فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 18

 تو ان سے کہا جائے گا: تم نے جو کچھ بیان کیا ہے؛ وہ پہلے مسئلہ کی ضد اور الٹ ہے۔ بیشک کفر اور فسق بھی شرعی احکام میں سے ہیں ۔یہ ایسے مسائل ہرگز نہیں ؛ جنہیں صرف عقل کی بنیاد پر معلوم کیا جاسکے۔پس کافر تو وہ ہوتا ہے جسے اللہ اور اس کا رسول کافر بتائیں ؛ اور فاسق وہ ہوتا ہے جسے اللہ اور اس کا رسول فاسق بتائیں ۔ جیسا کہ مسلمان اور مؤمن تو وہ ہوتا ہے جسے اللہ اور اس کا رسول مسلمان اور مؤمن بتائیں ۔ ایسے ہی عادل وہ ہوتا ہے جسے اللہ اور اس کا رسول عادل بتائیں ؛ اور معصوم الدم وہ ہوتا ہے جسے اللہ اور اس کا رسول معصوم الدم بتائیں ۔ اور آخرت میں سعید اور خوش بخت ہوگا جسے اللہ اور اس کا رسول خوش بخت بتائیں ؛اور بد بخت وہ ہوگا جسے اللہ اور اس کا رسول بد بخت بتائیں ۔ اور نماز و روزہ اور صدق اور حج میں سے وہ چیزیں واجب ہیں جنہیں اللہ اور اس کا رسول واجب بتائیں ۔وراثت کے مستحق وہ ہوتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کا رسول اس کے مستحق ٹھہرائیں ۔اور حد یا قصاص میں قتل کا مستحق وہ ہوگا جسے اللہ اور اس کا رسول اس کا مستحق؍مباح الدم ٹھہرائیں ۔اور مال خمس یا فئے کا مستحق وہی ہوگا جسے اللہ اور اس کا رسول اس کا مستحق بتائیں ۔اور دوستی اور دشمنی کے مستحق وہی لوگ ہیں جنہیں اللہ اور اس کا رسول اس کے مستحق بتائیں ۔حلال وہ ہے جو اللہ اور اس کا رسول حلال قرار دیں ؛ اور حرام وہ ہے جسے اللہ اور اس کا رسول حرام ٹھہرائیں ۔ دین وہ ہے جسے اللہ اور اس کا رسول شریعت قرار دیں ۔ یہ تمام مسائل شریعت سے ثابت ہیں ۔

وہ امور جو صرف عقل سے معلوم کئے جاسکتے ہیں جو طبیعیت سے تعلق رکھتے ہوں ۔ مثلاً یہ کہ فلاں مرض میں فلاں دوائی کار گر ہوتی ہے۔ بیشک ایسے امور تجربہ اور قیاس اور ان اطباء کی تقلید سے معلوم ہوتے ہیں جو تجربہ و قیاس سے معلوم کر چکے ہوں ۔ ایسے ہی حال حساب اور ہندسہ کے مسائل کا بھی ہے۔ یہ ان مسائل میں سے ہیں جنہیں عقل کے ذریعہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ایسے ہی جوہر اور فرد ؛ اور تماثل اجسام اور ان کے اختلاف اور اعراض کے بقاء کے جواز او رامتناع کے مسائل بھی ہیں ۔ پس یہ ایسے مسائل ہیں جو عقل کے ذریعہ سے معلوم کئے جاسکتے ہیں ۔

جب معاملہ ایسے ہی ہے تو پھر کسی انسان کا مسلمان یا کافر ہونا یا عادل یا فاسق ہونا؛ شرعی مسائل میں سے ہیں عقلی مسائل میں سے نہیں ۔ پس یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو کوئی رسول اللہﷺ  کی لائی ہوئی تعلیمات کے خلاف کرے؛ وہ تو کافر نہ ہو؛ مگر جو کوئی غیر نبی کے اس دعویٰ کہ:’’یہ چیز عقل سے معلوم ہے‘‘ کے خلاف کرے تو وہ کافر ہو جائے ۔ تو کیا کسی کو حساب ؛ طب اور دیگر دقیق کلام میں غلط کی وجہ سے کافر کہا جائے ۔

پس اگر یہ کہا جائے کہ: ’’وہ تمام لوگ جو ہر قسم کے عقلی مسائل میں مخالفت کرتے ہیں ؛ ان کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ہاں جو ان عقلی مسائل میں مخالفت کریں جن سے رسول اللہ کی صداقت معلوم ہوتی ہو۔ پس بیشک رسول اللہﷺ  کی صداقت کا علم پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ چند متعین مسائل ہیں ؛ جب انسان ان میں خطا کرتا ہے؛ اور اسے رسول اللہﷺ کی صداقت کا علم نہ ہو۔تو وہ کفار ہوگا۔

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ: رسول اللہﷺ کی تصدیق اختلافی مسائل میں چند متعین مسائل پر مبنی نہیں ہوتی۔ بلکہ جدید اہل کلام نے اسے صدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی بنیاد قرار ہی نہیں دیا تھا۔ جیسے معتزلہ اور جہمیہ میں سے ان لوگوں کا قول جو کہتے ہیں کہ: ’’ بیشک صداقت رسول کا علم اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ یہ عالم حادث ہے۔ اور اس کا علم اس وقت تک نہیں ہو سکتا جس وقت تک یہ علم حاصل نہ ہو جائے کہ ’’اجسام محدث ہیں ۔‘‘ اور اس کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک یہ علم نہ ہو کہ یہ دوسرے حوادث سے جدا نہیں ہوسکتے: یا تو وہ مطلق اعراض ہوں گے یا پھر اکوان ہوں گے یا پھر حرکات ہوں گے۔ اور ان کا حادث ہونا اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتا جب تک ایسے حوادثات کا علم نہ ہو جائے جن کی کوئی ابتداء نہیں ۔اور ان کی سچائی کا اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتا جب تک یہ علم نہ حاصل ہو جائے کہ ’’رب سبحانہ و تعالیٰ غنی اور بے نیاز ‘‘ ہیں ۔ اور اس کا غنی ہونا اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتا جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ جسم نہیں ہے۔

 ایسے ہی دیگر وہ امور جن کے بارے میں اہل کلام کے ایک طائفہ کا گمان ہے کہ وہ اصول ہیں ؛ کیونکہ وہ رسول اللہﷺ کی تصدیق کو متضمن ہیں ؛ اور ان کے بغیر آپ کی صداقت معلوم نہیں ہوسکتی۔ یہ امور رسول اللہﷺ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں اضطراری طور پر معلوم ہیں ؛ لیکن آپﷺ نے لوگوں کے ایمان کو ان امور پر موقوف نہیں کیا؛ اور نہ ہی لوگوں کو ان کی دعوت دی؛ اور نہ ہی کتاب و سنت میں ان کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ اور نہ ہی صحابہ کرامؓ نے ان کا کوئی ذکر کیا ۔ لیکن وہ اصول جن سے رسول اللہﷺ کی صداقت معلوم ہوتی ہے؛ وہ قرآن میں مذکور ہیں ؛ اور یہ امور وہ نہیں ہیں جو ان لوگوں نے بیان کئے ہیں ۔ یہ بات ہم کئی ایک مواقع پر بیان کر چکے ہیں ۔

یہ لوگ جنہوں نے اصول ایجاد کر لیے ہیں ؛ ان کا خیال ہے کہ ان کے بغیر رسول اللہﷺ  کی تصدیق ممکن نہیں ہے اور ان کی معرفت ایمان کے لیے شرط ہے۔ یا مختلف اعیان پر واجب ہیں ۔ یہ لوگ سلف صالحین اور آئمہ کے نزدیک اہل بدعت ہیں ۔ جمہور علماء جانتے ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے اصول شریعت اسلام میں ایک نئی بدعت میں ہے۔ لیکن بہت سارے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ عقلی رو سے یہ اصول بالکل صحیح ہیں ۔ جبکہ ائمہ ماہرین فنون اور ان کے متبعین جانتے ہیں کہ یہ اصول عقل کے لحاظ سے بھی باطل ہیں ۔ دین و شریعت میں بدعت ہیں : اور رسول اللہﷺ  کے لائے ہوئے پیغام سے ٹکراؤ رکھتے ہیں ۔

صفحہ 5 از 18