فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 18

’’ کہیں گے ہائے ہماری بربادی! اس کتاب کو کیا ہوا، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے لکھ رکھا ہے، اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘

تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ : یہ ایسے فعل کی نفی ہے جو وہ کسی کے ساتھ نہیں کرے گا؛جس پر نہ ہی اسے قدرت ہے؛ اور نہ ہی اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔ ؟ یا ان کی نیکیوں میں سے کوئی بھی ظلم نہیں کرے گا۔ بلکہ انہیں برابر گن رکھے گا؛ اور پھر انہیں ان نیکیوں پر ثواب دے گا؟ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو اس کی نیکیوں پر ثواب ملے گا؛ اور ان میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اور برائی کے علاوہ کسی چیز پر اسے کوئی سزا نہیں ملے گی۔ اور اس کی طرف سے بغیر کسی گناہ کے؛ اور نیکیوں میں کمی کرنے کے سزا دینا وہ ظلم ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی طہارت اور پاکیزگی بیان کی ہے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ﴾(القلم:36) 

تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کردیں گے؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِo﴾[ص :28]

’’کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، زمین میں فساد کرنے والوں کی طرح کر دیں گے؟ یا کیا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے؟۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوْا السَّیَِّٔاتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَائً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ سَائَ مَا یَحْکُمُوْنَo﴾[الجاثیۃ : 21] 

’ کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا، انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہو گا؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں ۔‘‘ ان کے علاوہ بھی بہت ساری آیات ہیں ۔

مختلف چیزیں برابر نہیں ہوسکتیں 

پس یہ اس بات کی دلیل دو مختلف چیزوں پرایک برابر ایک سا حکم لگانا وہ برائی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ و تقدیس بیان کی ہے۔ اور یہ ایسی برائی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے۔ اور جو کوئی اس کو جائز کہتا ہے؛ در حقیقت وہ ایسی بدی اور برائی کو جائز کہہ رہا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کسی بھی جائز نہیں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ﴾(القلم:۳۵) 

’’تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کردیں گے؟۔‘‘

یہ انکاریہ سوال ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں چیزوں کو برابر کرنا ایک برائی ہے؛ اور یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی بدگمانی رکھی جائے۔بھلے یہ دونوں کام اللہ تعالیٰ کے لیے برابر ہوں ؛ او ران میں سے کوئی ایک کام کرنا اللہ تعالیٰ کے حق میں جائز بھی ہو۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿سَائَ مَا یَحْکُمُوْنَo﴾

’’ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں ۔‘‘

یہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ: یہ انتہائی برا حکم ہے؛ اور برا حکم ہی وہ ظلم ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے بری اور پاک ہیں ۔ اور جو کوئی کہتا ہے کہ: اللہ تعالیٰ دو مختلف چیزوں کے مابین برابری کرتے ہیں ؛ تو وہ انتہائی براحکم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے ہی دو متماثل چیزوں میں سے ایک کو فضیلت دینے کا معاملہ بھی ہے۔ بلکہ دو متماثل چیزوں کے مابین برابری کرنا؛ اوردو مختلف چیزوں میں سے کسی ایک کو فضیلت دینا؛ وہ عدل اور بہترین حکم ہے جس سے اللہ تعالیٰ موصوف ہیں ۔

ظلم کا مطلب ہے: کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دینا۔جب روشنی اور اندہیرے کو برابر کر دیا جائے؛ اور نیکوکار اور بدکار کو برابر کر دیا جائے۔مسلمان اور مجرم کو برابر کردیں ؛ تو یہی ظلم اور بہت برا حکم ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ و تقدیس بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ﴾[المائدۃ:50]

’’پھر کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے، ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں ۔‘‘

پس ان لوگوں کے نزدیک اگر جاہلیت کے احکام کے مطابق کوئی فیصلہ کر دیا جائے تو وہ بھی اچھاہے۔ کیونکہ نفس امر میں کوئی بھی حکم حسن یا غیر حسن[یعنی اچھا یا برا] نہیں ہوتا۔ بلکہ تمام امور برابر ہیں ۔ تو پھر ان تمام چیزوں کی موجود گی میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بڑھ کر بہترین حکم کس کا ہوسکتا ہے؟یہ نص اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم سب سے بہترین حکم ہے؛ اس سے بڑھ کر بہترین کسی کا حکم نہیں ہوسکتا۔اور اس بات کی بھی دلیل ہے کہ بہترین اور خوب تر ہونا اللہ تعالیٰ کے حکم کی صفت ہے۔اور اگر أمر سے متعلق حسن کا حکم ایک الگ سے چیز ہوتی ؛ جس کا حکم دیا جاتا؛ یا جس سے منع کیا جاتا؛ تو پھر یہاں پر اس کلام کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ اور پھر حکم تقسیم خوب اور خوب تر میں نہ ہوتی۔ کیونکہ ان کے نزدیک جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا حکم دے دیں جس کا وجود ممکن ہو۔ اوریہ سارا کا سارا حسن ہی ہے۔ان کے نزدیک کوئی حکم؍ امر ایسا نہیں ہے جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تقدیس اور تنزیہ بیان کریں ۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ اِذَا جَآئَ ْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ﴾[الانعام 124]

’’ اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، حتیٰ کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔‘‘

صفحہ 10 از 18