مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

﴿اَلَمْ تَرَ اِِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مَا ہُمْ مِنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْ وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ oاَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا اِِنَّہُمْ سَائَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ oاتَّخَذُوْا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ oلَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَا اَوْلَادُہُمْ مِّنْ اللّٰہِ شَیْئًااُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ oیَوْمَ یَبْعَثُہُمْ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ عَلٰی شَیْئٍ اَ لَا اِِنَّہُمْ ہُمُ الْکَاذِبُوْنَoاسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمْ الشَّیْطَانُ فَاَنسَاہُمْ ذِکْرَ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْطَانِ اَ لَا اِِنَّ حِزْبَ الشَّیْطَانِ ہُمُ الْخَاسِرُوْنَ oاِِنَّ الَّذِیْنَ یُحَادُّونَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُوْلٰٓئِکَ فِی الَاذَلِّینَ oکَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌoلَا تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا آبَائَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ اَوْ اِِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیرَتَہُمْ اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِِیْمَانَ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ اُوْلٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ اَ لَا اِِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴾ (المجادلۃ۱۳۔۲۲)

’’کیاآپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے ان لوگوں کو دوست بنا لیا جن پر اللہ غصے ہو گیا، وہ نہ تم سے ہیں اور نہ ان سے اور وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے ہیں ۔ اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار کیا ہے، بے شک یہ لوگ جو کچھ کرتے رہے ہیں ، وہ بہت برا ہے ۔انھوں نے اپنی قسموں کو ایک طرح کی ڈھال بنا لیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا، سو ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ان کے اموال اللہ کے مقابلے میں ہرگز ان کے کسی کام نہ آئیں گے اور نہ ہی ان کی اولاد کام آئے گی۔ یہ لوگ آگ میں جانے والے ہیں ، اوراس میں ہمیشہ رہیں گے ۔جس دن اللہ ان سب کو اٹھا ئے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں ، سن لو! یقیناً وہی اصل جھوٹے ہیں ۔شیطان ان پر غالب آگیا، سو اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی، یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں ۔ سن لو! یقیناً شیطان کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسو ل کی مخالفت کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں ۔اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، یقیناً اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے ۔آپ ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نہیں پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ،یا ان کے بھائی، یا ان کے اہل خاندان۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں ، یاد رکھو! یقیناً اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والے ہیں ۔‘‘

یہ آیات منافقین کے متعلق نازل ہوئیں ۔منافقین کی تعدادرافضیوں سے زیادہ کسی دوسرے گروہ میں نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ روافض میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس میں نفاق کا ایک شعبہ نہ پایا جاتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :’’ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۔جب عہد کرے تو توڑ ڈالے ۔جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے۔‘‘ [صحیح مسلم:کتاب ایمان :باب منافق کی خصلتوں ....:ح۲۱۲]البخارِیِ ۱؍۱۲ ؛ ِکتاب الإِیمانِ باب علامِۃ النِفاقِ ۴؍۱۰۲؛ کتاب الجِزیِۃ والموادعِۃ، باب ِإثمِ من عاہد ثم غدر، سننِ أبِی داود ۴؍۳۰۵ ؛ کتاب السنۃِ، باب الدلِیلِ علی زِیادۃِ الإِیمانِ ونقصانِہِ۔]

نیزاللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ اَنْفُسُہُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَ فِی الْعَذَابِ ہُمْ خٰلِدُوْنَ oوَ لَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَآئَ وَ لٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ﴾ (المائدۃ۸۰۔۸۱)

’’ان میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں ، جو کچھ انہوں نے اپنے لئے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت برا ہے کہ اللہ ان سے ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے ۔ اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور نبی پر؛ اور جو نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان ہوتا تو یہ کفار سے دوستیاں نہ کرتے، لیکن ان میں اکژ لوگ فاسق ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مریم ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ oکَانُوْا لَا یَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَo تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا....﴾ [المائدۃ۷۸۔۸۰]۔

صفحہ 2 از 4