سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو عہدہ دینے پر اعتراض کا…

سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو عہدہ دینے پر اعتراض کا جواب

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 2

سوال: یہ ہے کہ کیا قاضی شریح سیدنا علی المرتضیٰؓ کے مقابلے میں یہودی کو سچا سمجھتے تھے؟ نہیں آپؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بات اس لئے مسترد کردی کہ آپؓ قانونی تقاضے پورے نہ کر پائے تھے ٹھیک اسی طرح سیدنا عثمانِ غنیؓ کو معلوم تھا اور اس کے قرائن بھی موجود تھے کہ کوفہ کے سازشی سیدنا ولیدؓ کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں اس لئے وہ یہ جھوٹ بنا لائے مگر چونکہ وہ قانونی تقاضے پورے کر رہے تھے آپؓ نے ان کو معزول کردیا اور ان پر سزا بھی نافذ کی۔

رہی یہ بات کہ آپؓ نے ان پر حد جاری کرنے میں کیوں توقف کیا تھا تو عرض یہ ہے کہ آپؓ کا توقف کرنا اس لئے نہیں تھا کہ آپؓ انہیں بچانا چاہتے تھے بلکہ حقیقتِ حال معلوم کرنے کی غرض سے توقف فرمایا کہ اگر وہ مجرم نہ ہوں تو ایک بے گناہ پر سزا کیوں جاری کی جائے ہاں جب گواہی دی گئی تو آپؓ نے پھر سزا نافذ کرنے میں کوئی توقف نہ کیا اور ان پر حد لگائی گئی شیخُ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ (728ھ) لکھتے ہیں جو شخص معزول ہونے کا مستحق ہوتا آپؓ اسے ضرور معزول کر دیتے اور جو سزا کا مستحق ہوتا اس پر سزا بھی جاری کرتے تھے اس میں آپ کسی کی کوئی رعایت نہ کرتے تھے۔

 وكان يعزل من يراه مستحقا للعزل ويقيم الحد على من يراه مستحقا لإقامة الحد عليه (منہاجُ السنہ جلد 6 صفحہ 241)۔ 

جن لوگوں نے سیدنا ولیدؓ کے خلاف گواہی دی انہوں نے کیا کہا؟ ان کا بیان یہ تھا کہ سیدنا ولید بن عقبہؓ نے شراب پی اور حالت نشہ میں نماز کی امامت کی اہلِ کوفہ نے فجر کی دو رکعت کے بجائے چار رکعات پڑھیں پھر آپؓ ان کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا کیا میں نے نماز زیادہ پڑھا دی ہے۔

یہاں چند سوالات حل طلب ہیں سیدنا ولیدؓ جب نماز کی امامت کے لئے آئے تو ان میں سے کسی کو پتہ نہ چلا کہ وہ شراب پئے ہوئے ہیں؟ موجودہ دور میں شراب نے گو کتنی ہی مشینی ترقی کیوں نہ کر لی ہو آس پاس اس کی بدبو پہنچ جاتی ہے مگر حیرت ہے ان میں سے کسی کو بھی یہ پتہ نہ چلا کہ آپؓ شراب پی کر آرہے ہیں آپؓ اس قدر نشہ میں تھے کہ دو اور چار میں تمیز تک نہ کر سکے اور نماز فجر بڑے اطمینان کے ساتھ دو کے بجائے چار پڑھالی معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کے سب مقتدی بھی اسی حال سے دو چار تھے کہ ان میں سے کسی نے بھی تیسری رکعت پر سبحان اللہ نہ کہا اور امام کے ساتھ وہ بھی خوشی خوشی دو کے بجائے چار رکعات پڑھنے لگے نیز یہ بات بھی کہیں نہیں ملتی کہ سیدنا ولیدؓ نے دوبارہ فجر کی دو رکعت پڑھائی یا انہیں گھر بھیج دیا گیا اور کسی دوسرے نے نماز فجر کی دوبارہ امامت کرائی تھی دن کے شروع حصے میں یہ واقعہ پیش آجائے اور تاریخ اس کی تفصیل پیش کرنے سے قاصر ہو تو پتہ چلتا ہے کہ آپؓ پر شراب نوشی کا صرف الزام تھا حقیقت نہیں۔ 

سیدنا عثمانِ غنیؓ نے معاملے کی نزاکت کے پیشِ نظر آپؓ کو معزول کردیا اور جب دونوں فریق آپؓ کے پاس آئے تو آپؓ نے الزام لگانے والوں سے پوچھا:

اتشهد انكما رايتماه يشرب فقالا لا قال فكيف قالا اعتصرنا من لحيته وهو يقىء الخمر (ابنِ اثير جلد 3 صفحہ 106)۔

کیا تم دونوں نے انہیں شراب پیتے دیکھا ہے انہوں نے کہا نہیں آپؓ نے پوچھا کے تم نے ان پر یہ الزام کیوں لگایا؟ کہنے لگے ہم نے اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے نچوڑے ہیں اور اس نے شراب کی قے بھی کی۔

مؤرخ طبری نے بھی یہ بات نقل کی ہے کہ ان دونوں نے کہا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں شراب پیتے نہیں دیکھا ہے تاہم وہ بڑے ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں غلط گواہی میں ہم پکڑے نہ جائیں (طبری جلد 5 صفحہ 60)۔

پورے اہلِ کوفہ میں سے یہ دو شخص تھے جنہوں نے آپؓ کے خلاف گواہی دی چونکہ گواہی کا اصول پورا ہورہا تھا اس لئے آپؓ کے پاس سوائے اس کے اور کوئی راہ نہ تھی کہ انہیں بےگناہ سمجھنے کے باوجود ان پر حد جاری کریں اس سے آپؓ خود اندازہ کر لیں کہ سیدنا ولید بن عقبہؓ پر لگایا گیا الزام کس قدر درست ہوسکتا ہے؟۔

معروف مصری فاضل شیخ محمد خضری بک (انسپکٹر تعلیمات اسلامیہ مصر) لکھتے ہیں:

 اگر تم ان اتہامات میں غور کرو تو اس میں کوئی بھی امر ایسا نہیں ہے جو آپؓ کے دامن کو داغدار کردے آپؓ نے کسی امر میں حدود سے تجاوز نہیں کیا تھا (ترجمہ اتمامُ الوفاء صفحہ 264)۔


صفحہ 2 از 2