فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 16 از 18

﴿ وَ لَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ o لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ o ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّہِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآ ئَ بِغَیْرِ حَقٍّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ oلَیْسُوْا سَوَآئً مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآئَ الَّیْلِ وَ ہُمْ یَسْجُدُوْنَo یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ اُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ o﴾[آل عمران 110۔114]

’’ اور اگر اہلِ کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر تھا، ان میں سے کچھ مومن ہیں اور ان کے اکثر نافرمان ہیں ۔وہ تمھیں ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے مگر معمولی تکلیف اور اگر تم سے لڑیں گے تو تم سے پیٹھیں پھیر جائیں گے، پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے۔ان پر ذلت مسلط کر دی گئی جہاں کہیں وہ پائے جائیں مگر اللہ کی پناہ اور لوگوں کی پناہ کے ساتھ اور وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی، یہ اس لیے کہ بے شک وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو کسی حق کے بغیر قتل کرتے تھے، یہ اس لیے کہ انھوں نے نا فرمانی کی اور وہ حد سے گزرتے تھے۔ وہ سب برابر نہیں ۔ اہل کتاب میں سے ایک جماعت قیام کرنے والی ہے، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ سجدے کرتے ہیں ۔اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ صالحین سے ہیں ۔‘‘

ان آیات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: یہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت کریمہ:

﴿ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴾

’’ان میں سے کچھ مؤمن ہیں اور ان کے اکثر نافرمان ہیں ۔‘‘

اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں ۔ سابقہ اسلوب سے یہ ایسے لگتا نہیں ؛ کیونکہ یہ لوگ اہل کتاب باقی نہیں رہے تھے۔

یہاں پر اس سے مقصود وہ لوگ ہیں جو ظاہر میں اہل کتاب میں سے تھے۔لیکن درحقیقت وہ مؤمن تھے؛ اوروہ ان امور کو بجا لانے پر قادر نہیں تھے جو امور مہاجرین و مجاہدین صحابہ بجا لاتے تھے؛ جیسے آلِ فرعون کا مؤمن ۔ اگرچہ وہ آل فرعون میں سے تھا۔ لیکن وہ مؤمن تھا۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِِیْمَانَہٗ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّی اللّٰہُ وَقَدْ جَائَکُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَّبِّکُمْ﴾ [غافر 28]

’’ اور فرعون کی آل میں سے ایک مومن آدمی نے کہا جو اپنا ایمان چھپاتا تھا، کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے ’’میرا رب اللہ ہے ‘‘حالانکہ یقیناً وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔‘‘

اگرچہ وہ آل فرعون میں سے تھا۔ لیکن وہ مؤمن تھا۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے۔ ان میں اہل ایمان بھی ہیں ؛ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴾[آل عمران110]’’ اور ان کے اکثر نافرمان ہیں ۔‘‘

اس سے پہلے ارشاد فرمایا:

﴿ وَ لَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ ﴾[آل عمران 110]

’’ اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر تھا۔‘‘

پھر ارشاد فرمایا:﴿ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴾

’’ان میں سے کچھ مومن ہیں اور ان کے اکثر نافرمان ہیں ۔‘‘

پھر آگے چل کر ارشاد فرمایا:

﴿ لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی ﴾ [آل عمران 111]

’’وہ ہرگز آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتے ؛ مگر تھوڑی سی تکلیف ۔‘‘

یہ ضمیر ان تمام کی طرف لوٹتی ہے؛ اکثر کی طرف نہیں ؛ اسی لیے فرمایا:

﴿ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ ﴾[آل عمران 111]

’’ اور اگروہ تم سے لڑیں تو تمہیں پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں اور پھر ان کی کوئی مدد نہ کی جائے۔‘‘

وہ کبھی اس حال میں بھی لڑ سکتے ہیں کہ ان میں کوئی ایسا مؤمن ہو جو اپنا ایمان چھپا رہا ہو۔لیکن وہ معرکہ کے موقعہ پر ان کے ساتھ موجود ہو؛ اس کے لیے ہجرت کرنا ممکن نہ ہو۔ اور اسے لڑنے پر مجبور کیا گیا ہو۔ وہ بروز قیامت اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔

جیسے صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’ کعبہ پر ایک لشکر حملہ کرے گا جب وہ بیداء کھلے میدان میں پہنچیں گے، تو اول سے اخیر تک سب اس میدان میں دھنسا دئیے جائیں گے....آپ سے پوچھا گیا: یارسول اللہﷺ! ان میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو زبردستی لائے گئے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا :

صفحہ 16 از 18