Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہشام بن محمد بن سائب کلبی

  امام ابن تیمیہ

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’جہاں تک صحابہ کے نقائص و معائب کا تعلق ہے ۔جمہور امت نے اس بارے میں بہت کچھ نقل کیا ہے؛ ا س کی حد یہ ہے کہ کلبی نے ’’مثالب صحابہ ‘‘ کے موضوع پر ایک مستقل کتاب تحریر کی ہے۔‘‘

[جواب] :

ہم کہتے ہیں کہ اس بارے میں جوابا ت تفصیلی ہیں ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں جو معائب منقول ہیں ان کی دو قسمیں ہیں:

معائب ِ صحابہ کی قسم اوّل:....جھوٹی روایات: جو کہ یاتو تمام کی تمام روایات ہی صاف اور کورا جھوٹ ہیں ۔یا پھر ان میں کمی اور زیادتی کرکے انہیں تحریف کا نشانہ بنایا گیا ہے؛جس کی وجہ سے ان میں مذمت اور عیب کا پہلو پیدا ہوگیا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں نقل کیے جانے والے اکثر مطاعن کا تعلق اسی باب سے ہے۔ انہیں روایت کرنے والے راوی اپنے جھوٹ اور دروغ گوئی میں معروف ہیں ۔ مثلاً ابو محنف لوط بن یحییٰ اور ہشام بن محمد بن سائب کلبی۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ مصنف ہشام کلبی کی تصنیفات سے دلائل پیش کرتا ہے، حالانکہ وہ لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ کلبی اور اس کا بیٹا ہشام دونوں شیعہ کذاب ہیں ۔

[ہشام بن محمد بن سائب کا ذکر قبل ازیں گزر چکا ہے۔ ہشام کے والد کلبی کے متعلق محدث ابن حبان فرماتے ہیں :’’کلبی ابن سبا کے معتقدین میں سے تھا۔ وہ یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ سیدنا علی ابھی فوت نہیں ہوئے وہ لوٹ کر آئیں گے اور کرہ ارضی کو عدل و انصاف سے ایسے ہی بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جو رسے لبریز ہو چکی ہوگی۔تبو ذکی کہتے ہیں :’’ میں نے ہمام سے سنا، اس نے کلبی کو یہ کہتے سنا کہ میں سبائی عقیدہ رکھتا ہوں ۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ ابو النضر کلبی یحییٰ اور ابن مہدی کے نزدیک متروک الحدیث ہے۔ امام بخاری نے کلبی کا یہ مقولہ نقل کیا ہے کہ ’’ میں جو روایت ابوصالح سے بیان کروں وہ جھوٹی ہوتی ہے۔‘‘ محدث ابن حبان فرماتے ہیں کلبی کے مذہب اور اس کی دروغ گوئی کے پیش نظر اس کی تعریف بے سود ہے۔‘‘ کلبی بطریق ابو صالح از ابن عباس تفسیری روایات بیان کرتا ہے۔ حالانکہ ابو صالح نے ابن عباس کو دیکھا بھی نہیں ، کلبی نے بھی ابو صالح سے بہت تھوڑی روایات سنی ہیں ، مگر بوقت ضرورت کلبی ابوصالح سے لا تعدادروایات بیان کرتا ہے۔ تصانیف میں کلبی کا نام لینا بھی حلال نہیں اس کی روایات سے احتجاج تو درکنار۔‘‘]

یہ اپنے والد اور ابو مخنف دونوں سے روایت کرتاہے۔حالانکہ یہ دونوں متروک الحدیث اور کذاب ہیں ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کلبی کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص کلبی سے روایت کرتا ہو یہ تو صرف ایک داستان گو اور نسّاب تھا۔‘‘

احمد بن زہیر کا قول ہے کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے دریافت کیا۔’’کلبی کی تفسیر سے استفادہ کرنا حلال ہے یا نہیں ؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’ نہیں ۔‘‘ محدث ابوعوانہ کہتے ہیں : ’’ میں نے کلبی کو یہ کہتے سنا: جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی لکھوایا کرتا تھا، جب آپ بیت الخلاء میں داخل ہو جاتے تو جبرائیل سیدنا علی کووحی لکھواتے۔‘‘ محدث ابن معین یحییٰ بن یعلی سے اور وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں کلبی سے قرآن پڑھا کرتا تھا۔ میں نے اسے یہ کہتے سنا۔ ’’ایک مرتبہ میں ایسا بیمار پڑا کہ مجھے سب کچھ بھول گیا۔ میں آل محمد کے پاس گیا اور انھوں نے میرے منہ میں اپنا تھوک ڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جوکچھ بھولا تھا دوبارہ مجھے یاد ہوگیا۔‘‘ میں نے یہ سن کر کہا میں آپ سے کوئی روایت بیان نہیں کروں گا۔ چنانچہ میں نے اسے ترک کردیا۔‘‘

ابو معاویہ کہتے ہیں ’’ میں نے کلبی کو یہ کہتے سنا:’’میں نے چھ یا سات دن میں قرآن حفظ کیا۔ دوسرا کوئی شخص اتنی جلد قرآن یاد نہیں کر سکتا اور میں ایسی چیز بھولا جس کو کوئی شخص فراموش نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنی داڑھی پکڑ کر چاہا کہ اس میں معمولی تخفیف کروں گا مگر میں نے مٹھی کے اوپرسے کتر ڈالی۔‘‘

یہ ہیں کلبی سبائی کذاب کے بارے میں ائمہ حدیث کے ارشادات عالیہ۔

رافضی مصنف ایسے شخص کی کتاب سے ان صحابہ کے نقائص و معائب پر استدلال کرنا چاہتا ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کائنات ارضی پر اللہ کی بہترین مخلوق تھے۔ ان کی عظمت و فضیلت کا یہ عالم ہے کہ اعدائے اسلام بھی ان کے مقام رفیع سے انکار نہیں کر سکتے جو انھیں تاریخ اسلام میں حاصل ہے۔

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کلبی متروک الحدیث ہے۔

محدث ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’ ہشام کلبی افسانہ گو تھا۔ مسند احمد میں اس سے کوئی حدیث مروی نہیں ۔اس کا باپ بھی کذاب ہے۔‘‘

امام زائدہ و لیث و سلیمان رحمہما اللہ فرماتے ہیں :’’کلبی کذاب ہے۔‘‘

محدث یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ کلبی کذاب، ساقط الاحتجاج اور بے کارآدمی ہے۔‘‘

محدث ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’کلبی کا کاذب ہونا عیاں راچہ بیاں ‘‘ کے مصداق ہے۔

معائب صحابہ کی دوسری قسم: ....صحابہ پر دوسری قسم کے وہ اعتراضات ہیں جو بجائے خود صحیح ہیں ، مگر صحابہ کے عذرات کی بنا پر ان کو گناہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ وہ اجتہادی غلطی کی قسم کی چیز ہیں جس کے درست ہونے کی صورت میں دو اجر ملتے ہیں اور غلط ہونے کی صورت میں ایک اجر۔ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے بارے میں جو اعتراضات کیے جاتے ہیں وہ اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تاہم اگر بفرض محال ان میں سے کسی چیز کے بارے میں ثابت بھی ہو جائے کہ وہ گناہ ہے تو اس سے ان کے فضائل ومناقب اور جنتی ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ گناہ کی سزا متعدد اسباب کی بنا پر آخرت میں ٹل بھی جاتی ہے۔ وہ اسباب یہ ہیں :

۱۔ توبہ گناہوں کو ختم دیتی ہے۔ شیعہ کے بارہ ائمہ کے بارے میں ثابت ہے کہ انھوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی۔

۲۔ اعمال صالحہ گناہوں کو ملیا میٹ کردیتے ہیں ۔نیکیاں برائیوں کے اثرات کو ختم کردیتی ہیں ؛ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں :

{اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ} (النساء:۳۱) 

’’اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچو گے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ معاف کردیں گے۔‘‘

۳۔ مصائب و آلام بھی گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں اور ان سے گناہوں کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

۴۔ مومنوں کی دعا سے بھی گناہوں کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

۵۔ انبیاء کی شفاعت سے بھی گناہ دور ہو جاتے ہیں ۔

بہرکیف جن اسباب و وجوہ کی بنا پر افراد امت میں سے کسی کے گناہ کو معاف کیا جاسکتاہے اور اس کی سزا کا ازالہ ممکن ہے صحابہ ان سب سے زیادہ اس امر کے مستحق ہیں کہ ان سے ذم و عتاب کو دور کیا جائے اور ان کے گناہوں کو معاف کیا جائے۔ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم مدح و تعریف کے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔