فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 18

﴿وَلَقَدْ جَائَکُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِمَّا جَائَکُمْ بِہٖ حَتّٰی اِِذَا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْ بَعْدِہِ رَسُوْلًا﴾[غافر 34]

’’اور بلاشبہ یقیناً اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلیلیں لے کر آیا تو تم اس کے بارے میں شک ہی میں رہے، جو وہ تمھارے پاس لے کر آیا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ کبھی کوئی رسول نہ بھیجے گا۔‘‘

ایسے ہی نجاشی کا معاملہ بھی ہے۔ وہ عیسائیوں کا بادشاہ تھا۔اس کی قوم نے اس کی بات نہ مانی۔اور اسلام میں داخل نہ ہوئے۔بلکہ نجاشی کے ساتھ صرف چند لوگ ہی اسلام لائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کی وفات ہوئی تو وہاں اس پر کوئی نماز جنازہ پڑھنے والا نہ تھا۔ تو نبی کریمﷺ  مدینہ میں تھے؛ آپ صحابہ کرامؓ کو لیکر نکلے؛ اور صفیں بنائیں ؛ اور انہیں نجاشی کی موت کی خبر اس دن دی؛ جس دن اس نے وفات پائی تھی۔ اور آپ نے فرمایا: ’’ حبشہ میں تمہارا ایک نیک بھائی انتقال کر گیا ہے۔‘‘[حدِیث نعیِ النبِیِﷺ النجاشِی إِلی المسلِمِین وصلاتہ علیہِ بعد أن صف المسلِمِین صفوفا روِی مِن عِدی مِن الأصحابِ، فرواہ أبو ہریرۃ وجابِر بن عبدِ اللّٰہِ وعِمران بن حصین رضِی اللّٰہ عنہم فِی: البخارِیِ:5؍51 کتاب مناقِبِ الأنصارِ، باب موتِ النجاشِیِ۔وجاء الحدِیث فِی البخاری فِی عِدۃِ مواضِع مِن ِکتابِ الجنائِزِ۔ وہو فِی مسلِم:2؍656، 658, کتاب الجنائِزِ، باب فِی التبِیرِ علی الجِنازۃِ، والحدِیث فِی سننِ بِی داود والتِرمِذِیِ والنسائِیِ وابنِ ماجہ ومسندِ الإِمامِ أحمد، وانظر: مِفتاح کنوزِ السنۃِ،[النجاشِی]۔]بہت سارے شرائع اسلام؛ یا ن میں سے اکثر ایسے تھے ؛ جن پر وہ اپنے عجز اور مجبوری کی وجہ سے عمل نہیں کر سکے۔ نہ ہی اس نے ہجرت کی؛ نہ ہی جہاد کیا؛ اور نہ ہی بیت اللہ کا حج کیا۔بلکہ روایت کیا گیا ہے کہ وہ پانچ نمازیں بھی نہیں پڑھتا تھا اور نہ ہی رمضان کے روزے رکھتا تھا۔اور نہ ہی شرعی زکواۃ ادا کرتا تھا۔ کیونکہ اگر وہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے اس چیز کا اظہار کرتا تو وہ اس پر انکار کرتے تھے۔ اور اس کے لیے ان کی مخالفت کرنا ممکن نہ تھی۔ اور ہم قطعی طور پر یقینی علم کی روشنی میں جانتے ہیں کہ وہ اپنی رعایا میں قرآن کے مطابق فیصلے بھی نہیں کیا کرتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں اپنے نبی کریمﷺ پر فرض کیا تھا کہ جب آپ کے پاس اہلِ کتاب آئیں تو آپ ان کے مابین اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق ہی فیصلہ کریں ۔اور آپ کو خبر دار کیا تھا کہ کہیں یہ لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کی شریعت سے موڑ کر فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔ اس کی مثالیں جیسے آپ نے ان میں شادی شدہ زانی کی بابت فیصلہ کرتے ہوئے رجم کرنے کا حکم دیا؛ اور دیّات میں بڑے وڈیروں اور عام انسان کے خون کے مابین عدل اور مساوات کا حکم دیا۔جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ کا حکم۔

نجاشی کے لیے قرآن کے مطابق فیصلے کرنا ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ اس کی قوم پھر اسے حاکم برقرار نہ رہنے دیتی ۔یہی حال ان بہت سارے لوگوں کا ہے جو تاتاریوں کی طرف سے مسلمانوں کے علاقوں پر قاضی [جج] تعینات کیے جاتے ہیں ۔ بلکہ مساجد کے امام تک متعین ہوتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں عادلانہ اور مساوات بھرے نظام کی خواہش ہوتی ہے؛ وہ ایسے کرنا بھی چاہتے ہیں ؛ لیکن انہیں ایسے کرنے نہیں دیا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ان کی راہ میں سخت روڑے اٹکاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو کسی کو اس کی وسعت سے بڑھ کر کا مکلف نہیں ٹھہراتے۔

حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرنے کی وجہ سے دشمنی کی گئی ؛ اور آپ کو اذیت دی گئی۔اور یہ بھی کہا گیا ہے:’’اسی وجہ سے آپ کو زہر دی گئی ۔‘‘

نجاشیؒ اور اس کے امثال نیک بخت جنتی ہیں ۔اگرچہ انہوں نے ان شرائع اسلام کا التزام نہیں کیا جن پر وہ قدرت نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ وہ ویسے ہی حکم چلاتے تھے؛ جیسے ان کے لیے احکامات صادر کرنا ممکن ہوتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اہل کتاب کے ان لوگوں میں شمار کیا ہے جن کے متعلق ارشاد گرامی ہے:

﴿ وَ اِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِo﴾ [آل عمران199]

’’اور بلاشبہ اہلِ کتاب میں سے کچھ لوگ یقیناً ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر بھی جو تمھاری طرف نازل کیا گیا اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا، اللہ کے لیے عاجزی کرنے والے ہیں ، وہ اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہیں لیتے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘

اس آیت کے بارے میں سلف صالحین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔یہ قول حضرت جابر؛ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم سے روایت کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض علماء نے کہا ہے:آپ کے صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ حضرت حسن اور حضرت قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے۔ صحابہ کرامؓ  کی یہی مراد ہے۔ لیکن یہاں پر مراد مطاع ہے۔ کیونکہ آیت کے الفاظ جمع کے صیغہ میں وارد ہوئے ہیں ؛ ان سے مراد ایک نہیں ہے۔ اور حضرت عطاءؒ سے روایت ہے کہ یہ آیت اہلِ نجران کے چالیس اور اہل حبشہ کے تیس اور اہل روم کے اسی لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے؛ جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین پر تھے؛ اور پھر حضرت محمدﷺ  پر ایمان لے آئے۔

ان حضرات نے ان لوگوں کا ذکر نہیں کیا جو مدینہ میں نبی کریمﷺ  پر ایمان لائے تھے؛ جیسے حضرت عبداللہ بن سلامؓ  اور دیگر جو کہ پہلے یہود ی تھے؛ اور حضرت سلمان فارسیؓ اور دیگر وہ لوگ جو نصرانیت پر تھے۔بیشک یہ لوگ ایمان لانے کے بعد مؤمن ہوگئے تھے۔ ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ:

صفحہ 13 از 18