فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 18

⁴۔ مومنوں کی دعا سے بھی گناہوں کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

⁵۔ انبیاء کی شفاعت سے بھی گناہ دور ہو جاتے ہیں ۔

بہرکیف جن اسباب و وجوہ کی بنا پر افراد امت میں سے کسی کے گناہ کو معاف کیا جا سکتا ہے اور اس کی سزا کا ازالہ ممکن ہے صحابہؓ ان سب سے زیادہ اس امر کے مستحق ہیں کہ ان سے ذم و عتاب کو دور کیا جائے اور ان کے گناہوں کو معاف کیا جائے۔ اور صحابہ کرامؓ مدح و تعریف کے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔

ہم اس ضمن میں صحابہؓ اور دیگر افراد امت کے لیے ایک جامع قاعدہ ذکر کرتے ہیں ۔یہ ضروری ہے کہ انسان کو اس قاعدہ کلیہ کا علم ہو‘ تاکہ جزئیات کو اس کی طرف لوٹایا جائے ‘ تاکہ انسان علم کی روشنی میں عدل کے ساتھ بات کر سکے۔اور اسے جزئیات کے وقوع پذیر ہونے کی کیفیت کا بھی علم ہو ‘ ورنہ وہ ان جزئیات کے بارے میں ایسے ہی کذب و جہالت کا شکار رہے گا۔ کلیات و جزئیات میں جہالت اور ظلم کی وجہ سے بہت بڑا فساد اور شر پیدا ہوتا ہے ۔

قاعدہ جامعہ

عدل و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کے لیے بنی نوع انسان کے پاس کچھ قواعد کلیہ ہوتے ہیں جن پر رکھ کر جزئیات کو جانچا پرکھا جاتا ہے ۔ پھر جزئیات کو پہچانا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان جزئیات سے بے بہرہ رہتا اور کلیات کے بارے میں جہل و ظلم کا شکار ہو جاتا۔ جس سے عظیم فساد رونما ہوتا ۔ علماء نے مجتہدین کے خطاء و صواب اور گنہگار یا عدم گنہگار ہونے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ اس ضمن میں بیش قیمت قواعد نافعہ بیان کرتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ : لوگوں نے اصولی اور فروعی مسائل میں مجتہدین کو بجانب حق یا خطا پر کہنے میں بڑی لے دے کی ہے ؛ بعض نے انہیں گنہگار ٹھہرایا ہے ؛ اور بعض نے عدم گناہ کا کہا ہے ۔ مگر ہم اس بارے میں انتہائی جامع اور فائدہ مند اصولوں کا ذکر کرتے ہیں :

اصل اوّل کیا مجتہد کے لیے یہ ممکن ہے کہ اپنے اجتہاد کے بل بوتے پر معلوم کر لے کہ فلاں متنازع مسئلہ حق ہے؟ اور اگر یہ ممکن نہیں اور مجتہد انتہائی سعی و جہد کے باوجود حق کو نہ پاسکے اور کہے کہ میرے علم کی حد تک یہ حق ہے، حالانکہ وہ حق نہ ہو تو کیا اسے سزا دی جائے گی یا نہیں ؟ یہ اس مسئلہ کی اساس و اصل ہے ۔ علماء کے اس میں تین اقوال ہیں ۔ ہر قول کو اہلِ علم مناظرین کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے۔

پہلا قول: .... اللہ تعالیٰ نے ہر مسئلہ میں حق کی ایک دلیل مقرر کر رکھی ہے۔ جو شخص کما حقہ جہد و کاوش سے کام لیتا ہے وہ حق کو پالیتا ہے۔اور جو شخص کسی اصولی یا فروعی مسئلہ میں حق کو معلوم کرنے سے قاصر رہتا ہے؛ اس کی وجہ اس کا تساہل و تغافل ہے۔ قدریہ و معتزلہ یہی نظریہ رکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ متکلمین کا ایک گروہ بھی اسی کا قائل ہے۔

پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ: علمی مسائل پر قطعی دلائل موجود ہوتے ہیں جن سے ان کی پہچان ہو جاتی ہے۔ پس جو کوئی بھی ان ادلہ کو نہ جانتا ہو؛ تو اس کے لیے طلب حق میں اپنی سعت بروئے کار لانا ممکن نہیں ؛ پس وہ گنہگار ہوگا۔

شرعی عملی مسائل کے سلسلہ میں ان کے دو مذہب ہیں 

پہلا مذہب : یہ بھی شرعی علمی مسائل کی طرح ہیں ۔ اور بیشک ہر ایک مسئلہ پر ایک قطعی دلیل موجود ہوتی ہے ۔ اور اس کی مخالفت کرنے والا گنہگار ہوتا ہے۔ اوریہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں : اصلی اور فرعی ہر ایک مسئلہ میں ایک ہی فریق حق پر ہوتا ہے۔اور فریق برحق؍درست والے کے علاوہ باقی لوگ گنہگار ہوتے ہیں کیونکہ وہ خطا پر ہوتے ہیں ۔ ان کے نزدیک خطاء اور گناہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو لازم و ملزوم ہیں ۔ یہ قول بشر المریسی اور بہت سارے بغدادی معتزلہ کا ہے۔

بیشک عملی شرعی مسائل پر اگرچہ قطعی دلائل موجود ہوں ؛ تو پھر بیشک علمی مسائل کی طرح ان میں بھی مخالفت کرنے والا خطاکار اور گنہگار ہوگا۔ اور اگر اس پر کوئی قطعی دلائل نہ ہو تو اس کے باطن میں اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم نہیں ہوگا۔ ہر مجتہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم اس کے اجتہاد کے انجام کے اعتبار سے ہوگا۔ یہ لوگ پہلے قول والوں سے اس حدتک متفق ہیں کہ خطا اور گناہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں ۔ اور بیشک ہر خطاکار گنہگار ہوگا۔ لیکن اجتہاد مسائل میں انہوں نے مخالفت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں : اس سلسلہ میں کوئی قطعی بات نہیں ہے۔ اوران لوگوں کے نزدیک ظن پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ یہ تو بالکل انسانی نفس کے کسی ایک چیز کو چھوڑ کر دوسری چیز کی طرف میلان کی طرح ہے۔ پس یہ لوگ ظنی اعتقادات کو ارادہ کی جنس سے شمار کرتے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نفس امر میں حکمِ اجتہاد مطلوب نہیں ۔اور نہ ہی نفس الامر میں کوئی امارت کسی امارت سے زیادہ ارجح ہوتی ہے۔ یہ قول ابو ہذیل العلاف اور اس کے اتباع کاروں جیسے جبائی اور اس کے بیٹے کا قول ہے۔ اور اشعری کا بھی ایک مشہور قول یہی ہے۔ اور قاضی ابو بکر الباقلانی ؛ ابو حامد الغزالی؛ اور ابو بکر ابن العربی اور ان کے اتباع کاروں نے یہی قول اختیار کیا ہے؛یہ مسئلہ ہم کئی جگہ تفصیل سے بیان کر چکے۔

ان کے مخالف جیسے ابو اسحق اسفرائینی ؛اور دوسرے اشاعرہ ؛ اور ان کے علاوہ دیگر لوگ ؛ وہ کہتے ہیں : اس قول کی ابتداء دہوکہ بازی پر ہے اور انتہاء زندیقیت پر۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو کہتے ہیں : بیشک شرعی اجتہادی عملی مسائل میں ہر مجتہد ظاہر اور باطن میں حق پر ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ مجتہد غلطی پرہو؛ مگر یہ ہوسکتا ہے کہ اس پر بعض امور مخفی رہ گئے ہوں ۔ پس جو حکم کسی پر مخفی رہ جائے؛ وہ اس مجتہد اور اس کے امثال و ہمنواؤں کے حق میں اللہ تعالیٰ کا حق نہیں ہوسکتا۔ اور جو کوئی خطاء پر ہو؛ وہ قطعی مسائل میں بھی خطا پر ہے اور ان کے نزدیک وہ گنہگار ہے۔

دوسرا قول:....استدلال کرنے والا مجتہد بعض اوقات حق کی معرفت حاصل کر سکتا ہے اور بعض اوقات ایسا نہیں ہوسکتا۔ بصورت عجز اللہ تعالیٰ بعض اوقات اس کو سزا دیتے ہیں اور بعض اوقات نہیں ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں عذاب دیں اور جسے چاہیں بغیر کسی سبب کے معاف کر دیں ۔یہ تمام امور اس کی مشئیت محضہ کے تحت ہوتے ہیں ۔یہ جہمیہ واشاعرہ کا مذہب ہے اور مذاہب اربعہ کے اکثر اتباع بھی یہی نظریہ رکھتے ہیں ۔

صفحہ 2 از 18