کوڑے لگانے کا حکم
علی محمد الصلابیامام مالک نافع سے روایت کرتے ہیں کہ صفیہ بنت عبید نے ان کو خبر دی کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص حاضر کیا گیا جس نے ایک لونڈی کے ساتھ زنا کر کے اس کو حاملہ کر دیا، پھر خود زنا کا اعتراف کر لیا، وہ شادی شدہ نہ تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حکم دیا اور اس کو حد کے سو کوڑے لگائے گئے، پھر فدک کی طرف اس کو جلا وطن کر دیا گیا۔
(الموطا: الحدود صفحہ 848)
اور ایک روایت میں ہے کہ آپؓ نے لونڈی کو نہ کوڑے لگوائے اور نہ اس کو جلا وطن کیا کیونکہ اس سے جبراً زنا کیا گیا تھا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس لونڈی کی شادی اس شخص سے کر دی۔
(مصنَّف عبدالرزاق: صفحہ 12796)
اور جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے ایک خاتون کے ساتھ زنا کیا، پھر اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے تو آپؓ نے فرمایا اس سے افضل کوئی توبہ نہیں کہ اس سے شادی کر لے اور دونوں زنا سے نکل کر نکاح میں آجائیں۔
(مصنف عبدالرزاق: صفحہ 12796 اس میں ایک راوی مجہول ہے)
حضانت (پرورش) کا حق ماں کا ہے جب تک دوسری شادی نہ کر لے
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی انصاری بیوی کو طلاق دے دی جو عاصم کی ماں ہیں۔ وادی مُحسِّر (وادی محسر مکہ اور عرفہ کے درمیان واقع ہے۔ معجم البلدان: جلد 5 صفحہ 62)
میں دیکھا کہ وہ ان کے بچے کو لیے جا رہی ہے اور بچہ دودھ چھوڑ چکا تھا اور اپنے پاؤں پر چلنے لگا تھا۔ آپؓ نے بچے کا ہاتھ پکڑا اور اس سے چھیننے لگے، بچے کو تکلیف پہنچی اور بچہ رونے لگا۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا میں تم سے زیادہ بچے کا مستحق ہوں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ معاملہ پیش ہوا تو آپؓ نے ماں کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا اس کی مہک، اس کی گود اور اس کا بستر بچے کے لیے تم سے بہتر ہے، یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائے اور پھر جس کو چاہے اختیار کرے۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد، 7 صفحہ، 54، 12601)
اور ایک روایت میں ہے، فرمایا یہ ماں بچے کے حق میں زیادہ شفیق و مہربان اور رحم کرنے والی ہے، وہ بچے کی زیادہ حقدار ہے جب تک شادی نہ کر لے۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 7 صفحہ 54، 12600)
یہ عہد صدیقی میں واقع ہونے والے بعض معاملات کے فیصلے ہیں، آپؓ کے دور میں قضاء کے چند خصائص یہاں پیش کیے جاتے ہیں
دور صدیقی میں قضاء، دور نبویﷺ کے قضاء کا امتداد تھا، اسی کا التزام کیا جاتا تھا اور اسی منہج کی اقتداء کی جاتی تھی۔ دینی تربیت عام تھی، ایمان و عقیدہ سے گہرا تعلق تھا، دینی ضمیر بیدار تھا، اس پر اعتماد کیا جاتا تھا، دعویٰ میں تفصیل و سادگی پائی جاتی تھی، عدالتی کارروائی مختصر ہوتی تھی، لڑائی و اختلافات اور دعوے قلیل مقدار میں پائے جاتے تھے۔
دور صدیقی میں صادر ہونے والے فیصلوں کے احکام علماء و محققین اور فقہاء کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں اور مختلف ادوار میں شرعی احکام، فیصلوں سے متعلق اجتہادات اور فقہی آراء کا مصدر قرار پائے۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بعض امراء اور گورنروں نے منازعات و اختلافات میں غور و فکر کیا اور آپؓ نے خلافت کے ساتھ قضاء کو بھی سنبھالا۔
خلفائے راشدینؓ کے زمانہ میں عہد صدیقی قضاء کے لیے نئے مصادر کے ظہور میں ممدو معاون ثابت ہوا، اور احکام قضاء کے مصادر یہ قرار پائے قرآن کریم، حدیث شریف، اجماع، قیاس صحیح، سابقہ قضاء کے فیصلے، مشورہ کے ساتھ اجتہاد رائے۔
(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 157، 158)
آداب قضاء میں کمزور کی حمایت، مظلوم کی نصرت، فریقین کے درمیان مساوات، تمام لوگوں پر حق و احکام شریعت کے نفاذ کا بھرپور خیال رکھا جاتا تھا اگرچہ وہ حکم، خلیفہ یا امیر اور گورنر کے خلاف ہو اور قاضی ہی عام طور پر فیصلہ کو نافذ بھی کرتا تھا اور حکم صادر ہونے کے فوراً بعد اس کی تنفیذ ہو جاتی تھی۔
(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 160)