سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کروانا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کروانا
شیعہ دعویٰ کرتے ہیں یہ سیدنا امیر معاویہؓ اپنے دورِ خلافت میں سیدنا علیؓ پر لعنت کیا اور کروایا کرتے تھے اور ممبروں پر ان کو گالیاں دلوایا کرتے تھے اس پر شیعہ 11 مختلف روایات پیش کرتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
پہلی روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی پہلی روایت چار اسناد سے مروی ہے۔
پہلی سند:
'حدثنا علی بن عاصم قال حصين اخبرنا عن هلال بن يساف عن عبد الله بن ظالم المازنی قال۔
متن: عبداللہ بن ظالم المازنی کہتے ہیں کہ جب سیدنا امیر معاویہؓ کوفہ سے روانہ ہوئے تو وہاں کا گورنر سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کو بنا دیا انہوں نے ایسے خطیب لگا دیے جو سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہتے تھے عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں میں سیدنا سعید بن زیدؓ کہ پہلو میں بیٹھا تھا وہ شدید غصے میں آئے اور اُٹھ گئے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا انہوں نے کہا کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو جو اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے اور ایک جنتی آدمی پر لعنت کرنے کا حکم دیتا ہے میں نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ سب جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دے دوں کہ وہ بھی جنتی ہے تو میں گنہگار نہیں ہوں گا عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا اے حرا (پہاڑ)۔تو سکون کر جا تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ یا تو نبی ہیں یا صدیق یا شہید میں (عبداللہ بن ظالم) نے دریافت کیا وہ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا اللہ کے رسولﷺ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ سیدنا زبیرؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ سیدنا سعد بن مالکؓ اس سے آگے وہ خاموش ہوگئے میں (عبداللہ) نے پوچھا اور دسواں آدمی کون ہے؟انہوں (سیدنا سعید بن زیدؓ) نے جواب دیا میں خود۔
(مسند احمد (اردو) جلد 1 حدیث 1644)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس سند کا راوی علی بن عاصم منکر الحدیث ہیں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں یہ نیک شخص تھا تاہم اس کی غلطیوں کی کثرت اور خطاؤں کی وجہ سے اسے منکر قرار دے دیا گیا یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے یزید بن ہارون کہتے ہیں ہم اسے جھوٹ کے حوالے سے ہی جانتے ہیں امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں محدثین کے نزدیک یہ قوی نہیں ہے خالد الخدا نے اس کی روایات کو منکر قرار دیا ہے امام ذہبیؒ فرماتے ہیں اپنی ذات کے حوالے سے صدوق ہے البتہ یہ ضعیف ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صفحہ 181 تا 184)۔
امام ذہبیؒ اس پر آخری حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:
علی بن عاصم ضعیف ہے۔
(الکاشف للذہبی (عربی) جلد 2 صفحہ 42)۔
امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔
علی بن عاصم ہمارے نزدیک قوی نہیں ہے۔
(کتاب الضعفاء للبخاری(عربی) صفحہ 81)۔
امام ابنِ حبانؒ نے بھی اس کو المجروحین میں شامل کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے۔
(کتاب المجروحین من المحدثین (عربی) جلد 2 صفحہ 89)۔
ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سخت ضعیف اور منکر الحدیث ہے اس لیے اس راوی کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
دوسری علت: یہ روایت منقطع ہیں کیونکہ حلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم المازنی سے سماع نہیں کیا۔
جیسا کہ امام دار قطنیؒ فرماتے ہیں۔
ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا۔
(اقوال الدار قطنی فی رجال الحدیث (عربی) صفحہ 693)۔
اور علل میں بھی اس سند کے بارے میں فرماتے ہیں۔
ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا۔
(العلل الدار قطنی (عربی) جلد 2 صفحہ 245)۔
امام عبدالقادر المقریزی بھی اس روایت کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ۔
ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا۔
(امتاع الاسماع(عربی) جلد 5 صفحہ 58)۔
امام نسائیؒ بھی یہ روایت نقل کر کے فرماتے ہیں۔
ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا۔
(سنن الکبریٰ للنسائی (عربی) جلد 7 صفحہ 332)۔
اور امام بخاریؒ نے اس روایت کو عبداللہ بن ظالم کی وجہ سے ضعیف کہا ہے جو کہ ہم چوتھی سند میں بیان کریں گے۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ راویت سخت ضعیف ہے اس کا راوی علی بن عاصم متروک ہے اور اس روایت کی سند بھی منقطع ہے۔
دوسری سند:
حدثنا محمد بن العلاء عن ابنِ ادريس اخبرنا حصين عن ہلال بن يساف عن عبد الله بن ظالم۔
تيسری سند:
سفيان عن منصور عن هلال عن عبدالله بن ظالم۔
(سننِ ابو داؤد (اردو) جلد 4 روایت 4648)۔
(سنن الکبریٰ للنسائی (عربی) جلد 7 صفحہ 333)۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کی دوسری اور تیسری سند بھی ہلال بن عبداللہ'سے ہے اور یہ ہم اوپر بیان کر چکے کہ ہلال بھی یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا اس لیے ان اسناد میں بھی انقطاع ہے اور یہ روایت بھی منقطع ضعیف ہیں اور ان سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔
چوتھی سند: اس روایت کی چوتھی سند کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ ہے جیسا کہ امام ابو داؤد یہ روایت نقل کر کے کہتے ہیں۔
اخبرني عبد الله بن محمد بن عمار قال حدثنا قاسم الجرمی قال حدثنا سفيان عن منصور عن هلال بن يساف عن فلان بن حيان عن عبد الله بن ظالم قال۔
(سنن الکبریٰ للنسائی (عربی) جلد 7 صفحہ 332)۔
اسناد کا تعاقب: یہ سند بھی ثابت نہیں کیونکہ اس میں ہلال بن یساف کا شیخ ابنِ حیان مجہول ہے جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
'غیر معروف ہے اس کا نام بھی ذکر نہیں کیا گیا۔
(تقریب التہذیب (اردو) جلد 2 صفحہ 508)۔
اور امام بخاریؒ بی عبداللہ بن ظالم کے ترجمہ میں ان روایات کے بارے میں فرماتے ہیں۔
'اس نے دس لوگ جنت میں جائیں گے والی روایت نقل کی ہے (پھر اس سے منقول اسناد کا ذکر کرتے ہیں کہ) ہلال بن یساف عن عبداللہ بن سعید اور بعض میں ابنِ حیان کا اضافہ ہے (پھر فرماتے ہیں) اور یہ روایات صحیح نہیں ہیں۔
(التاریخ الکبیر للبخاری (عربی) جلد 5 صفحہ 124'125)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ اس روایت کی تمام اسناد باطل ہیں اور اس کی کوئی ایک ایسے سند نہیں ہے جو صحیح ہو اس لیے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سیدنا علیؓ پر لعنت کرواتے تھے حرام ہے۔
دوسری روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی دوسری روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
'حدثنی المدائنی عن عبد الله بن فائد و سحيم بن حفص قال۔
متن: سحیم بن حفص کہتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کو خط لکھا کہ سیدنا علیؓ کو گالیاں دلواؤ اور ان کی تنقیص بیان کرو۔
(انساب الاشراف (عربی)جلد 5 صفحہ 30)۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس کا مرکزی راوی سحیم بن حفص مجہول الحال ہے کتب رجال میں اس پر جرح و توثیق نہیں ملتی صرف حافظ مزیؒ نیک خلیفہ بن خیاط کے ترجمہ میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ کس کس سے روایت کرتا ہے سحیم بن حفص کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اخباری ہے لکھتے ہیں
اور ابوالیقطان عجیفی اخباری سے اور اس کا نام سحیم بن حفص ہے۔
(تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (عربی)جلد 8 صفحہ 316)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سحیم بن حفص مجہول ہے کیونکہ اس کے بارے پر کُتب رجال میں جرح و تعدیل نہیں ملتی اس لیے اس راوی کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے کسی صحابی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت اس کا منقطع ہونا ہے سحیم بن حفص نے سیدنا امیر معاویہؓ کا زمانہ نہیں پایا۔
سیدنا امیر معاویہؓ کی وفات 60 ہجری میں ہوئی اور سحیم بن حفص 190 ہجری میں فوت ہوا ان کے درمیان 130 سال کا فرق ہے۔
مؤرخ شہاب الدین یعقوب الحموی المتوفی 626 ہجری اس کے بارے میں لکھتا ہے۔
سحیم بن حفص ابو الیقطان الاخباری سنہ 190 ہجری میں فوت ہوا۔
(معجم الادباء (عربی) جلد 3 صفحہ 1342)۔
ادیب ربیع سلیمان الحوات الشفشاونی نے بھی اس کے بارے میں لکھا ہے کہ!۔
ابو الیقطان سحیم بن حفص سنہ 190 ہجری میں فوت ہوا۔
(السر الظاہر فیمن احر زبفاس الشرف الباھر (عربی) صفحہ 36)۔
اور مؤرخ محمد بن اسحاق الندیم بھی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ۔
ابو الیقطان جو کہ سحیم بن حفص ہے سنہ 190 ہجری میں فوت ہوا ۔
(کتاب الفہرست (عربی) صفحہ 138)۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت منقطع باطل ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں
تیسری روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی تیسری روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
قال هشام بن محمد عن ابی مخنف عن مجالد بن سعيد والصعقب ابن زهير و فضيل بن خديج والحسين بن عقبه المرادی قال حدثنک بعض هذا الحديث۔
متن: حسین بن عقبہ کہتا ہے مجھے بعض راویوں نے یہ روایت بیان کی کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو ان کو کچھ باتوں کی تلقین کی ان میں سے ایک یہ کہ سیدنا علیؓ کو گالیاں دلواؤ اور ان کی تنقیص بیان کرو۔
(تاریخِ طبری (عربی) جلد 5 صفحہ 253)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں پانچ علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس سند کا پہلا راوی ہشام بن محمد بن سائب کلبی متروک و شیعہ راوی ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
امام دار قطنیؒ اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ یہ متروک ہے ابنِ عساکرؒ کہتے ہیں یہ شیعہ ہے اور ثقہ نہیں ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 7 صفحہ 110)۔
امام ذہبیؒ ہی اس کے بارے میں مزید فرماتے ہیں۔
ہشام بن محمد یہ اخباری ہے اس کو ترک کر دیا گیا ہے۔
(المغنی فی الضعفاء (عربی) جلد 2 صفحہ 371)۔
امام ذہبیؒ نے اس کو دیوان الضعفاء میں بھی شامل کیا اور کہتے ہیں!۔
ہشام بن محمد کلبی اس کو ترک کر دیا گیا اور یہ شیعہ ہے۔
(دیوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صفحہ 419)۔
امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔
یہ اپنے باپ اور ابو مخنف سے روایت کرتا ہے امام احمدؒ کہتے ہیں میرا نہیں گمان کہ کسی نے اس کے حوالے سے حدیث روایت کی ہوگی (یعنی اس کی حدیث کو کسی نے قبول نہیں کیا) اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 3 صفحہ 176)۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ہشام بن محمد متروک الحدیث اور شیعہ ہے اس لیے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
دوسری علت:
اس سند کا دوسرا راوی ابو مخنف لوط بن یحییٰ بھی متروک الحدیث اور شیعہ ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یہ ہلاکت کا شکار ہونے والا شخص ہے اس پر اعتماد نہیں کیا جائے گا ابو حاتمؒ اور دیگر حضرات نے اسے متروک قرار دیا ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے اور کوئی چیز نہیں ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں یہ شیعہ ہے اور جلنے والا شخص ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صفحہ 484)۔
امام ذہبیؒ 'دیوان الضعفاء 'میں اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
لوط بن یحییٰ ابو مخنف متروک ہے۔
(دیوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صفحہ 333)۔
امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔
امام یحییؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں اور ایک بار کہا کہ یہ کوئی شے نہیں ہے اور امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 3 صفحہ 28)۔
امام ابو حاتمؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
ابو مخنف متروک الحدیث ہے۔
(کتاب الجرح والتعدیل (عربی) جلد7 صفحہ 182)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ابو مخنف لوط بن یحییٰ بھی متروک الحدیث ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
یہ روایت دیگر کتب میں بھی موجود ہے لیکن تمام اسناد کا دار و مدار ابو مخنف پر ہی ہے جو کہ متروک الحدیث و شیعہ ہے اس لیے کسی دوسری کتاب سے بھی اس کو بطورِ دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔
تیسری علت: اس کی سند کا تیسرا راوی مجالد بن سعید ہے اور اس کا ترجمہ گزر چکا ہے کہ اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
(دیکھیں باب سیدنا معاویہؓ کو میرے ممبر پر دیکھو تو قتل کر دینا پہلی سند کا تعاقب)
چوتھی علت: اس سند کا راوی فضیل بن خدیج مجہول الحال ہے۔
عبدالرحمن بن ابی حاتمؒ اس کے ترجمہ میں کہتے ہیں۔
فضیل بن خدیج ابو مخنف وغیرہ سے روایت کرتا ہے میرے والد (امام ابو خاتم الرازیؒ) کہتے ہیں یہ مجہول ہے اور متروک الحدیث راویوں سے روایت کرتا ہے۔
(کتاب الجرح والتعدیل (عربی) جلد 7 صفحہ 72)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فضیل بن خدیج مجہول ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
پانچویں علت: اس روایت کا مرکزی راوی بھی مجہول ہے حسین بن عقبہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے مجھے روایت بیان کی (الحسين بن عقبه المرادی قال حدثنی بعض هذا الحديث) بعض راوی کون ہیں؟ ان کی عدالت ثابت ہے یا نہیں ثقہ ہیں یا کذاب یہ سب معلوم کیے بغیر اس روایت سے استدلال جائز نہیں۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے اس کے راوی متروک الحدیث و مجہول ہیں اس لیے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ پر (معاذ اللہ) لعنت کرواتے تھے حرام ہے۔
چوتھی روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی چوتھی روایت بھی طبری کی اسی گزشتہ روایت سے اگلی روایت ہے جو کہ کچھ یوں ہے۔
سند:
قال ابو مخنف قال الصقعب بن زهير سمعت الشعبى يقول۔
متن: شعبی کہتے ہیں کہیں سیدنا مغیرہؓ سات سال اور چند ماہ سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف سے کوفہ کے گورنر رہے اور وہ بہت نیک سیرت اور امن و عافیت کی خواہش مند تھے مگر سیدنا علیؓ کو برا کہنا اور ان کی مذمت کرنا انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا۔
(تاریخِ طبری (عربی)جلد 5 صفحہ 254)۔
اسناد کا تعاقب:
اس روایت کی سند میں بھی ابو مخنف لوط بن یحییٰ ہے جس کا ترجمہ گزر چکا ہے کہ یہ شیعہ اور متروک الحدیث راوی ہے جس وجہ سے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں اس لیے یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔
پانچویں روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی پانچویں روایت جو کہ دو اسناد سے مروی ہے کچھ یوں ہے۔
پہلی سند:
حدثنا محمد بن حسين ابو حصين القاضي قال نا عون بن سلام قال نا عیسیٰ بن عبد الرحمٰن السلمى عن السدي عن ابي عبد الله الجدلی۔
متن: ابو عبداللہ الجدلی کہتا ہے کہ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا کیا رسول اللہﷺ کو ممبروں پر برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ تو میں نے کہا سبحان اللہ نبی کریمﷺ کو کہاں پر برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ تو سیدہ ام سلمہؓ نے کہا کیا سیدنا علیؓ اور ان سے محبت کرنے والوں کو برا بھلا نہیں کہا جا رہا؟ اور میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہﷺ ان سے محبت کرتے تھے۔
(معجم الاوسط للطبرانی (عربی)جلد 6 روایت 5832)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی اسماعیل بن عبدالرحمن السدی صدوق ہے البتہ شیعہ ہے جیسا کہ امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
حسین بن واقد کہتے ہیں میں نے سدی سے احادیث کا سماع کیا اور اس کے پاس سے اس وقت تک نہیں اٹھا جب تک میں نے اسے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کو برا کہتے ہوئے نہیں سنا پھر میں دوبارہ اس کے پاس نہیں گیا۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 1 صفحہ 322)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
چوتھے طبقہ کا صدوق حدیث میں وہم کر جانے والا راوی ہے اس بار شیعہ ہونے کا طعن کیا گیا ہے۔
(تقریب التہذیب ( اردو) جلد 1 صفحہ 77)۔
اور صدوق شیعہ کی وہ روایت جو اس کے مذہب کو تقویت دے قبول نہیں کی جاتی۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی ابو عبداللہ الجدلی بھی شیعہ ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
یہ شیعہ ہے اور بعض رکھنے والا شخص ہے جو زجانی کہتے ہیں یہ مختار کے جھنڈے کا نگران ہے۔
(میزان الاعتدال ( اردو)جلد 7 صفحہ 368)۔
امام ابنِ سعدؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
ابو عبداللہ الجدلی شدید التشیع(یعنی کٹر شیعہ ہے)۔
(طبقات ابنِ سعد( اردو ) جلد 3 حصہ 6 صفحہ 151)۔
امام ابنِ قتیبةؒ بھی اپنی کتاب میں غالی شیعوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ان میں مختار اور ابو عبداللہ الجدلی اور زرارة بن اعین اور جابر الجعفی شامل ہیں۔
(المعارف لابنِ ابنِ قتیبة (عربی) صفحہ 624)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ابو عبداللہ الجدلی شیعہ ہے اور اصول اہلِ سنت پر صدوق شیعہ راوی کی وہ روایت جو اس کے مذہب و بدعت کو تقویت دے اس کو قبول نہیں کیا جاتا۔
جیسا کہ امام ابنِِ حجرؒ یہ اصول بیان فرماتے ہیں کہ:
شیعہ غالی راوی کی نہ ہی روایت قبول کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی کرامت۔
(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 1 صفحہ 89)۔
اس لیے یہ روایت باطل ہے اور اس کو دلیل بنانا جائز نہیں۔
دوسری سند:
اخبرنا احمد بن كامل القاضي حدثنا محمد بن سعد العوفی حدثنا يحيىٰ بن ابی بكير حدثنا اسرائيل عن ابی اسحاق عن ابی عبد الله الجدلی۔
(مستدرک الحاکم (اردو) جلد 4 روایت 4615)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں بھی دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی ابو اسحاق السبیعی تیسرے طبقے کا مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہےابی اسحاق عن ابی عبداللہ الجدلی اور درجہ سوم کے مدلسین کی معنن مطلقاً رد ہیں جب تک سماع کی تصریح نہ کریں۔
امام ابنِ حجرؒ اس کو مدلسین کے تیسرے طبقے میں شامل کر کے فرماتے ہیں:
عمرو بن عبداللہ السبیعی الکوفی تدلیس کرنے میں مشہور ہے۔
(تعریف اہلِ التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس (عربی) صفحہ 42)۔
اور تیسرے طبقہ کے مدلسین کے بارے میں فرماتے ہیں۔
یہ وہ مدلسین ہیں جن کی (معنن) حدیث سے آئمہ نے احتجاج نہیں کیا جب تک سماع کی تصریح نہ کریں تو ان کی (معنن) احادیث مطلقاً رد کی جاتی ہیں۔
(تعریف اہلِ التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس (عربی) صفحہ 13)
اس لیے یہ روایت ابو اسحاق کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس سے استدلال درست نہیں۔
دوسری علت: اس روایت کی سند میں بھی ابو عبداللہ الجدلی ہے جو کہ شیعہ ہے اور اس کے حالات ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ شیعہ ہے اور اس کی ہر وہ روایت جو اس کے مذہب و بدعت کو تقویت دے وہ قبول نہیں کی جائے گی اس لیے یہ روایت بھی باطل ہے۔
چھٹی روایت: اس اعتراض پر شیعہ کی طرف سے پیش کی جانے والی چھٹی روایت صحیح مسلم یہ ایک روایت ہے جس کو شیعہ اپنی نادانی کی بنا پر اس اعتراض کو ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔
متن:
سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو (کسی جگہ کا) امیر بنایا پھر ان سے پوچھا اپ کو ابو ترابؓ (یعنی سیدنا علیؓ) کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے؟. تو انہوں نے کہا جب تک مجھے تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں کہی تھی میں ہرگز انہیں برا نہیں کہوں گا (پھر انہوں نے وہ تینوں باتیں بیان فرمائیں)۔
(صحیح مسلم (اردو) جلد 4 حدیث 6220)۔
اعتراض کی حقیقت: اس روایت کو بنیاد بنا کر شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کی سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا جبکہ اس روایت میں کہیں پر بھی حکم دینے کا ذکر موجود نہیں ہے۔
بعض شیعہ اس کے عربی متن سے امیر معاویه بن ابی سفیانؓ سعداؓ کے جملہ کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ اس کا ترجمہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو حکم دیا جبکہ یہ ترجمہ کرنا بالکل غلط ہے دیگر احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس جملے کا محاورتاً درست ترجمہ یہی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو امیر بنایا۔
جیسا کہ مختلف احادیث میں ہیں۔
بعث النبيﷺ بعثا و امر عليهم اسامة بن زيد۔
نبي كريمﷺ نے ایک فوج روانہ فرمائی اور سیدنا اسامہ بن زیدؓ کو ان کا امیر بنایا۔
(صحیح بخاری (اردو) جلد 3 روایت 3730)۔
وكان رسول اللهﷺ هو صالح اهل البحرين وامر عليهم العلاء بن الحضرمی۔
نبي كريمﷺ نے بحرین والوں سے صلح کی تو ان پر سیدنا علاء بن حضرمیؓ کو امیر بنایا۔
(صحیح بخاری (اردو) جلد 4 روایت 4015)۔
ان رسول اللهﷺ بعث جيشا وامر عليهم رجلا۔
رسول اللہﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو ان کا امیر بنایا۔
(صحیح مسلم (اردو) جلد 4 حدیث 4765)۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کا درست ترجمہ یہی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو (کسی جگہ کا) امیر بنایا۔
اگر سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا ہوتا تو روایت میں الفاظ کچھ یوں ہوتے امر معاويهؓ سعدؓ تسب ابا الترابؓ۔
اگر امر کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو حکم دیا تو پورا ترجمہ ہی غلط ہو جائے گا۔
جو کہ کچھ یوں بنے گا۔
'سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو حکم دیا کہ آپ کو ابو ترابؓ کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے؟۔
اب یہ پورا جملہ ہی غلط ہے کہ حکم بھی دیا جا رہا ہے اور سوال بھی کیا جا رہا ہے کیونکہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سوال کیا ہے ما معنک ان تسب ابا الترابؓ؟۔
اگر اس میں لفظ امر کا ترجمہ حکم ہی کرنا ہو تو اس کا ترجمہ یوں بنے گا۔
سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا سعدؓ کو حکم دے رہے ہیں کہ میرے اس سوال کا جواب دیں۔
اور محاورتاً جو درست ترجمہ ہے جو ہم نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا وہ یہی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو کسی جگہ کا امیر بنایا اور پھر ان سے سوال پوچھا۔
سیدنا امیر معاویہؓ کا یہ سوال کرنے کا مقصد ہے:
سیدنا امیر معاویہؓ نے اگر یہ سوال سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہلوانے کے لیے نہیں کیا تو اس کا مقصد کیا تھا؟۔
اس بات پر محدثین سے مختلف آراء منقول ہیں جو کہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے جبکہ کسی نے بھی اس سے یہ استدلال نہیں کیا کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ کو برا کہلوانا چاہتے تھے بلکہ سبھی نے یہی کہا ہے کہ اس روایت میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا ہو۔
سیدنا امیر معاویہؓ اپنے ساتھیوں کو سیدنا علیؓ کا ادب سکھانا چاہتے تھے:
بعض شارحین کا کہنا ہے کہ اس سوال سے سیدنا امیر معاویہؓ اپنے ساتھیوں کو سیدنا علیؓ کی فضیلت بتانا چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سیدنا سعدؓ سیدنا علیؓ کی فضیلت بیان کریں گے اور اس سے ان کے ساتھیوں کو سیدنا علیؓ کی فضیلت معلوم ہوگی۔
جیسا کہ امام الدین یحییٰ بن محمد الشیبانیؒ المتوفی 560 ہجری فرماتے ہیں کہ۔
یہ روایت اس بات پر دلیل ہے کہ سیدنا سعدؓ نے سیدنا علیؓ کے فضائل بیان کیے اور سیدنا امیر معاویہؓ نے ان کا انکار نہیں کیا یہ بات بعید نہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ اس (سوال) سے اپنے گھر والوں یا ساتھیوں کو سیدنا سعدؓ کی سیدنا علیؓ کے حق میں کی گئی باتوں سے سیدنا علی کا ادب سکھانا چاہتے ہوں یہ بات مروی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ کی تعریف کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے رسول اللہﷺ نے انہیں علم کے ذریعے خوب روشن فرمایا ہے ان دونوں کے درمیان جب جنگ کی کیفیت تھی وہ تب بھی سیدنا علیؓ سے فتویٰ لیا کرتے تھے سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ کی فضیلت کے منکر نہیں تھے۔
(الافصاح عن معانی الصحاح(عربی) جلد 1 صفحہ 348)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام عون الدین الشیبانیؒ کے نزدیک بھی اس سوال کا مقصد لوگوں کو سیدنا علیؓ کی فضیلت سے آشنا کروانا تھا کہ سیدنا سعدؓ نے نبی کریمﷺ کی زبان مبارک سے سیدنا علیؓ کی فضیلت میں کیا کچھ سنا ہے نہ کہ ان کو برا بھلا کہنے کا حکم دینا مقصود تھا۔
سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے والوں پر سیدنا علیؓ کی شان واضح کرنا چاہتے تھے:
بعض شارحین کہتے ہیں کہ اس سوال کا مقصد ان لوگوں کو سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کی زبان سے سیدنا علیؓ کی فضیلت سے آشنا کروانا تھا جو سیدنا علیؓ کو برا کہتے تھے۔
جیسا کہ قاضی عیاض مالکیؒ نے اس حدیث کی تشریح میں فرمایا ہے کہ۔
اس روایت میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا بلکہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو ایسی قوم کے مابین دیکھا جو سیدنا علیؓ کو برا کہتے تھے اور ان کو روکنا ممکن نہ تھا اس لیے سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ سے یہ سوال پوچھا کہ آپ کو ابو ترابؓ کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے؟ تاکہ وہ وہی بات بیان کریں جو انہوں نے نبی کریمﷺ سے سنی ہو اور ایک صحابی کی زبان سے ہی ان لوگوں پر حُجت تمام ہو جائے جو سیدنا علیﷺ کو برا کہتے تھے۔
(الکمال المعلم بفوائد مسلم (عربی) جلد 7 صفحہ 415)۔
قاضی عیاض مالکیؒ کہ اس شرح کو اصح قرار دیتے ہوئے امام خلفہ و شتانی ابی المالکیؒ اور امام سنوسی الحسینیؒ فرماتے ہیں۔
سیدنا سعدؓ کے قول کی اصح تاویل یہی ہے جو قاضی عیاض مالکیؒ نے ذکر کی ہے (پھر فرماتے ہیں) اور سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ کی فضیلت و بلند مرتبہ کے معترف تھے۔
(مکمل اکمال الاکمال (عربی) جلد 6 صفحہ 224)۔
علامہ عبدالعزیز بن احمد بن حامد (المتوفی 1239 ھ)۔ بی اس روایت کے بارے میں یہی کہتے ہیں۔
سیدنا امیر معاویہؓ نے بعض لوگوں کو سیدنا علیؓ کو برا کہتے ہوئے سنا تو سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا سعدؓ کی زبان سے ان کی فضیلت بیان کروا کر ان لوگوں کو سیدنا علیؓ کو برا کہنے سے روکنا چاہتے تھے۔
(الناھیة عن طعن امير المؤمنين معاويهؓ (عربی) صفحہ 72)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ شارحین کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ کے اس سوال کا مقصد سیدنا سعدؓ کو سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دینا نہیں تھا بلکہ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کی زبان سے سیدنا علیؓ کی فضیلت بیان کروا کر ان لوگوں کو روکنا اور ان پر حُجت قائم کرنا تھا جو سیدنا علیؓ کو برا کہتے تھے۔
اس لیے اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو حکم دیا کہ وہ سیدنا علیؓ کو برا کہیں جائز نہیں اور نہ ہی اس روایت میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ انہوں نے سیدنا سعدؓ کو سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا ہو اگر سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو واقعی حکم دیا ہوتا تو سیدنا سعدؓ غصہ کرتے اور سختی سے جواب دیتے لیکن سیدنا سعدؓ کا ایسا نہ کرنا بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے ایسا کہنے کا حکم نہیں دیا محض کسی حکمت کی بناء پر ایک سوال پوچھا جو کہ ہم بیان کر چکے۔
ساتویں روایت:
اس اعتراض پر پیش کی جانے والی ساتویں روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
حدثنی محمد بن اسماعيل الواسطی عن الفرات العجلى عن ابيه عن قتادة۔
متن: قتادہ کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے مدینہ میں خطاب کیا اور سیدنا علیؓ کا ذکر برے الفاظ سے کیا اور سیدنا عثمانؓ کی شہادت اور ان کے قاتلین کو پناہ دینے کا ذمہ دار سیدنا علیؓ کو ٹھہرا دیا اور سیدنا حسن بن علیؓ ممبر کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔
(انساب الاشراف ( عربی )جلد 5 صفحہ 121)۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی الفرات العجلی اور اس کا باپ دونوں مجہول ہیں ان کا ترجمہ کسی کتاب میں موجود نہیں کہ یہ کون ہیں آیا ثقہ ہیں یا نہیں۔
ان کی عدالت ثابت کیے بغیر ان کی روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں اس لیے یہ روایت بھی محض باطل ہے اور اس کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں تنقیص کرنا جائز نہیں۔
آٹھویں روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی آٹھویں روایت دو اسناد سے مروی ہے۔
پہلی سند:
المدائنی عن غسان بن عبد الحميد عن ابيه۔
متن: سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا شداد بن اوسؓ کو کہا کہ کھڑے ہو کر سیدنا علیؓ کا ذکر کرو اور ان پر تنقید کرو۔(انساب الاشراف ( عربی )جلد 5 صفحہ 105)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی غسان بن عبدالحمید مجہول ہے۔
امام ذہبیؒ اس راوی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں یہ مجہول ہے۔
(میزان الاعتدال ( اردو ) جلد 5 صفحہ 392)۔
اور امام ابنِ ابی حاتمؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
غسان بن عبدالحمید بن عبید بن یسار القرشی مجہول ہے۔
(کتاب الجرح والتعدیل ( عربی) جلد 7 صفحہ 51)۔
اس راوی کو امام ابنِ حبانؒ نے الثقات میں شامل کیا ہے لیکن ہم یہ پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ امام ابنِ حبانؒ راویوں کی توثیق میں متساہل ہیں ان کا کسی مجہول راوی کو ثقہ کہنا راوی کی ثقاہت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔
دوسری علت: غسان کے باپ عبدالحمید بن عبید بن یسار القرشی بھی مجہول ہے اس کا ترجمہ کسی کتاب میں موجود نہیں یہ بھی اپنے بیٹے کی طرح مجہول ہے اس لیے اس کی روایت بھی قابلِ قبول نہیں۔
اس سب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں باپ بیٹا مجہول ہیں اور ان کی روایت سے استدلال جائز نہیں اس لیے یہ روایت بھی باطل ہے۔
دوسری سند:
بلغنی عن حفص بن عمر الرازی عن الحسن بن عمارة عن منهال بن عمرو قال۔
(عيون الاخبار (عربي) جلد 1 صفحہ 92 )۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی حسن بن عمار کذاب و متروک الحدیث راوی ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ابو داؤدؒ امام شعبہؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ حسن بن عمارہ جھوٹ بولتا تھا امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے ابنِ مدینیؒ کہتے ہیں یہ شخص حدیث ایجاد کرتا ہے امام ابو حاتمؒ امام مسلمؒ امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے شعبہؒ نے کہا جو سب سے زیادہ جھوٹے شخص کو دیکھنا چاہے وہ حسن بن عمارہ کو دیکھ لیں لوگوں نے شعبہؒ کا یہ قول قبول کرلیا اور حسن بن عمارہ کو ترک کر دیا امام احمدؒ کہتے ہیں وکیع جب حسن بن عمارہ کی کسی روایت پر مطلع ہوتے تو کہتے اسے پرے کر دو اسے پرے کر دو۔
(میزان الاعتدال ( اردو ) جلد 2 صفحہ 313 تا 315)۔
امام ذہبیؒ اس کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ۔
'حسن بن عمارہ ہمارے نزدیک متروک ہے۔
(المغنی فی الضعفاء (عربی) جلد 1 صفحہ 244)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
حسن بن عمارہ بجلی ساتویں طبقہ کا متروک راوی ہے۔
(تقریب التہذیب ( اردو) جلد 1 صفحہ 180)۔
امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں۔
شعبہؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے حدیث وضع کرتا تھا یحییٰ کہتے ہیں یہ کذاب ہے اور امام احمدؒ امام رازیؒ امام نسائیؒ امام مسلمؒ امام یعقوب بن شیبہؒ اور علی بن جنید اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے زکریا ساجی کہتے ہیں اس بات پر اجماع ہے کہ حسن بن عمارہ کی حدیث کو ترک کیا جائے۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 1 صفحہ 207)۔
امام نسائیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
حسن بن عمارہ کوفی متروک الحدیث ہے۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین للنسائی (عربی) صفحہ 87)۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ حسن بن عمارہ کذاب و متروک راوی ہے اور اس کی کسی روایت سے استدلال جائز نہیں اس لیے یہ روایت بھی موضوع ہے۔
نویں روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی نویں روایت کچھ یوں ہے۔
متن: سیدنا سہل بن سعدؓ فرماتے ہیں آلِ مروان میں سے ایک شخص مدینہ کا عامل بنایا گیا (استعمل على المدينه رجل من آلِ مروان) اس نے مجھے بلایا اور کہا کہ سیدنا علیؓ کو برا کہو سیدنا سہلؓ نے انکار کر دیا تو اس نے کہا اگر تم انکار کرتے ہو تو یوں کہو ابو ترابؓ پر (نعوذ بالله) اللہ کی لعنت ہو تو سیدنا سہلؓ نے کہا سیدنا علیؓ کے نزدیک ابو ترابؓ سے بڑھ کر کوئی نام محبوب نہیں تھا جب ان کو ابو ترابؓ کے نام سے بلایا جاتا تو بہت خوش ہوتے تھے تو اس (امیر) نے سیدنا سہلؓ سے کہا آپ ہمیں یہ قصہ سنائیں کہ انہیں ابو ترابؓ کا نام کیسے ملا؟ (تو پھر سیدنا سہلؓ نے اس کو پورا واقعہ سنایا)۔
(صحیح مسلم (اردو) جلد 4 حدیث6225)۔
شیعہ کے اعتراض کی حقیقت: اس روایت کو دلیل بنا کر جاہل شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ پر یہ لعنت سیدنا امیر معاویہؓ کروا رہے تھے جبکہ اس روایت سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس روایت میں آلِ مروان کے کسی شخص کا ذکر کیا ہے کہ جب وہ مدینہ کا امیر بنا تو اس نے سیدنا سہل بن سعدؓ کو بلایا اور سیدنا علیؓ پر لعنت کرنے کا حکم دیا یعنی یہ واقعہ سیدنا امیر معاویہؓ کی وفات کے بعد کا ہے۔
سیدنا امیر معاویہؓ کی وفات 60 ہجری میں ہوئی۔
مروان بن حکم 65 ہجری میں فوت ہوا اور اسی کی اولاد میں سے یہ شخص مدینہ کا امیر بنا۔
یعنی جس وقت مروان کی اولاد میں سے کوئی امیر بنا اس وقت سیدنا امیر معاویہؓ اس دنیا سے پردہ فرما چکے تھے۔
اس لیے اس روایت کو سیدنا امیر معاویہؓ کی تنقیص میں بیان کرنا اور یہ کہنا کہ یہ حکم سیدنا امیر معاویہؓ نے دیا تھا محض بغض و تعصب ہے اور سیدنا امیر معاویہؓ پر بہتان ہے۔
دسویں روایت:
اس اعتراض پر پیش کی جانے والی دسویں روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
انبانا ابو اليمن زيد بن الحسن الكندی قال اخبرنا ابو القاسم هبة الله بن احمد بن عمر قال حدثنا ابو القاسم علی بن احمد بن محمد بن البسرى قال اخبرنا ابو الحسن محمد بن جعفر التميمک قال اخبرنا ابوبكر بن ابی دارم قال حدثنا اسحاق بن يحيىٰ بن محمد بن بشر بن سليم الدهقان قال حدثنا ابو محمد القاسم بن الخليفة قال اخبرنا ابنِ عمرون عن يحيىٰ بن يعلى عن محمد بن عبدالله بن ابی رافع عن عون بن عبد الله بن ابی رافع عن ابيه عبيد الله۔
متن: سیدنا امیر معاویہؓ جب سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہہ رہے تھے تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ نے ان سے کہا اپنی زبان کو لوگوں کے سامنے سیدنا علیؓ کو برا کہنے سے روکو تو سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا میں ایسا نہیں کر سکتا تو سیدنا ابو ایوبؓ نے فرمایا میں ایسی زمین پر نہیں رہ سکتا جہاں سیدنا علیؓ کو برا کہا جا رہا ہو پھر وہ سمندر کے کنارے جا کر رہنے لگے۔
(بغیة الطلب فی تاریخ الحلب (عربی) جلد 7 صفحہ 3033 3032)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں پانچ علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی اسحاق بن یحییٰ بن محمد بن بشر بن سلیم الدھقان مجہول ہے اس کا ترجمہ ہمیں اسماء و رجال کی کسی کتاب میں نہیں ملا۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی ابو محمد القاسم بن خلیفہ بھی مجہول ہے اس کا ترجمہ بھی اسماء و رجال کی کُتب میں موجود نہیں۔
تیسری علت: اس روایت کا راوی یحییٰ بن یعلی قطوانی ضعیف اور مضطرب الحدیث ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہے امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے (اور پھر امام ذہبیؒ اس کی نقل کردہ منکر روایت کو بیان کرتے ہیں)۔
( میزان الاعتدال ( اردو) جلد 7 صفحہ 224)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی بھی ضعیف ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔
چوتھی علت: اس روایت کا راوی محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع منکر الحدیث ہے کتاب کے اندر سند میں محمد بن عبیداللہ کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھا گیا ہے جو کے کاتب کی غلطی ہے کیونکہ یہ اپنے بھائی سے روایت کر رہا ہے اور اس کا بھائی اپنے والد سے اور وہاں والد کا نام عبید اللہ ہی لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کاتب سے غلطی ہوئی ہے دیکھیں (محمد بن عبدالله بن ابی رافع عن عون بن عبدالله بن ابی رافع عن ابيه عبيدالله) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راویمحمد بن عبید اللہ بن ابو رافع ہی ہے محمد بن عبیداللہ بن ابی رافع کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ احادیث کوئی چیز نہیں ہے امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں یہ انتہائی منکر الحدیث ہے اور اس کی حدیث رخصت ہو گئی تھی۔
(میزان الاعتدال اردو جلد 6 صفحہ 257)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف اور منکر الحدیث ہے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
پانچویں علت:
اس روایت کا راوی ابوبکر بن ابی دارم جو کہ احمد بن محمد بن سری بن یحییٰ ہے یہ کذاب شیعہ ہے حدیثیں گھڑتا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ کو معاذ اللہ فرعون کہتا تھا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
اس کی کنیت ابوبکر ہے یہ شیعہ اور کذاب ہے امام حاکمؒ کہتے ہیں یہ شیعہ اور غیر ثقہ ہے محمد بن احمد کوفی کہتے ہیں یہ پہلے ٹھیک تھا لیکن پھر اس نے ایسی روایات بیان کرنا شروع کر دی جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی گئی تھی ایک شخص اس (ابنِ ابی دارم) کے پاس آیا اور کہا اللہ کے فرمان فرعون آیا سے مراد سیدنا عمرؓ ہیں اور اس سے پہلے والے سے مراد سیدنا ابوبکرؓ ہیں اور الموتفکات سے مراد سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ ہیں تو اس(ابنِ ابی دارم) نے اس شخص کی موافقت کی۔
(میزان الاعتدال اردو جلد 1 صفحہ 205)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے جھوٹ کا پلندہ ہے اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں بے ادبی کرنا حرام ہے۔
گیارہویں روایت:
اس اعتراض پر کی جانے والی گیارویں اور آخری روایت دو اسناد سے مروی ہے۔
پہلی سند:
'حدثنا محمد بن موسى الشامی حدثنا يزيد بن مهران الخباز ثنا ابوبكر بن عياش عن الاجلح عن حبيب بن ابی ثابت عن عبد الرحمن بن البيلمانی قال۔
متن: عبدالرحمٰن بن بیلمانی کہتا ہے کہ ہم سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس تھے ایک شخص کھڑا ہوا اور سیدنا علیؓ کو برا کہنے لگا تو سیدنا سعید بن زیدؓ کھڑے ہوئے اور کہا اے سیدنا معاویہؓ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ تمہارے پاس سیدنا علیؓ کو برا کہا جا رہا ہے اور تم اسے کچھ نہیں کہہ رہے میں نے رسول اللہﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا سیدنا علیؓ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کو موسیٰؑ سے تھی۔
(کتاب السنہ ابنِ ابی عاصم (عربی ) روایت 1350)۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی یزید بن مہران الخباز ضعیف ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
امام ابو داؤدؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو)جلد 7 صفحہ250)۔
امام ذہبیؒ نے اس کو'المغنی فی الضعفاء' میں بھی شامل کیا کہتے ہیں۔
یزید بن مہران الخباز کوفی اس کو ابو داؤدؒ نے ضعیف کہا ہے۔
(المغنی فی الضعفاء (عربی)جلد 2 صفحہ 426)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے ۔
دوسری علت: اس روایت کا مرکزی راوی عبدالرحمٰن بن بیلمانی ضعیف ہے اور اس کی روایت سے حُجت قائم نہیں کی جاسکتی اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
ابو حاتمؒ نے اسے لین قرار دیا ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے (پھر امام ذہبیؒ کہتے ہیں) اس کے ذریعہ حُجت قائم نہیں ہو سکتی۔
(میزان الاعتدال ( اردو) جلد 4 صفحہ 250)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
'تیسرے طبقہ کا ضعیف راوی ہے۔
(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صفحہ 514)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی بھی ضعیف ہے اور اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا اس لیے یہ روایت بھی باطل ہے۔
دوسری سند:
نا عبد السلام بن صالح قال نا ابنِ عيينة عن ابنِ ابي نجيح عن ابيه۔
متن: ابو نجیح کہتے ہیں ربیعہ جرشی سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس کھڑا ہوا اور سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے لگا سیدنا سعدؓ کھڑے ہوئے اور کہا یہ شخص سیدنا علیؓ کو برا کہہ رہا ہے اور تم (سیدنا امیر معاویہؓ)خاموش ہو میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا تھا کہ سیدنا علیؓ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کو موسیؑ سے تھی۔
(التاریخ الکبیر ابنِ ابی خیثمہ (عربی) روایت 2819)۔
اسناد کا تعاقب:
اس روایت کا راوی عبد السلام بن صالح یہ شیعہ ہے جھوٹ بولتا تھا اور احادیث ایجاد کرتا تھا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یہ انتہا پسند شیعہ تھا امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں میرے نزدیک یہ ثقہ نہیں ہے امام ابو زرعہؒ نے اس کی احادیث کو پرے کر دیا تھا عقیلی کہتے ہیں یہ شیعہ اور خبیث ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس پر (جھوٹ بولنے کی) تہمت عائد کی گئی ہے امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ شیعہ اور خبیث ہے اس پر احادیث ایجاد کرنے کا الزام ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صفحہ316)۔
امام ذہبیؒ اس کے بارے میں دیوان الضعفاء میں فرماتے ہیں۔
عبدالسلام بن صالح پر ایک سے زیادہ لوگوں نے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے ابو زرعہؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں یہ مہتم ہیں اور دیگر نے کہا ہے یہ شیعہ ہے۔
(دیوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صفحہ 249)۔
امام ابنِ جوزیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے ،لکھتے ہیں۔
ابوحاتمؒ کہتے ہیں میرے نزدیک یہ سچا نہیں ہے ابوذرعہؒ نے اس کی احادیث کو پھینک دیا ابنِ عدیؒ کہتے ہیں یہ مہتم ہے عقیلیؒ کہتے ہیں یہ خبیث شیعہ ہے۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 2 صفحہ 106)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ عبدالسلام بن صالح شیعہ ہے اور اس پر جھوٹ بولنے اور احادیث ایجاد کرنے کی جرح کی گئی ہے جس وجہ سے اس کی روایت قابلِ استدلال نہیں اور اس کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں کوئی نازیبا جملہ کہنا حرام ہے۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کرنا یا کروانا ثابت نہیں اور اس سلسلہ میں کوئی ایک روایت بھی صحیح سند کے ساتھ موجود نہیں جس میں صراحت ہو کے سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ پر لعنت کی ہو یا کروائی ہو یا کرنے کا حکم دیا ہو اور اس بارے میں جتنی روایات ہیں سب سخت ضعیف باطل و موضوع ہیں جن سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔