سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو محبوس رکھنے کا الزام

  کلینی الرازی

صفحہ 3 از 3

اے مسلمانوں میرے سامنے اس طرح کی بات نہ کرو اور نہ ہی مسلمان خلیفہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کرو جس نے خلیفہ کو ذلیل کیا اس کی توبہ اللہ کے حضور قبول نہیں الله کی قسم اگر سیدنا عثمانؓ مجھے ایک لمبی لکڑی پر لٹکا دیں یا اونچے پہاڑ سے  گرا دیں مجھے دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے بھیج دیں مشرق سے مغرب بھیج دیں تو بھی میں ان کی بات سنوں گا ان کی بات مانوں گا ان کے حکم اور فیصلہ کو تسلیم کروں گا اور میں یہی سمجھوں گا کہ میرے لئے یہی بہتر تھا جو سیدنا عثمانؓ نے کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ سیدنا عثمانؓ کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور ان کے بارے میں کسی قسم کی بات سننے کے روادار نہ تھے اسی طرح سیدنا عثمانؓ کے دل میں بھی آپؓ کے لئے کوئی بوجھ نہ تھا آپؓ انہیں زاہدِ امت سمجھتے تھے اور ان کی درویشانہ اور زاہدانہ زندگی کے قدر داں تھے اگر آپؓ ان کے بارے میں ذرہ بھی بوجھ رکھتے تو ان کی وفات کے  بعد آپؓ ان کی اولادوں کے ساتھ کبھی حُسن سلوک نہ فرماتے جب سیدنا عثمانؓ کو سیدنا ابوذرؓ کی وفات کی خبر ملی تو آپؓ نے ان کے لئے دعائے رحمت و مغفرت فرمائی اور خود ربذہ تشریف لے گئے اور ان کے اہلُ و عیال کو لے کر آئے اور اپنے پاس رکھا اور ان سے بہترین سلوک فرمایا تھا:

فقال يرحم الله أبا ذرؓ ويغفر له نزوله الربذة ولما صدر خرج فأخذ طريق الربذة فضم عياله الى عياله وتوجه نحو المدينة (تاریخ طبرى جلد 5 صفحہ 314)۔ 

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ بھی سیدنا عثمانؓ کے اختلافات رہے مگر آپؓ نے کبھی سیدنا عثمانؓ کے خلاف کوئی ایسی بات نہ کی جس سے ان کی ذات یا ان کی خلافت زیر بحث آتی ہو آپؓ ان ختلافات کے باوجود ان کا ادب و احترام کرتے تھے کوفہ کے کچھ لوگوں نے چاہا کہ اس اختلاف سے فائدہ اٹھایا جائے اور سیدنا عثمانؓ کو بدنام کیا جائے وہ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ ہمیں پتہ چلا کہ آپؓ کو سیدنا عثمانؓ نے مدینہ بلایا ہے آپؓ نہ جائیں یہیں رہیں فکر نہ کریں ہم آپؓ کے ساتھ ہیں ہم آپؓ کا دفاع کریں گے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ سن کر کہا:

ان له على حق الطاعة وانها ستكون امور وفتن فلا احب ان اكون اول من فتحها فرد الناس وخرج اليه (اسدُ الغابة جلد 1 صفحہ387)۔

مجھ پر سیدنا عثمانؓ کی بات ماننی لازم ہے اور عنقریب بہت سے فتنے اور اختلافات اٹھیں گے میں نہیں چاہتا کہ میں ان اختلافات کا بانی ہو جاؤں آپؓ نے ان کی بات نہ مانی اور سیدنا عثمانؓ کے پاس مدینہ آگئے اب آپؓ کے پہلے کے جو بھی اختلافات رہے وہ سب ختم ہوگئے تھے اگر ان میں سے کوئی ایک اختلاف بھی ان کے درمیان وجہ بعد ہوتا تو آپ ہی انصاف کریں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ آپؓ کے بلانے پر کبھی مدینہ تشریف لاتے؟ نہیں سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کے مرضُ الوفات میں سیدنا عثمانؓ آپؓ کی عیادت کو آتے رہے ایک مرتبہ آپؓ نے پوچھا کیا تکلیف ہے کہا کہ میرے گناہ پوچھا کیا چاہتے ہیں کہا اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں پھر آپؓ نے کہا کہ اگر آپؓ کو کچھ چاہئے تو بھجوا دوں کہا کہ مجھے اب اس کی ضرورت نہیں سیدنا عثمانؓ نے فرمایا کہ آپؓ کی صاحبزادیوں کے کام آئے گا سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا میں نے اپنی بچیوں کو سورہ واقعہ سکھا دیا ہے اور اس کے پڑھتے رہنے کی تاکید کی ہے کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ جس نے رات کو سورہ واقعہ کی تلاوت کا معمول بنالیا الله اسے فقر و فاقہ کی آفت سے بچائے گا (اسد الغابۃ جلد3 صفحہ387)۔

تاہم سیدنا عثمانؓ کے اصرار پر آپؓ نے سیدنا زبیرؓ کو یہ وصیت فرمائی تھی کہ سیدنا عثمانؓ سے میرا سالانہ وظیفہ لے آنا چنانچہ سیدنا زبیرؓ وصیت کے مطابق سیدنا عثمانؓ کے پاس آئے اور سیدنا عثمانؓ نے ان کے بال بچوں کے لئے ان کا جمع شدہ سارا وظیفہ دے دیا جو تقریبا بیس پچیس ہزار درہم تھا (طبقات ابنِ سعد جلد 3 صفحہ 119)۔

اور سیدنا زبیرؓ نے وہ رقم ان کے ورثاء تک پہنچا دی تھی (اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 387)۔ 

سو اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ آخر دم تک سیدنا عثمانؓ کو تمام مسلمانوں سے افضل و برتر سمجھتے تھے اور کبھی ان کے ادب و احترام میں پیچھے نہ رہے اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عثمانؓ پر یہ الزام کہ آپؓ نے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو محبوس رکھا تھا اور ان کے ساتھ زیادتی کی تھی بالکل جھوٹ ہے۔


صفحہ 3 از 3