فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 18

 پس درایں صورت اگر خطا عقلی مسائل میں ہو؛ جن کے بارے میں کہتے ہیں کہ: یہ دین کے اصول ہیں : تو پھر جو لوگ ان خود ساختہ باطل اصولوں پر چلتے ہیں جو کہ عقل میں باطل ؛ اور شریعت میں بدعت ہیں ؛ تو وہی لوگ کفار ہیں ؛ ان کے مخالفین نہیں ۔ اور اگر ان امور میں خطا کفر نہیں ہے؛ تو پھر ان کے مخالفین کو بھی کافر نہیں کہا جاسکتا۔ تواس سے یہ ثابت ہوا کہ ہر دو صورتوں میں وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم میں کافر نہیں ہیں ۔

 لیکن اہل بدعت کا طریقہ کار یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے اقوال ایجاد کر لیتے ہیں : اور پھر انہیں دین میں واجب قرار دیتے ہیں ؛ یہی نہیں بلکہ انہیں ایمان قرار دیتے ہیں ؛ جس کا ہونا از بس ضروری ہو؛اور پھر جو کوئی ان کی مخالفت کرے ؛ اسے کافر کہتے ہیں ۔ اور ان کے خون کو حلال قرار دیتے ہیں ؛ جیسے خوارج ؛ جہمیہ ؛ روافض اور معتزلہ اور دیگر اہل بدعت فرقوں کا طریق کار ہے۔

جب کہ اہل سنت والجماعت نہ ہی اپنی طرف سے عقائد ایجاد کرتے ہیں ؛ اور نہ ہی اجتہاد میں خطاء کے مرتکب کو کافر کہتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا مخالف انہیں کافر اور حلال الدم سمجھتا ہو۔ اوروہ اپنے مخالفین دیگر مسلمانوں کو بھی حلال الدم سمجھتے ہوں ۔

 ان مسائل میں ان متکلمین کا کلام کسی کی تصویب یا خطاء کاری کا حکم؛ گنہگار ہونے کا حکم لگانا یا اس کی نفی کرنا ؛ تکفیر اور اس کا انکار ؛ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے اصولوں کی بنیاد اپنے متقدمین قدریہ کے اقوال و عقائد پر رکھی ہے؛ جو ہر استدلال کرنے والے حق کی معرفت پر قادر سمجھتے ہیں ۔ اور ہر اس انسان کو عذاب کا مستحق سمجھتے ہیں جو ان کی معرفت حاصل نہ کرسکے۔ اوران جہمیہ کے عقائد پر ہے؛ جو کہتے ہیں : انسان کو اصل میں کوئی بھی قدرت حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ محض اپنی مشئیت و ارادہ سے جس کو چاہے عذاب دیں ۔ وہ ایسوں کو بھی عذاب دے سکتا ہے جس نے کبھی کوئی بھی گناہ نہ کیا ہو۔ اور کفر و فسق کے مرتکب کو اپنے انعامات سے نواز سکتا ہے۔ بہت سارے متأخرین نے اس عقیدہ میں ان لوگوں کی موافقت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’’یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ بچوں اور پاگلوں کو عذاب دے؛ اگرچہ انہوں نے دنیا میں کوئی بھی گناہ نہ کیا ہو۔ اور پھر ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو دو ٹوک الفاظ میں آخرت میں کفار کے بچوں کو عذاب دیے جانے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ اور ان میں سے بعض اسے جائز کہتے ہیں ؛ اور کہتے ہیں : ہم نہیں جانتے کہ آخرت میں کیا ہوگا۔اور ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ: اللہ تعالیٰ کے لیے جائز ہے کہ وہ اہل قبلہ میں سے کسی فاسق ترین انسان کو بغیر کسی سبب کے بخش دے؛ اور کسی نیک انسان کو کسی معمولی سی غلطی پر مبتلائے عذاب کردے۔ بھلے اس کی نیکیاں پہاڑوں کے برابر ہوں ؛ اس کے لیے کسی سبب کا ہونا ضروری نہیں ہے؛ بلکہ اللہ تعالیٰ صرف اپنی مرضی اور چاہت سے ایسا کرسکتے ہیں ۔

 ان دونوں گروہوں کی اصل یہ ہے کہ: بیشک قادر اور مختار دو متماثلین میں سے کسی ایک کو دوسرے پر بغیر کسی وجہ کے ترجیح دے سکتا ہے۔ لیکن جہمیہ کہتے ہیں : وہ ہر ایک واقع ؍حادث میں بلا کسی مرجّح کے ترجیح دے سکتا ہے۔ اور قدریہ ؛ معتزلہ اورکرامیہ اور فقہاء و اہل حدیث اور صوفیہ کے کئی گروہ او ران کے علاوہ دیگر حضرات کہتے ہیں : احداث و ابداع کی اصل ترجیح بلا مرجح پر تھی۔ مگر اس کے بعد اسباب اور حکمت کو تخلیق کیا؛ اور حوادث کو ان کے ساتھ معلق کردیا۔

 ظلم کے بارے میں جبریہ ؛ قدریہ اور جہمیہ کا اختلاف ہے۔ قدریہ کہتے ہیں : ظلم اس کے حق میں بھی وہی چیز ہے جسے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے مابین ظلم کے نام سے جانتے ہیں ۔ اور جب یہ کہا جائے کہ: وہ بندوں کے افعال کا خالق ہے؛ اور جو کچھ بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اس کی مشئیت اور ارادہ سے پیش آتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ: وہ گنہگار کو عذاب دے گا؛[تو کیا]یہ ظلم بھی ہمارے ظلم کی طرح ہوگا؟یہ لوگ اپنے آپ کو عدلیہ کہتے ہیں ۔ اور جہمیہ کہتے ہیں : اس کے حق میں ظلم وہ چیز ہے جس کا وجود ممتنع ہو۔ پس جس چیز کا بھی وجود ممکن ہو؛ وہ ظلم نہیں ہے۔ پس بیشک ظلم یا تو ایسے حکم کی مخالفت کو کہا جاتا ہے جس کا کرنا واجب ہو؛ یا بھر کسی دوسرے کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے کو ظلم کہتے ہیں ۔ پس انسان کے بارے میں تو کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے رب کے حکم کی مخالفت کی؛ اور اس لیے کہ وہ کسی دوسرے کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرتا ہے۔ مگر رب سبحانہ و تعالیٰ ہر حکم دینے والے سے بھی اوپر اور بلند و بالا ہیں ۔ اور اس کے بغیر کسی کی کوئی ملکیت نہیں ۔ بلکہ وہ جو بھی تصرف کرتا ہے؛ وہ اپنی ہی ملکیت میں تصرف کرتا ہے۔پس جو بھی ممکن ہے؛ وہ ظلم نہیں ہے۔ بلکہ اس نے فرعون اور ابو جہل اور ان کے امثال کافروں اور نافرمانوں پر اپنی نعمتیں کی تھیں ۔اور حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت محمدﷺ  اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اور اپنی اطاعت کرنے والوں کو تکلیف دی۔ اور اس کا الٹ بھی ہوا۔ یہ تمام اس کی نسب سے برابر ہیں ۔ لیکن جب اس نے خبر دی ہے کہ وہ اپنے اطاعت گزاروں پر انعام کرے گا؛ اور نافرمان کو عذاب دیتا ہے؛ تو یہ معاملہ اس خبر صادق کی وجہ سے معلوم الوقوع ہو گیا۔ کوئی اور سبب نہیں تھا جو اس کا تقاضا کرتا ہو۔ اعمال ثواب یا عقاب پر علامت ہیں : اس کے اسباب میں سے نہیں ہیں ۔

 یہ جہم اور اس کے ساتھیوں ؛اور ان کی موافقت کرنے والوں جیسے اشعری ؛ اور اس کے موافقین اتباع فقہاء اربعہ اور صوفیاء اور دیگر لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے یہ لوگ اس بات کو جائز کہتے ہیں کہ: وہ حق کی معرفت سے عاجز انسان کو عذاب دے؛ بھلے اس نے معرفت حق کی کوشش بھی کی ہو۔ پس ان لوگوں کے نزدیک نفس امر میں حوادث کے لیے نہ ہی اسباب ہوتے ہیں اور نہ ہی حکمت۔ اور نہ ہی افعال میں کوئی ایسی صفات پائی جاتی ہیں جن کی وجہ یہ مامور یا ممنوع ہوتے ہیں ۔ بلکہ ان کے نزدیک ممتنع ہے کہ اس کی تخلیق اور حکم میں علت نام کی کوئی چیز ہو۔ 

صفحہ 6 از 18