فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 18

مزید برآں نصوص میں عدل و انصاف کے ترازو کی خبردی گئی ہے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ایک ذرہ مثقال برابر بھی ظلم نہیں کریں گے۔اور اگر کسی کی کوئی نیکی ہوگئی تو اسے کئی گنا بڑھا دیں گے؛ اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے۔ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایک ذرہ مثقال اگر برائیاں زیادہ کردی جائیں یا پھر نیکیوں میں کمی کردی جائے تو یہ ظلم ہوگا؛ اور اللہ تعالیٰ اس ظلم سے بری اور منزہ ہیں ۔ اوریہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ: اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے ترازو سے انصاف کے ساتھ لوگوں کے اعمال کا وزن کریں گے۔ اور اس کے خلاف کرنا عدل کے خلاف کرنا ہے۔ بلکہ وہ ظلم ہے جس سے اللہ تعالیٰ منزہ اور پاک ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں عدل نہ ہوتا تو وزن؍ موازنہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ اس لیے کہ اگر عذاب اور انعام بغیر کسی عادلانہ قانون کے ہو؛محض اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مرضی اور ارادہ سے ہو تو پھر وزن کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ ﴾ [آل عمران108]

’’ یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اللہ جہانوں پر کوئی ظلم نہیں چاہتا۔‘‘

امام زجاج اور دوسرے علمائے کرامؒ کا کہنا ہے: اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہے ہیں کہ وہ عذاب اسے ہی دے گا جو عذاب کا مستحق ہو۔ اور ایک اور نے کہا ہے: ’’ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی جرم کے کسی کو سزا نہیں دیں گے۔ کیونکہ ایسا کرنے کو ظلم کہتے ہیں ۔

مزید برآں اللہ تعالیٰ نے کئی ایک مواقع پر خبر دی ہے کہ: وہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَآ﴾ [الاعراف 42] 

اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَا﴾[البقرہ 233]

’’کوئی نفس اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیا جاتا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِِلَّا مَا اٰتٰہَا سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُسْرًا﴾ (الطلاق7) 

’’ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کی جو اس نے اسے دیا ہے، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ حسب استطاعت اپنا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُم﴾[التغابن 16]

’’سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو ۔‘‘

اوراہلِ ایمان اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں کرتے ہیں :

﴿ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ﴾[البقرۃ 286]

’’ اے ہمارے رب! ہم سے مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں ، اے ہمارے رب! اور ہم پر کوئی بھاری بوجھ نہ ڈال، جیسے تو نے اسے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس (کے اٹھانے) کی ہم میں طاقت نہ ہو۔‘‘

تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ میں نے ایسا ہی کردیا۔‘‘

یہ نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتے جس سے وہ عاجز آجائیں ۔برخلاف جہمیہ اور مجبرہ کے۔ اور اس بات پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھول چوک کرجانے والے اور خطا کار سے مؤاخذہ نہیں کرتے۔ برخلاف قدریہ اور معتزلہ کے۔ یہ اس باب میں فصل[فیصلہ کن] خطاب ہے۔

پس استدلال کرنے والا مجتہد ؛خواہ وہ امام ہو یا حاکم؛ عالم ہو یا مناظر ؛مفتی ہو یا کوئی دیگر؛ جب وہ استدلال کرتا ہے؛ اور حسبِ استطاعت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اجتہاد کرتا ہے؛ تو یہی وہ چیز ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے مکلف ٹھہرایا ہے۔ اور وہ اس عمل میں اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار اور ثواب کا مستحق ہے؛ جب وہ اپنی استطاعت کے مطابق تقوی اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ اسے بالکل کوئی سزا نہیں دیں گے۔ بخلاف جہمیہ اور مجبرہ کے وہ راہ حق پر ہے؛ یعنی اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار ہے۔لیکن کبھی ایسے ہوسکتا ہے کہ اسے اسی معاملہ میں حق کا علم ہو؛ اور کبھی حق کے علم سے محرومی بھی ہوسکتی ہے۔ برخلاف قدریہ اور معتزلہ کے؛ ان کا عقیدہ ہے کہ جو اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لاتا ہے وہ حق کی معرفت تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ بیشک یا بات باطل ہے؛ جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا۔ بلکہ حقیقت ہے یہ کہ معرفت حق کے لیے کوششیں کرنے والا عند اللہ ثواب کا حق دار ہے۔ 

ایسے ہی معاملہ ان کفار کا بھی ہے جن تک دار الکفر میں نبی کریمﷺ  کی دعوت پہنچ چکی ہے۔ اور اسے علم حاصل ہوگیا کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں ؛ اور وہ آپ پر اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لے آیا ؛اور حسبِ استطاعت اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا۔ جیسا کہ حضرت نجاشیؒ اور دیگر حضرات نے کیا تھا؛ ان کے لیے دار اسلام کی طرف ہجرت کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور نہ ہی تمام شرائع اسلام کا التزام کرسکا؛ کیونکہ وہ ہجرت نہیں کر سکتا تھا؛ اور اپنے دین کا کھل کر اظہار بھی نہیں کر سکتا تھا؛اور اس کے پاس کوئی ایسا بھی نہیں ہے جو اسے تمام شرائع اسلام کی تعلیم دے؛ تو یہ انسان پھر بھی مؤمن اور اہل جنت میں سے ہے۔ جیسے کہ آل فرعون میں سے فرعون کی قوم کا مومن تھا؛ اور جیسے فرعون کی بیوی مومنہ تھی؛ بلکہ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام اہل مصر کے ساتھ تھے۔ بیشک اہل مصر کفار تھے۔اور آپ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ جو دین اسلام کی معرفت اللہ تعالیٰ نے آپ پر انعام کی تھی؛ وہ ساری ان میں نافذ کرتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے انہیں توحید کے دعوت دی تھی؛ مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

آل فرعون کے مؤمن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 12 از 18