فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 14 از 18

﴿ وَ اِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ ﴾

[آل عمران199]

’’اور بلاشبہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ یقیناً ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر بھی جو تمھاری طرف نازل کیا گیا اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا۔‘‘

کوئی ایک یہ بھی نہیں کہتا کہ یہود و نصاری اپنے اسلام قبول کرنے؛ ہجرت کرنے اور جملہ مہاجرین و مجاہدین مسلمانوں میں داخل ہونے کے بعد بھی اہل کتاب تھے۔ جیساکہ صحابہ کرامؓ  ؛جو وہ مشرکین تھے ؛کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مشرکین میں جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ  پر ایمان لانے کے بعد بھی مشرکین ہی باقی رہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ اہل کتاب میں تھے؛ پھر وہ رسول اللهﷺ پر ایمان لے آئے۔

جیسا کہ خطاء سے قتل ہو جانے والے کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّلَّکُمْ وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ﴾ [النساء92]

’’ اور اگر وہ تمھاری دشمن قوم سے ہو؛اور وہ مؤمن ہو تو ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے۔‘‘

یعنی وہ ہے تو دشمن قوم سے؛ مگر وہ ایمان لے آیا؛ اور اس کے لیے ہجرت کرنا؛ ایمان کا اظہار کرنا اور شریعت اسلام کا التزام کرنا ممکن نہیں تھا۔تو اسے بھی مؤمن کہہ کر پکارا گیا ہے۔کیونکہ اس نے ایمان کا اتنا کام ضرور کیا ہے جس قدر اس کے لیے ممکن تھا۔

یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے مکہ مکرمہ میں اہل ایمان کی ایک جماعت موجود تھی؛ جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھے۔اور وہ ہجرت کرنے سے بھی عاجز آ گئے تھے۔ [ان کے متعلق ]اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوْا فِیْہَا فَاُولًٰئِکَ مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاo اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًاo فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ وَ کَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًاo﴾[النساء 97۔ 99]

’’بے شک وہ لوگ جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں ، کہتے ہیں تم کس کام میں تھے؟ وہ کہتے ہیں ہم اس سر زمین میں نہایت کمزور تھے۔ وہ کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ تو یہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔مگر وہ نہایت کمزور مرد اور عورتیں اور بچے جو نہ کسی تدبیر کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ کوئی راستہ پاتے ہیں ۔ تو یہ لوگ، اللہ قریب ہے کہ انھیں معاف کر دے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔‘‘

پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کمزور لوگوں کا عذر پیش کیا ہے جو ہجرت کرنے سے عاجز آ گئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُہَا وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًاo﴾[النساء 75]

’’اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔‘‘

یہ لوگ اپنے دین کے شعائر قائم کرنے سے عاجز آ گئے تھے۔ تو ان سے وہ امور بھی ساقط ہوگئے جن کی ادائیگی سے وہ عاجز ہوگئے تھے۔ اگر یہ حکم ان لوگوں کے متعلق ہے جو مشرک تھے اور پھر ایمان لے آئے تو ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو اہل کتاب میں سے تھے ؛اور پھر ایمان لے آئے۔

اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّلَّکُمْ وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ﴾

’’ اور اگر وہ تمہاری دشمن قوم میں سے ہو اور وہ مؤمن ہو۔‘‘

کہا گیا ہے: یہ آیت اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے؛ جس پر اہلِ حرب کا لباس ہو۔ مثال کے طور پر وہ دشمنوں کی صف میں ہو؛ اور مقاتل کے لیے اسے بچانا مشکل ہو؛کیونکہ اسے تو دشمن سے لڑنے کا حکم ہے۔ تو اس صورت میں اس سے دیت ساقط ہو جائے گی؛ اور اس کا کفارہ ادا کرنا واجب ہوگا۔ یہ امام شافعیؒ کا قول ہے؛ اور امام احمدؒ سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے۔

یہ بھی کہا گیا: بلکہ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے؛ جو اسلام لائے؛ مگر ہجرت نہیں کرسکے ۔ یہ امام ابوحنیفہؒ کا قول ہے۔ لیکن آپ نے اس میں کفارہ واجب قرار دیاہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے: جب اہلِ حرب میں سے ہو؛ اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اہل حرب کو اس کی دیت ادا نہیں کی جائے گی۔بلکہ اس صورت میں صرف کفارہ ہی واجب ہوگا۔ بھلے اس کا پتہ چل گیا ہو کہ وہ مؤمن ہے؛ اور غلطی سے اس کا قتل ہوگیا ہو۔ یا یہ گمان ہو کہ وہ کافر ہے؛ ظاہر آیت سے یہی مستفاد ہوتا ہے۔

بعض مفسرین نے کہا ہے: یہ آیت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جیسا کہ ابن جریج؛ مقاتل اور ابن زیدؒ سے منقول ہے۔ یعنی یوں فرمایا جارہا ہے: ’’بیشک اہل کتاب میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ۔‘‘ اور بعض نے کہا ہے: یہ آیت اہلِ کتاب یہود ونصاری کے مؤمنین کے بارے میں ہے۔

صفحہ 14 از 18