سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے خائن لوگوں کو بڑے عہدے دیے…

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے خائن لوگوں کو بڑے عہدے دیے تھے؟

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: میں نے تمہیں اپنی امانت میں شریک کیا میں نے تجھے اپنا اوڑھنا بچھؤنا بنایا میں نے تمہیں میرے اہلُ و عیال میں غم خواری رفاقت اور امانت داری میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھا لیکن جب تم نے میرا برا وقت دیکھا اور دشمن کو مادہ پیکار پایا اور لوگوں کی امانت داری خیانت میں بدل گئی اور یہ امت خون ریزی میں ڈوب گئی تو تم منہ پھاڑ کر رہ گے اور عین غم کے وقت تو اس کو دھوکہ دے گیا اور دوسروں کی طرح تم نے بھی اسے چھوڑ دیا تو بھی خیانت کرنے والوں کا خیانت میں ساتھی بن گیا گویا تو مکرو فریب سے دنیا کمانا چاہتا ہے اور دھوکہ سے امت کے خزانے اڑانے کے چکر میں ہے جب حالات نے تجھے خیانت کا موقع دیا تھا تو اس پر جھپٹ پڑا اور بےصبر ہو کر ان کا مال جس قدر لے سکتا تھا لے بیٹھا یہ وہ مال تھا جو امت کی بیواؤں اور یتیموں کے لیے محفوظ رکھا گیا تھا جس طرح بدحال بھیڑیا خون آلود ہڈی ٹوٹی ہوئی بکری کو لے بھاگتا ہے اب تم وہ مال سمیٹ کر حجاز کو نکل گیا اور اسے یوں اٹھائے ہوئے ہیں گویا اس کے لینے میں تو نے کوئی گناہ نہیں کیا تیرا باپ مرے گویا وہ تیرا جوڑا ہوا مال تھا یا تجھے اپنے ماں باپ کا کوئی ورثہ ملا تھا کیا تو آخرت سے بے خوف ہوگیا ہے اور حساب لکھنے والے فرشتوں کا تجھے کوئی خوف نہیں رہا تو تو میرے نزدیک عقلمند تھا تیرے حلق سے کس طرح لقمہ اترتا ہے جب کہ تو جانتا ہے کہ حرام کھا رہا ہے اور حرام پی رہا ہے یتیموں مسکینوں مومنوں مجاہدین کو الله نے جو مال دیا تھا اور جن کی خاطر اس نے ان شہروں کو سرسبز کیا تھا اس مال سے تو لونڈیاں خرید رہا ہے عورتوں سے شادیاں رچا رہا ہے الله سے ڈر اور حق داروں کا مال واپس لوٹا۔

 نہجُ البلاغہ میں موجود سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ آپؓ نے جنہیں عہدہ دیا تھا انہوں نے پھر آپؓ سے کوئی وفا کی نہ مسلمانوں کا کوئی لحاظ کیا سیدنا علی المرتضیٰؓ کے بقول بیتُ المال کو انہوں نے اپنی ذاتی جائیداد سمجھا اور مسلمانوں کے مال میں خیانت کا ارتقاب کرنے میں کوئی شرم محسوس نہ کی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب ہم سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اس کا مجرم سمجھیں کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو کس طرح عہدہ دیا جس نے مسلمانوں کے مال سے اس طرح کھلواڑ کیا تھا؟ شیعہ علماء ہمیں یہ جواب دے کر مطمئن کرنے کی کوشش نہ کریں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اس کا پتہ اس وقت چلا جب انہوں نے ایسے کام کیے تھے اگر انہیں پہلے سے اس بات کا علم ہوتا تو اپ ایسے لوگوں کو کبھی عہدہ نہ دیتے عرض ہے کہ یہ بات اہلِ سنت تو کہہ سکتے ہیں شیعہ علماء نہیں کیونکہ ان کے عقیدہ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ علم غیب رکھتے تھے اور "ماکان و مایکون" سےپوری طرح با خبر تھے (اس عقیدہ پر ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں) سیدنا علی المرتضیٰؓ نے یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایسا کریں گے اور وہ مسلمانوں کے مال میں خیانت کریں گے انہیں عہدہ دیا اب صرف آپ کا عہدے دار مجرم نہیں اس عطا سے خود سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ذات بھی نشانہ میں آجاتی ہے۔

 جو دوست یہ سمجھتے ہیں کہ آپؓ کا یہ خط پہلے دور کے خلیفہ کے کسی عامل کے نام تھا آپؓ کے عامل ایسے نہ تھے انہیں چاہیے کہ وہ نہجُ البلاغہ میں اس خط کا عنوان ہی ملاحظہ کر لیں "ومن کتاب له علیہ السلام الی بعض عماله" نہجُ البلاغہ کے معروف شارح سید علی نقی اس پر لکھتے ہیں۔ 

ازنامہ ہائے آنحضرت علیہ السلام است ہیکےازکار قدر کہ اور ابر اثر پیمان شکنی و خورون از بیت المال سرزنش نمودہ است (نہج البلاغۃ صفحہ 949)۔

ترجمہ: یہ صرف ایک خط اور عہدیدار کی بات نہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دیگر عمال بھی اس قسم کی خیانت اور زیادتیوں میں ملوث ہوئے ہیں اور آپؓ نے ان کی سرزنش بھی کی تھی منزر بن جاردو کی جب خیانت اور چوری ظاہر ہوئی تو آپ نے انہیں بھی ایک خط لکھا تھا (دیکھیے تحفہ صفحہ 593)۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ نے تو اس شخص کو بھی عہدہ دیا تھا جو شیعہ عقیدے اور بیانات کے مطابق ولدُ الزنا تھا آپؓ نے اس سے بھی امیر بنا دیا اور ایک فاسد کے پیچھے لوگوں کو نماز پڑھنے اور خطبات جمعہ سننے پر مجبور کر رکھا تھا فارس وشیراز کا گورنر ابن زیاد کو کیا سیدنا عثمانِ غنیؓ نے مقرر کیا تھا؟ شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) لکھتے ہیں:

اگر یہ کہا جائے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے عُمال نے سیدنا عثمانِ غنیؓ کے عُمال کی بانسبت زیادہ خیانتیں کیں اور ان کی نافرمانیاں کیں ہیں تو غلط نہ ہوگا اور لوگوں نے اس پر کتابیں لکھیں اور بتایا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جن کو عہدے دیے تھے انہوں نے کس طرح آپؓ کی نافرمانی کی اور وہ خیانتوں کے مرتکب ہوئے اور کون کون انہیں چھوڑ کر کاتبِ قرآن سیدنا معاویہؓ سے جا ملے؟

ان يقال نواب على خانوه و عصوه أكثر مما خان عمال عثمانؓ له وعصوه وقد صنف الناس كتبا فيمن ولاہ على فاخذ المال وخانه وفیمن تركه وذهب إلى معاويةؓ وقد ولى علىؓ زياد بن ابی سفیان ابا عبيد الله بن زياد قاتل الحسينؓ وولى الأشتر النخعی وولی محمد بن ابی بکر وامثال هولاء (منہاج السنۃ جلد6 صفحہ 184)۔

ترجمہ: ان حقائق کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص سیدنا عثمانِ غنیؓ کو نشانہ طعن بناتا ہے اور آپؓ کے متعلق بدزبانی کرتا ہے تو اس کا زہر براہِ راست سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ذاتِ گرامی قدر پر گرتا ہے معلوم نہیں شیعہ علماء کو بار بار سیدنا علی المرتضیٰؓ کو ہدف تنقید بنانے میں کیا لذت ملتی ہے۔ (استغفر اللّٰه العظیم)


صفحہ 2 از 2