فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 18

 پھر یہ لوگ کہتے ہیں : یہ بات یقیناً دلائل سے معلوم ہوچکی ہے کہ ہر کافر جہنم کی آگ میں ہو گا۔ اور ہم جانتے ہیں کہ بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ ہر کافر کو عذاب دیں گے۔ بھلے اس نے اجتہاد کیا ہو اوروہ دین اسلام کی صحت تک رسائی سے عاجز آ گیا ہو۔یا پھر اس نے اجتہاد نہ کیا ہو۔ جبکہ اختلاف کرنے والے مسلمان؛ اگرچہ ان کا اختلاف فروعی مسائل میں ہوتا ہے؛تو پھر بھی ان کی اکثریت یہی کہتی ہے کہ: ان مسائل میں کوئی عذاب کی بات نہیں ۔اور ان کے بعض لوگ کہتے ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ شارع نے ان چیزوں میں خطاء کو معاف رکھا ہے۔ اور سلف صالحین کے اجماع سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ اجتہاد میں خطا کا ارتکاب ہو جانے پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ اور بعض کہتے ہیں : ظنی مسائل میں خطا ممکن ہی نہیں ہوتی۔جیسا کہ جہمیہ اور اشاعرہ سے اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

 جب کہ قطعیات میں ان کی اکثریت خطا کار کو گنہگار کہتی ہے اوران کا کہنا ہے کہ: سماعت اس پر دلالت کرتی ہے۔ اور ان میں سے بعض اس پر گنہگار نہیں کہتے۔ یہ قول عبیداللہ بن الحسن العنبری سے حکایت نقل کیا گیا ہے۔اس کا معنی یہ ہے کہ: آپ اس امت کے خطا کار مجتہدین کو گنہگار نہیں ٹھہراتے۔ نہ ہی اصول میں اور نہ ہی فروع میں ۔ جب کہ اہل کلام اور اہل رائے دونوں گروہوں کے جمہور نے عبیداللہ کا یہ قول رد کیا ہے۔

 جبکہ ان کے علاوہ دوسرے حضرات کہتے ہیں : آئمہ فتوی اور سلف صالحین جیسے ابو حنیفہ : شافعی؛ اور ثوری اور داؤد بن علی اور ان کے علاوہ دیگر حضرات مجتہد خطا کار کو گنہگار نہیں کہتے ؛ نہ ہی اصولی مسائل میں اور نہ ہی فروعی مسائل میں ۔ جیسا کہ ان سے یہ قول ابن حزم او ردیگر علماء نے نقل کیا ہے۔ اسی لیے امام ابو حنیفہ اور امام شافعی اور دیگر علماء أھل ھواء کی گواہی قبول کرتے ہیں سوائے خطابیہ کے۔ یہ حضرات ان کے پیچھے نماز کو بھی جائز اور صحیح کہتے ہیں ۔جب کہ کافر کی گواہی مسلمانوں کے خلاف قبول نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ:صحابہ و تابعین اور ائمہ دین سے معروف قول یہی ہے۔ وہ خطاکار مجتہدین میں کسی کو بھی نہ ہی کافر کہتے ہیں اور نہ ہی فاسق ؛ اور نہ ہی گنہگار۔نہ ہی علمی مسائل میں اور نہ ہی عملی مسائل میں ۔

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ: ’’ اصولی اور فروعی مسائل میں فرق کرنا اہل بدعت اہل کلام کے اقوال میں سے ہے؛ جن کا تعلق معتزلہ ؛ جہمیہ اور ان کی ڈگر پر رواں فرقوں سے ہے۔یہ عقیدہ کچھ دوسرے لوگوں میں منتقل ہوا تو انہوں نے اصول فقہ میں اس پر گفتگو کی ہے۔ انہیں اس قول کی حقیقت کا کوئی علم نہیں ہوسکا اور نہ ہی انہوں نے اس پر کوئی غور و فکر کیا۔

 وہ کہتے ہیں : فروعی اور اصولی مسائل میں فرق کرنا اسلام میں ایک نئی ایجاد کردہ بدعت ہے۔ اس پر کتاب و سنت سے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ سلف صالحین میں سے بھی کسی ایک نے بھی کوئی ایسی بات نہیں کہی ۔ اور عقلاً بھی ایسا کہنا باطل ہے۔ اس لیے کہ اصولی اور فروعی مسائل میں تفریق کرنے والوں نے صحیح طرح سے ان کے مابین تفریق نہیں کی؛ جس کی وجہ سے دونوں اقسام باہم جدا ہو جاتیں ۔ بلکہ انہوں نے تین یا چار جتنے بھی اصول بیان کیے ہیں ؛ وہ سارے کے سارے باطل ہیں ۔

 ان میں سے کوئی کہتا ہے: اصولی مسائل وہ علمی اعتقادی مسائل ہیں جن میں صرف عقیدہ اور علم کی طلب کی جاتی ہے۔ اور فروعی مسائل وہ ہیں جن میں عمل طلب کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں : یہ فرق باطل ہے۔ پس بیشک عملی مسائل میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کے منکر کو کافر کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر نماز پنجگانہ کے وجوب کا منکر؛ ماہ رمضان کے روزوں اور زکواۃ؛ اور زنا ؛ سود اور ظلم اور فحاشی کے حرام ہونے کا انکار کرنا۔ اور علمی مسائل میں سے بعض ایسے ہیں جن میں اختلاف کرنے والے گنہگار نہیں ٹھہرتے۔ جیسے صحابہ کرامؓ کااختلاف کہ کیا محمدﷺ  نے اپنے رب کو دیکھا ہے یا نہیں ؟ اور بعض نصوص کے متعلق ان کے مابین اختلاف کہ کیا نبی کریمﷺ  نے یہ کچھ ارشاد فرمایا ہے یا نہیں ؟ اور پھر اس کے معانی سے کیا مراد ہے؟ اور جیسا کہ بعض کلمات میں بھی ان کا اختلاف ہے ؛ کیا یہ کلمات قرآن میں سے ہیں ؛ یا نہیں اور جیسا کہ قرآن و سنت کے بعض کلمات کے معانی میں ان کا اختلاف ہے ۔کہ کیا اللہ اور اس کے رسول کی مراد ایسے ایسے ہی تھی؟ اور جیسا کہ علم کلام کے دقیق مسائل میں لوگوں کا اختلاف ہے ؛ جیسے جوہر اور فرد کا مسئلہ ؛ اور تماثل اجسام؛ بقاء الاعراض ؛اور اس طرح کے دیگر مسائل ۔ ان میں نہ ہی کسی کو فاسق کہا جاتا ہے اور نہ ہی کافر ۔

کہتے ہیں : عملی مسائل میں علم بھی ہوتا ہے اور عمل بھی۔ جب ان میں غلطی قابل بخشش ہے: تو پھر وہ مسائل جن میں عمل کے بغیر صرف علم پایا جاتا ہے؛ زیادہ اولیٰ ہے کہ ان میں خطاء قابل بخشش ہو۔

 ان میں سے بعض کہتے ہیں : اصولی مسائل وہ ہیں جن پر قطعی دلیل پائی جائے اور فرعی وہ مسائل ہیں جن پر قطعی دلیل نہ ہو۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ: اس فرق میں بھی غلطی پائی جاتی ہے؛ بیشک بہت سارے عملی مسائل ہیں ایسے ہیں جن پر اہل علم کے ہاں قطعی دلیل پائی جاتی ہے۔ مگر دوسرے لوگ انہیں نہیں جانتے۔ اور ان میں سے بعض پر اجماع کی روشنی میں قطعی دلیل ہوتی ہے۔ جیسے ظاہری محرمات کا حرام ہونا۔ اور ظاہری واجبات کا واجب ہونا۔ پھر اگر کوئی انسان جہالت سے یا تأویل کی بنا پر ان کا انکار کرے تو اسے اس وقت تک کافر نہیں کہا جائے گا جب تک اس پر حجت قائم نہ کر لی جائے۔ جیسا حضرت عمرؓ کے عہد میں کچھ لوگ ایسے تھے جو شراب کو [تاویل کی بنا پر] حلال سمجھتے تھے؛ ان میں سے ہی حضرت قدامہ بھی تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے لیے شراب حلال ہے۔ لیکن صحابہ کرامؓ  نے انہیں کافر نہیں کہا۔حتیٰ کہ ان کے سامنے مسئلہ کھول کر بیان کیا گیا؛ اور ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی؛ تو انہوں نے توبہ کرکے اپنی غلطی سے رجوع کرلیا۔

صفحہ 3 از 18