فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 17 از 18

’’ انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔‘[جاء [ہذا الحدِیث مختصرا عن عائِشۃ رضِی اللّٰہ عنہا فِی: البخارِیِ:2؍149کتاب الحجِ باب ہدمِ الکعبۃِ، وجاء مطولا عنہا فِی: البخارِیِ:3؍65؛ کتاب البیوعِ، باب ما ذکِر ما فِی الأسواقِ، ونصہ: یغزو جیش الکعبۃ؛ فِذا انوا بِبیدا مِن الرضِ یخسف بأِولِہِم وآخِرِہِم۔قالت: قلت: یا رسول اللّٰہِ، کیف یخسف بأِولِہِم وآخِرِہِم، وفِیہِم سواقہم ومن لیس مِنہم؟ قال:’’ یخسف بِأولِہِم وآخِرِہِم، ثم یبعثون علی نِیاتِہِم۔ وروی النسائِی الحدِیث فِی سننِہِ:5؍162صحفہ؛ کتاب المناسِکِ، باب حرمِ الحرمِ ، وخصص ابن ماجہ باباً فِی سننِہِ لِہذِہِ الحادِیثِ:2؍1350؛ کتاب الفِتنِ، باب جیشِ البیدائِ، وفِی الحدِیثِ الأخِیرِ قالت أم سلمی: لعل فِیہِم المکرہ؟ قال: إِنہم یبعثون علی نِیاتِہِم۔ والحدِیث فِی المسندِ ؛ ط۔ الحلبِیِ:6؍318۔ 

یہ حکم ظاہر کے اعتبار سے ہے؛ جب کوئی قتل ہو جائے یا اس پر وہ حکم لگایا جائے جو حکم کفار پر لگایا جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیت پر اٹھائیں گے۔ جیسے ہم میں موجود منافقین کا حال ہے؛ ان پران کے ظاہر کے اعتبار سے اسلام کا حکم لگایا جاتا ہے؛ مگر انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا؛اور قیامت کے دن انہیں اس حساب سے بدلہ ملے گا جو ان کے دل میں ہوگا؛ نہ کہ محض ظاہر کے اعتبار سے۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت عباس سے مروی ہے: انہوں نے کہا: یارسول اللہﷺ ! میں مجبور تھا[مجھے زبردستی لایا گیا تھا ] تو آپ نے فرمایا: ’’ ظاہر میں تم ہمارے خلاف تھے۔ جب کہ تمہارے باطن کا معاملہ اللہ پر ہے ۔‘‘[أورد أحمد فِی مسندِہِ ط۔ المعارِفِ:5؍105؛ حدِیثا عنِ ابنِ عباس رضِی اللّٰہ عنہما جاء فِیہِمع اختلاف الألفاظ ،....الحدِیث، قال أحمد شاِکر رحِمہ اللہ: إِسنادہ ضعِیف۔] 

خلاصہ کلام! مسلمانوں کے مابین اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جو کوئی دار کفر میں ہو؛ اوروہ ایمان لے آئے؛ مگر ہجرت کرنے سے عاجز آ جائے؛ تو اس پر وہ امور شریعت واجب نہیں ہوتے جن پر عمل کرنے سے وہ عاجز آ گیا ہو۔بلکہ ان کا وجوب امکان کے اعتبار سے ہوتا ہے۔یہی حال اس کا بھی ہے جسے کسی چیز کے حکم کا پتہ ہی نہ ہو۔ پس اگر کسی کو معلوم نہ ہو کہ نماز اس پر واجب ہے؛ اور ایک مدت تک وہ ایسے ہی رہے؛ تو علماء کے ظاہر قول کے مطابق اس پر قضاء واجب نہیں ہوتی۔یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور اہل ظاہر کا مذہب ہے؛ اور احمدؒ کے ہاں بھی ایک توجیہ یہی ہے۔ اور یہی حکم دیگر تمام واجبات کا بھی ہے؛ جیسے رمضان کے روزے؛زکوۃ اداکرنا؛اور دیگر امور۔ اور اگر اسے شراب کی حرمت کا علم نہ ہو؛ اوروہ پی لے ؛ تو وہ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اس صورت میں اس پر حد نہیں لگے گی۔ ہاں نماز کی قضاء کے متعلق اختلاف ہے۔ ایسے ہی اگر کوئی سود یا جواء کا معاملہ کرے؛ اوروہ انہیں حلال خیال کرتا ہو؛پھر اسے ان کی حرمت کا علم مال قبضہ میں لینے کے بعد ہو جائے؛تو اب اختلاف ہے کیا یہ عقد فسخ ہوگا یا نہیں ؟ جیسے اگر اس نے یہ معاملہ اسلام سے پہلے کیا ہوتا تو فسخ نہ ہوتا۔ ایسے ہی اگر کوئی انسان ایسا نکاح کرے جس کے متعلق وہ اپنی عادت کے مطابق صحیح ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو؛ پھر اس تک شرائع اسلام پہنچ جائیں ؛ اور اسے پتہ چلے کہ اس نے نکاح میں بعض ِشروط پوری نہیں کیں ۔ جیسے اگر دوران عدت شادی کرلی ہو؛ اور اب عدت پوری ہوچکی ہو؛ تو کیا یہ نکاح فاسد ہوگا؛ یا اسے برقرار رہنے دیا جائے گا؟ جیسا کہ اگر اس نے اسلام سے پہلے نکاح کر لیا ہو ؛ اور پھر اسلام قبول کیا ہو؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ: کیا انسان پر وہ تمام شرائع لازم آتے ہیں جن کے بارے میں اسے علم نہ بھی ہو؟ یا پھر کسی کو علم ہونے کے بعد ہی اس پر کوئی چیز لازم آتی ہے۔ یا پھر شرائع ناسخ؛ او رشرائع مبتدیہ میں فرق کیا جائے گا؟اس مسئلہ میں تین اقوال ہیں اور امام احمدؒ کے مذہب میں بھی اس کی تین توجیہات ہیں ۔ قاضی ابو یعلیؒ نے مطلق طور پر اپنی کتاب میں ذکر کی ہیں ؛ اور تیسری وجہ ان کے مابین فرق کے طور پر اصول فقہ میں ذکر کی ہے۔ یہ کہ مکلف کے حق میں نسخ اس وقت تک ثابت نہیں ہوتا جب تک اسے ناسخ کا علم نہ ہو جائے۔ اور ابو الخطاب نے اس کے ثبوت کی توجیہات ذکر کی ہیں ۔

اسی باب سے یہ مسئلہ بھی تعلق رکھتا ہے کہ جب کوئی انسان لا علمی کی بنا پر واجب طہارت ترک کردے۔ یا پھر ایسی جگہ پر نماز پڑھ لے؛ جہاں پر نماز پڑھنا منع ہو؛ اوروہ اسے ایسی جگہ نماز کی ممانعت کا علم اس سے پہلے نہ ہو ؛ تو کیا وہ اس نماز کو دوہرائے گا یا نہیں ؟ اس میں امام احمدؒ  سے دو منصوص روایتیں ہیں ۔ اس پورے باب میں حق اور درست بات یہ ہے کہ:اس کے حق میں علم پر متمکن ہوئے بغیر کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا۔ او روہ ان چیزوں کی قضاء نہیں کرے گا جن کے واجب ہونے کا اسے علم نہ ہو۔

صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ کچھ صحابہ کرامؓ  نے رمضان مین طلوع فجر کے بعد اس وقت تک کھایا پیا جب تک کہ کالی ڈور سفید ڈور سے علیحدہ ہوگئی۔ مگر نبی کریمﷺ  نے انہیں قضاء کا حکم نہیں دیا۔[الحدِیث عن عدِیِ بنِ حاتِم وسہلِ بنِ سعد رضِی اللّٰہ عنہما فِی: البخارِیِ:6؍26کتاب التفسِیرِ باب سورۃِ البقرۃِ: وکلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الأبیض ؛مسلِم:2؍766؛ کتاب الصِیامِ، باب بیانِ أن الدخول فِی الصومِ یحصل بِطلوعِ الفجرِ ۔سننِ أبِی داود:2؍ڑ408 ؛ کتاب الصومِ، باب وقتِ السحورِ، سننِ الدارِمِیِ:2؍5؛ کتاب الصومِ باب متی یمسِک المتسحِر مِن الطعامِ والشرابِ۔] انہی میں اس انسان کا شمار بھی ہوتا ہے جو ایک عرصہ تک جنابت میں بے نماز ہے؛ اور اسے تیمم کر کے نماز پڑھنے کے جواز کا علم نہ ہو۔ جیسے حضرت عمر ابن خطاب؛ حضرت ابو ذر اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم ؛ جب انہیں جنابت لاحق ہوگئی؛ مگر نبی کریمﷺ نے ان میں سے کسی ایک کو قضاء کا حکم نہیں دیا۔

صفحہ 17 از 18