فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 15 از 18

اگر یہ بات کہنے والے کی مراد وہ لوگ ہیں جو ظاہر میں اہلِ کتاب میں شمار ہوتے ہیں ؛ تو یہ بھی پہلے قول کی طرح ہے اور اگر اس سے مراد عموم ہے؛تو پھر یہ دوسرے قول کی طرح ہے۔ یہ امام مجاہد کا قول ہے؛ جو کہ ابو صالح نے ابن عباسؓ سے روایت کیاہے۔ اور ان لوگوں کا قول جو اس میں ابن سلام اور ان کے امثال کو شمار کرتے ہیں ؛ یہ ضعیف قول ہے۔بیشک یہ لوگ ظاہری اور باطنی طور پرہر طرح سے پکے مؤمن تھے۔ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرماتے ہیں :

﴿وَ اِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ﴾[آل عمران 199]

’’اور بلاشبہ اہلِ کتاب میں سے کچھ لوگ یقیناً ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر بھی جو تمھاری طرف نازل کیا گیا اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا، اللہ کے لیے عاجزی کرنے والے ہیں ، وہ اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہیں لیتے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘

¹۔ اول: جہاں تک عبداللہ بن سلامؓ کا تعلق ہے؛ تو جب نبی کریمﷺ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے پیش خدمت ہوکر اپنے خیالات یوں ظاہر کئے :

’’جب میں نے آپ کا چہرہ دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔‘‘[الحدِیث عن عبدِ اللہِ بنِ سلامؓ ۔ سنن الترمذی:4؍65 کتاب صِفۃِ القِیامِ باب:۱۵ونصہ: حضرت عبداللہ بن سلامؓ  سے روایت ہے کہ جب نبی اکرمﷺ  مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ دوڑتے ہوئے آپﷺ]جب کہ سورت آل عمران جس میں اہل کتاب کا ذکر ہے؛ یہ اس وقت نازل ہوئی جب اہلِ نجران کا وفد آیا ؛ یہ سن نو یا دس ہجری کا واقعہ ہے۔ 

²۔ دوم: بیشک ابن سلام اور ان کے امثال کا شمار جملہ صحابہ اور اہل ایمان میں سے ان کے ایک فرد کے طور پر ہوتا تھا۔ بلکہ آپ کا شمار فضلائے صحابہ میں سے ہوتا ہے؛ یہی حال حضرت سلمان فارسیؓ کا بھی ہے۔ تو ان کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اہل کتاب میں سے ہیں ۔ بیشک ان کا اجر وثواب باقی تمام اہل ایمان کی طرح ہے۔بلکہ انہیں دوگنا اجر دیا جائے گا۔ یہ لوگ تمام شرائع اسلام کا التزام کیا کرتے تھے۔ ان کا اجر اس کی نسبت بہت بڑا ہے؛ کہ ان کے متعلق کہا جائے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔

مزید برآں ان حضرات کا ظاہری معاملہ بڑا ہی معروف تھا۔ ان کے متعلق کوئی ایک کسی قسم کے شک و شبہ کا شکار نہیں تھا۔ تو پھر ان کی بابت ایسی اطلاع دینے میں کون سا فائدہ تھا؟

یہ تو ویسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے:اسلام ان تمام لوگوں میں داخل ہوا جو مشرک تھے یا جو اہل کتاب تھے۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ محمدﷺ کی بعثت سے قبل دین اسلام کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ پس جتنے بھی لوگ اسلام میں داخل ہوئے؛ وہ اس سے پہلے یا تو مشرک تھے؛ یا پھر اہل کتاب تھے۔ یا تو لکھنا پڑھنا جانتے تھے یا پھر ان پڑھ اور امّی تھے۔ تو پھر ایسی باتیں بتانے کا کیا فائدہ ؟

بخلاف نجاشی اور اس کے اصحاب کے۔ جو کہ بہت ساری ان چیزوں کا اظہار کرتے تھے؛ جن پر نصاری قائم تھے۔بیشک ان کا معاملہ مشتبہ تھا۔ یہی وجہ کہ اس آیت کی شان نزول میں ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ تب نازل ہوئی جب نجاشی کا انتقال ہوا؛ تو نبی کریمﷺ  نے اس پر نماز جنازہ پڑھی ؛ تو کسی کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس موٹے وحشی عیسائی کی نماز جنازہ پڑھیں گے؛ اوروہ اپنی سر زمین پر [مزے کررہا ]ہے۔تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ قول حضرت جابر؛ حضرت انس بن مالک اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔ یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے نجاشیؓ رحمہ اللہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی۔

یہ معاملہ حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت سلمان الفارسی رضی اللہ عنہما کے برعکس ہے۔ کیونکہ اگر ان میں سے کسی ایک پر کی طرف آئے اور مشہور ہوگیا کہ نبی اکرمﷺ تشریف لے آئے۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ نبی اکرمﷺ  کو دیکھوں ۔ جب میری نظر آپﷺ  کے چہرہ انور پر پڑی تو میں بیاختیار یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ آپﷺ نے اس موقع پر پہلی مرتبہ یہ بات فرمائی کہ اے لوگو سلام کو رواج دو، لوگوں کو کھانا کھلا اور رات کو جب لوگ سوجائیں تو نماز پڑھا کرو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوگے۔‘‘امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے۔ مزید دیکھو:[سنن ابنِ ماجہ:1؍423 کتاب إِقامۃِ الصلاِۃ، باب ما جاء فِی قِیامِ اللیلِ: 2؍1083؛ کتاب الطعِمِ، باب ِإطعامِ الطعامِ، سننِ الدارِمِیِ:۱؍۳۴۰ ؛ کتاب الصلاِۃ، باب فضلِ صلاِ ۃاللیلِ:2؍275، ِکتاب الِاستِئذانِ باب فِی إِفشاِء السلامِ، المسند ط۔ الحلبِیِ:5؍451۔]

نماز جنازہ پڑھی جاتی تو پھر کسی کو انکار کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کا اظہار کرنے والوں میں بعض منافق بھی تھے؛ جن کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جانی تھی۔ جیسا کہ ابن ابی اور اس کے امثال کے حق میں آیات نازل ہوئیں ۔ اور بیشک بسا اوقات دشمن کے علاقے میں بعض اوقات کوئی مؤمن ہوتا ہے؛ جب وہ مر جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھا جانا چاہیے ؛ جیسے نجاشی کا معاملہ ہے۔

یہ آیت اس ذکر سے مشابہ ہے؛جب اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کے بارے میں فرمایا:

صفحہ 15 از 18