سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب کو نوازا تھا -…

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب کو نوازا تھا

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 1 از 2

سیدنا عثمانِ غنیؓ نے اپنے اقارب کو نوازا تھا

 سیدنا عثمانِ غنیؓ جب خلیفہ بنے تو آپ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بڑے بڑے عہدے دئیے تھے اور ان کے لئے خزانے کے منہ کھول دئیے تھے؟۔

 الجواب:

سیدنا عثمانؓ نے اپنے جن اقارب اور اعزہ کو عہدے دئیے ہم اس کی وضاحت پہلے کر آۓ ہیں اتنی بڑی اسلامی سلطنت میں آپ نے اگر اپنے خاندان کے لوگوں کو عہدے دئیے بھی تو ان کی تعداد صرف چار تھی اور انہیں بھی خاندانی رشتہ کی بناء پر نہیں بلکہ ان کی اعلیٰ قابلیت اور مدبرانہ صلاحیت کی بناء پر انہیں ان عہدوں پر فائز کیا تھا اور تاریخ نے گواہی دی ہے کہ انھوں نے اعلیٰ کارکردگی دکھائی تھی۔

 سیدنا عثمانؓ کو محض اس بناء پر نشانہ طعن بنانا کہ لاکھوں مربع میل پر پھیلی ہوئی اسلامی ریاست میں انہوں نے اپنے خاندان کے چار پانچ افراد کو عہدے دئیے تھے تو کیا یہی اعتراض اور طعن سیدنا علی المرتضیٰؓ پر عائد نہیں ہوتا کہ انہوں نے اپنے دور خلافت میں شام کے علاؤہ تمام صوبوں میں اپنے رشتہ داروں کو مناصب اور عہدے دے رکھے تھے شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) لکھتے ہیں:

 ومعلوم ان علياؓ ولي اقاربہ من قبل ابيه وامه كعبدالله بن عباسؓ وعبيدالله بن عباسؓ قولى عبیداللهؓ على اليمن وولى علىؓ مكة والطائف قشم ابن العباسؓ واما المدينة فقيل انه ولي عليها سهل بن حنيفؓ وقيل ثمامة ابن العباسؓ واما البصرة فولى عليها عبدالله بن عباسؓ وولی علىؓ مصر ربيبة محمد بن ابي بكر الذى رباه فى حجره۔ (منهاج السنتہ جلد 6 صفحہ 184)۔ 

قاضی ابوبکر بن العربی المالکیؒ (543ھ) لکھتے ہیں:

 كذلك فعل علىؓ بن ابی طالب لما ولى الخلافة فكان من ولاته عبدالله بن عباسّ وقثم بن عباسؓ وثماة بن عباسؓ الخ (العواصم صفحہ110 حاشیہ)۔

پوچھا جاسکتا ہے کہ یمن میں سیدنا عبیداللہ بن عباسؓ کو (تاریخ خلیفہ جلد 1 صفحہ 184)۔

پھر انہیں 36 ھ اور 37 ھ میں حج کا امیر بھی بنایا (ایضاََ) مکہ مکرمہ میں معبد بن عباسؓ کو (الاصابہ جلد 3صفحہ 457) اور سیدنا قثم بن عباسؓ کو (تاریخِ خلیفہ جلد 1 صفحہ 185)۔

 مدینہ میں سیدنا سہل بن حنیفہؓ کو معزول فرمایا اور ان کی جگہ اپنے چچا زاد بھائی سیدنا تمام بن عباسؓ کو والی بنایا (ایضاََ صفحہ185)۔

بصرہ کے علاقہ پر سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کو والی بنایا

(ایضاََ صفحہ 186)۔

 خراسان میں اپنے بھانجے اور داماد سیدنا جعد بن ھبیرہؓ

(تاریخِ طبری جلد 6 صفحہ 53)۔

 مصر پر اپنے سوتیلے بیٹے سیدنا محمد ابی بکرؓ کو (تاریخ خلیفہ صفحہ 186) اور فوج کے سربرا اپنے بیٹے سیدنا محمد بن حنیفہؓ کو کس نے مقرر کیا تھا؟۔

(شیعہ مؤرخ احمد بن ابو یعقوب بن جعفر (258ھ) نے بھی اس کا ذکر کیا ہے (دیکھئیے تاریخِ یعقوبی جلد 2 صفحہ179). 

کیا یہ سب کے سب سیدنا علی المرتضیٰؓ کے قریبی رشتہ دار نہ تھے۔

 علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی (817ھ) لکھتے ہیں:

 ووجدنا علياؓ عنه اذ ولى استعمل اقاربه عبدالله بن عباسؓ على البصرة وعبيدالله بن عباسؓ على اليمن و قثمؓ و معبه بنى عباس على مكة و المدينة وجعدة بن هبيرةؓ وهو ابن اخته أم هانیؓ بنت أبی طالب على خراسان وأمر بيعة الناس للحسنؓ ابنه بالخلافة بعده (القضاب المشتہر علی رقاب ابنِ المطہر صفحہ 51)۔ 

 آپؓ کے اپنے مشیروں میں اشترنخعی جیسے فتنہ پرواز جیسے لوگ تھے جنہیں آپؓ نے بعد میں مصر کا گورنر بھی بنایا تھا اب اگر کوئی اس پر یہ کہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بڑے بڑے عہدے دیے اور سلطنت کے پورے در و بست پر اس کا اثر و نفوز قائم ہوگیا اس طرح عملاً ایک ہی خاندان کے ہاتھ میں سارے اختیارات جمع ہو گئے (خلافت و ملوکیت صفحہ 108)۔

 حالانکہ اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک اچھی خاصی موجود تھی تو آپؓ کے پاس اس کا جواب ہو سکتا ہے؟۔

 اشترنخعی جسے آپ نے اپنا مشیر بنایا ہوا تھا اور وہ آپ کا بڑا خیر خواہ بھی تھا اس نے جب سیدنا حضرت علی المرتضیؓ کے اقرباء پروری کا یہ نقشہ دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور اس نے کہا کہ اگر یہی سب کچھ ہونا تھا تو ہم نے خوامخواہ شیخ (یعنی سیدنا عثمانؓ جیسے بوڑھے شخص) کو قتل کیا (العواصم صفحہ 119 خلافت و ملوکیت کی حیثیت صفحہ 258حاشیہ)۔

 علی ماقتلنا الشیخ اذن پھر ہم نے اس بڑے میاں کو کیوں قتل کیا تھا (سی سالہ خلافت راشدہ صفحہ 485)۔

 استاد العلماء حضرت مولانا محمد نافع صاحب مدظلہ اس پر لکھتے ہیں:

حقیقت یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے وقتی تقاضوں کے تحت اقرباء کو شامل حکومت کیا تھا ٹھیک اسی طرح سیدنا عثمانؓ نے بھی عصری تقاضوں کے پیش نظر بعض اقرباء کو مناصب دئیے یہ دونوں دور اس مسئلہ میں قابل طعن اور لائق اعتراض نہیں ہے لیکن امیرالمؤمنین سیدنا علی المرتضیؓ کے دور کو اقربا پروری سے بچانا اور سیدنا عثمانؓ کے دور کو اس میں ملوث و مطعون کرنا خالص جانبداری اور گروہی تعصب ہے جس سے قبائلی عصبیت نمایاں ہوتی ہے اور قوم میں باہمی منافرت و اختلاف کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں اس سے اہلِ اسلام کو بچانے کی ضرورت ہے (رحماءُ بینھم صفحہ 334)۔

صفحہ 1 از 2