فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 18

یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ : ، اللہ تعالیٰ اس مقام و مرتبہ کے زیادہ جاننے والے ہیں جہاں وہ اپنی رسالت کو رکھتے ہیں ۔ اگر تمام ہی لوگ برابر ہوتے تو پھر یہ تخصیص بغیر کسی سبب کے ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس خاص علم کہ رسالت کہاں پر رکھنا ہے؛ اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَلَقَدْ جَائَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُoکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذْنَاہُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُقْتَدِرٍo اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُوْلٰٓئِکُمْ اَمْ لَکُمْ بَرَائَۃٌ فِی الزُّبُرِo﴾ [القمر] 

’’اور بلاشبہ یقیناً فرعون کی آل کے پاس ڈرانے والے آئے۔ انھوں نے ہماری سب کی سب نشانیوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں پکڑا، جیسے اس کی پکڑ ہوتی ہے جو سب پر غالب، بے حد قدرت والا ہو۔کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں ، یا تمھارے لیے کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے؟‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

اور بلاشبہ یقیناً فرعون کی آل کے پاس ڈرانے والے آئے۔ انھوں نے ہماری سب کی سب نشانیوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں پکڑا، جیسے اس کی پکڑ ہوتی ہے جو سب پر غالب، بے حد قدرت والا ہو۔کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں ، یا تمھارے لیے کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے؟‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَہُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ اَہْلَکْنَاہُمْ اِِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَo

’’کیا یہ لوگ بہتر ہیں ، یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جوان سے پہلے تھے؟ ہم نے انھیں ہلاک کردیا، بے شک وہ مجرم تھے ۔‘‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب وہ لوگ کفار تھے تو ہم نے انہیں عذاب دیا۔تو وہ کفار جنہوں نے محمدﷺ کو جھٹلایا ہے؛ وہ ان سے بہتر نہیں ہیں ۔ بلکہ یہ بھی انہی کی طرح ہیں ۔ ان ہی کی مانند اس سزا کے مستحق ہیں جس سزا کے مستحق وہ پہلے لوگ بنے تھے۔ اگر یہ لوگ ان پہلے کافروں سے بہتر ہوتے تو اس عذاب کس مستحق نہ ٹھہرتے ؛جو سزا پہلے لوگوں کو ملی ہے۔ پس اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ دو متماثلین کو برابر رکھتے ہیں ؛ اور خیر و بھلائی کے پیکر کو افضلیت دیتے ہیں ؛ اور اس کے اور اس سے کم تر کے مابین برابری نہیں کرتے۔

اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ہُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الحشر مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَظَنُّوا اَنَّہُمْ مَانِعَتُہُمْ حُصُونُہُمْ مِّنْ اللّٰہِ فَاَتَاہُمْ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوتَہُمْ بِاَیْدِیْہِمْ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ فَاعْتَبِرُوْا یَااُولِی الْاَبْصَارِo ....ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ شَاقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَمَنْ یُّشَاقَّ اللّٰہَ فَاِِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ o﴾ [الحشر 2۔4]

’’وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا پہلے اکٹھ ہی میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تم نے گمان نہ کیا تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور انھوں نے سمجھ رکھا تھا کہ یقیناً ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچانے والے ہیں ۔ تو اللہ ان کے پاس آیا جہاں سے انھوں نے گمان نہیں کیا تھا اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں اور مؤمنوں کے ہاتھوں کے ساتھ برباد کر رہے تھے، پس عبرت حاصل کرو اے آنکھوں والو! یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسو ل کی مخالفت کی اور جو اللہ کی مخالفت کرے تو بلاشبہ اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

یہاں پر اعتبار اس بات کا ہے کہ انہیں ان کے امثال سے تعبیر کیا جائے؛ اور انہیں بتایا جائے کہ جو کوئی ایسے کرے گا جیسے انہوں نے کیا تھا؛ تو وہ بھی ویسے ہی عذاب کا مستحق ٹھہرے گا؛ جیسے وہ لوگ عذاب کے مستحق ٹھہرے تھے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ دو متماثلین کے مابین برابری ہی کرتے؛ اور کبھی برابری نہ کرتے ہوتے؛ تو پھر اس کا کوئی اعتبار نہ رہتا کہ یہ معلوم ہو جاتا کہ یہ متعین ہی وہ ہے جس کے مابین اور اس کے امثال کے مابین مساوات ہوگی۔ تو پھر اس صورت میں حکم لگانا صرف اس صورت میں ممکن ہوتا جب اس متعین شخص کا حکم جان لیا جائے۔ تو پھر اعتبار و قیاس کی ضرورت ہی نہ رہتی۔

بڑی عجیب بات یہ ہے کہ اکثر اہل کلام اس آیت سے قیاس پر استدلال کرتے ہیں ۔اور بیشک یہ آیت قیاس پر اس لیے دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت دو متماثلین کو برابر شامل ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں بھی ایسا کرتے ہیں ۔ اگر یہ مطلق اعتبار؍قیاس کی وجہ سے اس آیت سے کسی شرعی حکم پر استدلال کرسکتے ہیں ؛ تو پھر وہ اس آیت سے ایک کائناتی اور تخلیقی حکم پر ثواب اور عقاب کے ضمن میں اس آیت سے استدلال کیوں نہیں کرتے۔ جبکہ آیت میں حقیقی مقصود بھی یہی ہے؛ تو پھر اس پر دلالت بھی زیادہ اولیٰ ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک گناہ میں دو برابر کے شریک اس کے عقاب میں بھی برابر ہوتے ہیں ۔ بخلاف اس آدمی کے جو اس میں ان کا شریک نہ بنا ہو۔

جب یہ کہا جائے کہ: یہ باتیں تو خبر بتانے سے معلوم ہوگئی ہیں ۔ تو ان سے پوچھا جائے گا: اس سے پہلے تو ان باتوں کی خبر اس نے نہیں دی۔ بلکہ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ حکم ہے جس کے علاوہ کوئی دوسرا حکم اس کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ۔ اس مؤقف پر اوپر گزری ہوئی آیات بھی دلالت کرتی ہیں ۔

صفحہ 11 از 18