فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 18

 رسول اللہﷺ  کے عہد مسعود میں صحابہ کے ایک گروہ نے طلوع صبح کے بعد اس وقت تک کھایا پایا یہاں تک کالا دھاگہ سفید دھاگے سے جدا نظر آنے لگا۔ مگر نبی کریمﷺ  نے انہیں گنہگار نہیں ٹھہرایا؛ کجا کہ ان کی تکفیر کی جاتی ۔ لیکن ان کی غلطی ایک قطعی غلطی تھی۔

ایسے ہی حضرت اسامہ بن زیدؓ کا مسئلہ بھی ہے؛ جنہوں نے ایک مسلمان کو غلطی سے قتل کردیا تھا۔ اس میں ان کی غلطی قطعی غلطی تھی۔

 ایسے ہی صحابہ کرامؓ  نے بکریوں کے ایک چرواہے کو پایا؛ اس نے تو کہا : میں مسلمان ہوں ؛ مگر ان لوگوں نے اسے قتل کرکے اس کے مال پر قبضہ کرلیا۔ ان کی یہ غلطی ایک قطعی غلطی تھی۔ اور ایسے ہی جب حضرت خالد بن ولیدؓ نے جب بنو جذیمہ کو قتل کردیا؛ اور ان کے اموال قبضہ میں کرلیے ؛ تو یقیناً وہ قطعی غلطی پر تھے۔ایسے ہی جن لوگوں نے سرگوشیاں سننے کی کوشش کی تھی ؛ اور حضرت عمارؓ جو کہ جنابت کی وجہ سے مٹی میں ایسے لوٹ پوٹ ہوئے تھے جیسے جانور ہوتا ہے؛ اور ایسے ہی وہ لوگ جنہیں جنابت لاحق ہوئی تھی؛ تو نہ ہی انہوں نے تیمم کیا اور نہ ہی نماز پڑھی ۔ یہ سبھی حضرات غلطی پر تھے۔

ہمارے اس زمانے میں اگر کسی دور دراز بستی کے لوگ اسلام قبول کر لیں ؛ اور انہیں حج کے فرض ہونے کا علم نہ ہو ؛ یاپھر انہیں شراب حرام ہونے کا علم نہ ہو۔ تو انہیں اس چیز پر حد نہیں لگائی جائے گی۔ یہی حکم ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ایسی جگہ پر پلے بڑھے ہوں جہاں جہالت کا غلبہ ہو۔

 جیسا کہ اس عورت کا واقعہ ہے جس نے حضرت عمرؓ کے عہد میں زنا بھی کیا؛ او راس کا اقرار بھی کیا ؛ تو عثمانؓ  نے فرمایا کہ : ’’یہ ایسے کھلے اعلانیہ اقرار کرتی ہے شاید کہ یہ زنا کے حرام ہونے کے حکم سے جاہل ہے۔‘‘ تو جب صحابہ کرامؓ  پر واضح ہوگیا کہ یہ زنا کو حلال سمجھتی ہے؛ تو اس پر کوئی حد نہیں لگائی۔ اور زنا کو حلال سمجھنا قطعی غلطی تھی۔

 ایسے ہی کوئی انسان جب کسی معاملہ میں قسم اٹھائے؛ اور وہ چیز اس کے اعتقاد کے برعکس ہو‘ تو جب اس پر حقیقت واضح ہو جائے تواس کا خطا کار ہونا تو قطعی ہوگا؛ مگر اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ اور اکثر لوگوں کے نزدیک اس پر کوئی کفارہ بھی نہیں ہے۔

ایسے ہی جو انسان اس اعتقاد اور سوچ سے کچھ کھا پی لے کہ ابھی طلوع فجر باقی ہے؛ تو پھر اس کی غلطی واضح ہو جائے کہ اس نے فجر کے بعد کھایا پیا ہے۔ تو وہ بالیقین قطعی خطا پر ہے مگر اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔لیکن اس روزہ کے قضاء کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایسے ہی جس کا خیال ہوکہ سورج غروب ہوگیا ہے؛ اور وہ افطار کرلے؛ پھر اس کے خلاف ظاہر ہو۔ ایسے مسائل بہت زیادہ ہیں ۔

اللہ تعالیٰ مومنوں کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

﴿رَبَّنَا لَا تُوَاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَانَا﴾ (البقرۃ:286)

’’اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول یا چوک ہو جائے تو ہم پر مواخذہ نہ کر۔‘‘

[تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ]میں نے ایسا کر دیا۔‘‘

[اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کے نسیان و خطاء کو معاف کر دیا ہے]اس میں قطعی اور ظنی میں کوئی فرق نہیں کیا۔ بلکہ اسے قطعی طور پر خطاء بھی نہیں کہا؛ ہاں اس صورت میں کہ اس کی خطاء قطعی اور یقینی ہو۔

 وہ کہتے ہیں : جس نے یہ کہا ہے کہ: کسی قطعی یا ظنی مسئلہ میں خطاء کا شکار ہونے والا گنہگار ہے؛ تو یقیناً اس نے کتاب و سنت اور قدیم اجماع امت کے خلاف کیا۔اور مزید یہ بھی کہتے ہیں : ’’کسی مسئلہ کا قطعی یا ظنی ہونا ؛ معتقدین کے احوال کے حساب سے ایک اضافی امر ہے۔ اور نہ ہی یہ نفس قول کا وصف ہے۔ بیشک انسان ایسی چیزوں کو قطعی کہتا ہے جن کا علم اسے ضروری طور پر حاصل ہو۔ یا پھر اس کے نزدیک اس کی سچائی نقل سے قطعی معلوم ہو۔ اور کسی دوسرے کو نہ ہی اس کا قطعی علم ہو اور نہ ہی ظنی ۔ بیشتر اوقات کوئی انسان ذہن و فطین ہوتا ہے؛ اس کا علمی اور ظنی ادراک بہت سریع [تیز] ہوتا ہے۔ اور وہ حق کو فوراً پہچان لیتا ہے؛ اور اسے وہ قطعی علم حاصل ہو جاتا ہے جس کی معرفت علمی یا ظنی کا دوسرا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ پس یہ قطعی اور ظنی ؛انسان تک پہنچنے والی ادلہ؛ اور اس کے استدلال پر دسترس کے اعتبار سے ہوتا ہے۔

 ان دونوں مسئلوں میں لوگوں کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں ۔ پس کسی مسئلے کا قطعی یا ظنی ہونا اس کی اور متنازعہ فیہ قول کے لیے کوئی لازمی صفت نہیں ہے کہ یہ کہا جائے: جس نے اس کے خلاف کیا؛ اس نے دلیل قطعی کے خلاف کیا۔بلکہ یہ مسئلہ میں غور وفکر کرنے والے؛ اور اس سے استدلال کرنے والے کے معتقد کے اعتبار سے ہے۔یہی تو وہ چیز ہے جس میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ تو معلوم ہوا کہ اس فرق کو نہ ہی رد کیا جاسکتا ہے او رنہ ہی اس کا الٹ کرنا ممکن ہے۔

کچھ علمائے کرامؒ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس میں ایک تیسرا فرق نکالا ہے۔ وہ کہتے ہیں : اصولی مسائل عقل کے ذریعہ سے معلوم شدہ ہیں ۔ پس ہر وہ علمی مسئلہ جس کا ادراک عقل بذات خود کرلے؛ یہی وہ مسائل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مخالف پر کفر یا فسق کا فتویٰ لگایا جاسکتا ہے۔جب کہ فرعی مسائل شریعت کے ذریعہ سے معلوم ہوتے ہیں ۔

پہلی قسم کی مسائل جیسے مسائل قضاء و قدر؛ اور دوسری قسم کی مثال: جیسے شفاعت اور کبیرہ گناہ کے مرتکب لوگوں کا جہنم سے نکالا جانا۔

صفحہ 4 از 18