Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شوق شہادت

  علی محمد الصلابی

زید بن اسلم اپنے باپ سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی: ’’اے اللہ! تو اپنے دین کی خاطر اپنے نبی کے شہر میں شہادت کی موت عطا فرما۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ: ’’اے اللہ! میری روح اس حالت میں پرواز کرے کہ تیرے راستے میں ہوں اور تیرے نبی کے شہر میں ہوں۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’پتہ نہیں میری یہ مراد کب پوری ہوگی؟‘‘ پھر کہتے: ’’جب اللہ چاہے گا مجھے ایسی ہی موت دے گا۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 331 ۳/۳۳۱ اس کی سند حسن ہے۔ تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 872)

یوسف بن حسین بن عبدالہادی ان روایات کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ’’شہادت کی تمنا کرنا مستحب ہے، اسے موت کی تمنا کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب موت کی تمنا کرنا شرعاً حرام ہے تو پھر یہاں دونوں موتوں میں کیا فرق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ موت کی تمنا کا مطلب ہے کہ وقت سے قبل موت کو جلدی طلب کرنا ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ انسان کی درازی عمر اسے بھلائی کا موقع دیتی ہے اور شہادت کی تمنا قبل از وقت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ عمر کے خاتمہ کے وقت شہادت نصیب ہو۔ گویا طلب شہادت میں وقت سے قبل موت کی طلب نہیں ہوتی بلکہ موت کے وقت شہادت کی فضیلت مطلوب ہوتی ہے۔‘‘

(محض الصواب فی فضائل أمیرالمومنین عمر بن خطاب: جلد 3 صفحہ 791)