیار کرو (مقام ربذہ میں چلے جاؤ اس طرح مدینہ سے قریب بھی رہو گے اس طرح میں آگیا اگر وہ مجھ پر ایک حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیں تو میں اس کی بات سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا (ازالۃ جلد 5 صفحہ 345)۔ 

چنانچہ سیدنا ابوزرؓ خوشی سے وہاں تشریف لے گئے کہ دنیاوی بکھیڑوں سے یہ تنہائی اچھی ہے سیدنا عثمانؓ نے آپؓ کے لئے وہاں ایک مسجد بنائی اونٹ اور غلام بھیجے اور ان کے لئے کھانے پینے کا بھی بندوبست کیا تھا۔

 وبنى بها مسجدا واقطعه عثمان صرمة من الابل واعطاه مملوكين واجرى عليه كل يوم عطاء (تاریخ ابنِ الاثیر جلد 3 صفحہ 115)۔

 ملاباقر مجلسی شیعی کا بیان ہے کہ سیدنا عثمانؓ یہ سب سے اپنے ذاتی مال سے بھیجا کرتے تھے (بحار الانوار جلد 22 صفحہ 398)۔

 شیعه عالم ملاباقر مجلسی نے بحارُ الانوار اور حیاتُ القلوب میں نیز مؤرخ مسعودی شیعی نے مروجُ الذہب اور دوسرے شیعہ علماء نے بھی سیدنا ابوذر غفاریؓ کی درویشانہ اور زاہدانہ زندگی اور آپؓ کے اس بارے میں سخت موقف کو تفصیل سے لکھا ہے اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عثمانؓ اور حضرت سیدنا ابوزرؓ میں کسی قسم کی کوئی ذاتی رنجش اور دشمنی نہ تھی آپؓ مال و دولت کے متعلق ایک سخت موقف رکھتے تھے اور اس کی سر عام تبلیغ کرتے تھے اس باب میں چونکہ دوسرے موقف کی تردید ہوتی تھی اس لئے سیدنا عثمانؓ نے انہیں اس سختی سے روک دیا تاہم ان کے ساتھ حُسن سلوک اور احسان و مروت میں کوئی کمی نہ آنے دی اگر ان سے کبھی کسی نے سیدنا عثمانؓ کے خلاف کوئی بات کہلوانے کی کوشش کی اور چاہا کہ ان کے نام پر سیدنا عثمانؓ کو بدنام کیا جائے تو آپؓ اس کے لئے ہرگز تیار نہ ہوئے آپؓ نے ان کو سخت جواب دیا تھا ایک موقع پر عراقیوں کے ایک گروہ نے چاہا کہ آپؓ کے نام پر سیدنا عثمانؓ کے خلاف تحریک اٹھائی جائے تو آپ نے فرمایا:  

يا اهل الاسلام لا تعرضوا على ذاكم ولا تذلوا السلطان فانه من اذل السلطان فلا توبة له والله لوان عثمانؓ صلبنی على اطول خشبة او اطول جبل لسمعت واطعت وصبرت واحتسبت ورئيت ان ذاك خير لی ولو سيرنی مابين الافق الى الافق اوقال مابين المشرق والمغرب لسمعت واطعت وصبرت واحتسبت ورئيت ان ذاك خير لی ولو ردنی الى منزلى لسمعت واطعت وصبرت و احتسبت ورایت ان ذاك خير لی (طبقات ابنِ سعد جلد 4،صفحہ171)۔

صفحہ 2 از 3