سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب کو نوازا تھا -…

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب کو نوازا تھا

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 2

رہی یہ بات کہ آپؓ نے اپنے اقرباء کو بہت مال و دولت سے نوازا تھا تو عرض یہ ہے کہ آپؓ نے یہ سب کچھ اپنے ذاتی مال میں سے دیا تھا یا مسلمانوں کے مال سے؟ اگر آپؓ اپنے ذاتی مال سے اپنے اقرباء اور اعزہ کے ساتھ صلہ رحمی کرتے تھے اور ان کی مدد فرماتے تھے تو انہوں نے شرعاً کون سا جرم کیا تھا؟ کیا اسلام حکم نہیں دیتا کہ اپنے قرابت داروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو ان کے حقوق کی فکر اور خیال کرو؟ سیدنا عثمانؓ نے اگر ان حقوق کی پاسداری کی تو انہوں نے قرآن پر عمل کیا قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے والا بھی کیا مجرم ہوتا ہے؟ سیدنا عثمانؓ شروع سے غنی تھے آپؓ نے تو اسلام کی ابتدائی دور میں بھی مسلمانوں کی ضرورتیں پوری کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا پائی تھی آپؓ کی دولت اور سخاوت کا چرچہ تو شروع دن سے رہا تھا اور رضائے الہٰی میں مال خرچ کرنا ہمیشہ سے آپؓ کا شیوہ رہا ہے آپؓ کا مال ہمیشہ سب مسلمانوں کے کام آتا رہا ہے آپؓ چاہتے تھے کہ ذیادہ سے ذیادہ آپں کے پاس مال ہو اور پھر آپؓ اسے سب میں تقسیم کرتے رہیں آپؓ نے اگر اپنے بیٹے اور بیٹی کی شادی میں انہیں ایک بڑی رقم دی تو یہ ان کی اپنی رقم تھی مسلمانوں کے مال سے نہ تھی سو آپؓ کا اپنے اقارب اور خاندان کے ساتھ یہ حسنِ سلوک لائقِ تحسین ہے نہ کہ لائقِ اعتراض سیدنا سالم بن جعدؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمانؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بُلایا سیدنا عمار بن یاسرؓ بھی ان کے ساتھ تھے آپ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بتاؤ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضورﷺ قریش کو باقی سب لوگوں پر فوقیت دیتے تھے اور بنی ہاشم کو باقی تمام قریش پر چنانچہ سب خاموش رہے پھر سیدنا عثمانؓ نے فرمایا اگر میرے پاس بہشت کی کُنجیاں ہوں تو میں اسے اپنے خاندان کو دے دوں تاکہ وہ سب اس میں داخل ہو جائیں۔

اتعلمون ان رسول اللہﷺ کان یوثر قریشا علی سائر العرب ویوثر بنی ہاشم علی سائر قریش؟ فسکت القوم فقال عثمانؓ لو ان بیدی مفاتيح الجنة لاعطیتھا بنی امیة حتیٰ یدخلوا من عند آخرھم (مختصر تاریخِ دمشق لابنِ عساکر جلد 16 صفحہ 174)۔  

البتہ جو لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے آپؓ نے اقارب کو بیتُ المال سے بہت کچھ دیا تھا جس کا انہیں حق نہ تھا تو عرض یہ ہے کہ ان کی یہ بات درست نہیں کہ آپؓ نے بیتُ المال سے اپنے خاندان کو نوازا تھا سچ یہ ہے کہ آپ انہیں اپنے مال سے دیتے تھے اور یہ دینا کوئی گناہ نہیں تھا خود آپؓ نے بھی اس کی وضاحت کر دی تھی آپؓ نے فرمایا:

قالوا انی احب اھل بيتي و اعطيهم فاما حبی فانه لم یمل معھم علی جور بل احمل الحقوق عليهم واما اعطاؤهم فانى ما اعطيهم من مالى ولا استحل اموال المسلمين لنفسي ولا الأحد من الناس ولقد كنت اعطى العطية البيرة الرغيبة من صلب مالى في زمان رسول الله ﷺ وابى بكرؓ و عمرؓ (تاریخِ طبری جلد 3 صفحہ 103)۔ 

ترجمہ: لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں سے محبت کرتا ہوں اور انہیں بہت دیتا ہوں تم جان لو کہ میری ان کے ساتھ محبت مجھے کسی قسم کے ظلم و زیادتی پر نہیں مائل کرتی میں تو ان کی اس محبت کو ان کے حقوق کے ادا کرنے پر استعمال کرتا ہو جہاں تک ان کی امداد کا تعلق ہے تو یہ میں اپنے مال سے انہیں دیتا ہوں میں بیتُ المال کا مال اپنے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے اس طرح ناجائز طور پر حلال کرنے والا ہوں میں تو رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی اپنے ذاتی مال سے بڑے بڑے قیمتی عطایاجات دیتا چلا آرہا ہوں اور سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے زمانے میں بھی میرا یہی معمول رہا ہے۔

 آپؓ نے ایک مرتبہ فرمایا

اما والله ما أكله من مال المسلمين وانى أكله من مالی (ایضاً صفحہ 136)۔ 

ترجمہ: بخدا میں مسلمانوں کے مالوں سے نہیں میں تو اپنے ذاتی مال سے کھاتا ہوں۔

ان حقائق کے باوجود بھی اگر کوئی آپؓ پر الزام تراشی سے باز نہ آئے تو انہیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ(1239ھ) لکھتے ہیں:

سیدنا عثمانؓ کے داد و دہش اور بخشش و عطا کو بیتُ المال سے بتانا اور پھر اس کی بناء پر آپؓ پر اعتراض کرنا سراسر افتراء بہتان اور صریح جھوٹ ہے آپؓ کا لقب غنی خلافت کا مرہون منت تو نہیں ہے (معترضین کا حال یہ ہے کہ) صحیح معاملہ کی تفتیش سے انہیں چڑ ہے اِفترا اور جھوٹ ان کے لیے شیر مادر ہے اسی لیے یہ جو کہتے ہیں جھوٹ نکلتا ہے (تحفہ اثنا عشریہ صفحہ602) ۔

 اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عثمانؓ پر اقرباء پروری اور ان کو عزیز ہونے کی بناء پر بڑے بڑے عہدے دینے کا الزام کوئی وزن نہیں رکھتا اگر اس الزام پر سیدنا عثمانِ غنیؓ لائق تنقید ہیں تو پھر سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی اس کی زد میں آتے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی الزام پر سیدنا عثمانِ غنیؓ کو تو مجرم قرار دیں اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اس سے بری کر دیں لینے اور دینے کے پیمانے اگر ایک نہ ہوں تو پھر یہ انصاف نہیں ظلم ہے۔


صفحہ 2 از 2