فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 18

جب کہ قدریہ بندوں پر قیاس کرتے ہوئے اس کے لیے شریعت میں حلال و حرام کو واجب ٹھہراتے ہیں ۔ ہم نے کئی ایک مواقع پر ان دونوں گروہوں کے عقائد پر بات کی ہے۔اور اس کتاب میں بھی اس سلسلہ میں ایک پوری فصل بیان کی ہے۔ جو کہ پہلے گزر چکی ہے۔ جب ہم نے اس رافضی پر اس قول میں رد کیا تھا جو اس نے جہمیہ اور جبریہ کا عقیدہ تمام اہل سنت و الجماعت کی طرف منسوب کیا تھا۔ اور ہم نے کھلے لفظوں میں واضح کیا تھا کہ اس مسئلہ کا امام یا تفضیل سے کوئی تعلق ہی نہیں ۔ بلکہ شیعہ میں بھی بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو جبریہ اور قدریہ کا عقیدہ رکھتے ہیں ؛اور اہل سنت میں بھی ہر دو عقائد کے لوگ موجود ہیں ۔

یہاں پر مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ: بیشک متنازعین کے کلام میں تصویب کرنا؛ کہ وہ دونوں حق پر ہیں ؛ یا خطأ پر ہیں ؛ یا انہیں ثواب ملے گا؛ یا عقاب ہوگا؛ وہ دونوں مؤمن ہیں یا کافر ہیں ۔ یہ سب کچھ ان تمام مسائل اور دیگر مسائل کے لیے عام اور شامل اصول کی فرع ہے۔

تیسرا قول .ہر مجتہد حق کو معلوم کرنے پر قادر نہیں اور نہ ہی وعید کا مستحق ہے۔ بخلاف ازیں وہی مجتہد وعید کا مستحق ہو گا جو کسی فعل مامور کو ترک کر دے یا فعل محظور کا مرتکب ہو۔ یہ فقہاء ائمہ کا قول ہے، سلف صالحین اور جمہور اہل اسلام اسی کے قائل ہیں پہلے دونوں اقوال میں جو صحیح بات پائی جاتی ہے۔ یہ قول ان کا جامع ہے۔پہلے قول میں ان جہمیہ کی بات بھی درست ہے جو اس مسئلہ میں سلف صالحین اور جمہور کے عقیدہ کے موافق ہیں ؛ اوروہ یہ ہے کہ: ’’ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہر وہ انسان جو طلب اور کوشش کرے؛ اور اجتہاد کرے؛ تو وہ اس مسئلہ میں حق کی معرفت پر متمکن بھی ہو جائے۔یقیناً لوگوں کی صلاحیات مختلف ہوتی ہیں ۔ 

قدریہ کہتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے تمام مکلفین کو برابر قدرت دی ہے۔ اس میں مؤمن کے لیے کافروں پر اس وقت تک کوئی وجہ فضیلت نہیں ہے حتی کہ وہ ایمان لے آئیں ۔ اور ایسے ہی اطاعت گزاروں کو نافرمانوں پر اس تک کوئی فضیل نہیں ہے جب تک وہ اطاعت گزاری نہ کر لیں ۔

یہ قدریہ اور معتزلہ اور ان کے علاوہ دیگر ان فرقوں کا عقیدہ ہے جو کتاب و سنت اور اجماع سلف صالحین اور عقل صریح کے مخالف ہیں ۔ جیسا کہ یہ موضوع کئی مقامات پر تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں : بیشک ہر استدلال کرنے و الے کو قدرت تامہ حاصل ہوتی ہے حتیٰ کہ وہ حق کی معرفت حاصل کر لے۔

 یہ بات معلوم شدہ ہے کہ:جب دوران سفر لوگوں پر قبلہ مشتبہ ہو جائے تو وہ تمام اس بات کے مامور ہیں کہ اجتہاد کرکے قبلہ کی جہت پر استدلال کریں ۔ پھر ان میں سے بعض قبلہ کا رخ پہچاننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ اور بعض اس سے عاجز آ کر غلطی کر بیٹھتے ہیں ۔ بعض جگہ پر یہ گمان ہوتا ہے کہ قبلہ کا رخ اس طرف ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں نکلتی۔ مگر اس کے باوجود وہ انسان اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار ہے؛ غلط رخ نماز پڑھنے پر اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر کا مکلف نہیں ٹھہراتے۔ پس اس جہت کے  معلوم کرنے سے عاجز آ جانا بالکل ویسے ہی ہے جیسے کسی انسان کو جہت قبلہ تو معلوم ہو؛ مگر وہ اس طرح رخ کرنے سے عاجز آ جائے۔ جیسے کوئی قید میں ہو؛ اسے ایسی حالت میں باندھا گیا ہو؛ یا پھر اسے خوف محسوس ہو رہا ہو۔ اوروہ مریض جس کے لیے قبلہ رخ کرنا ممکن نہ ہو۔

اصل ثانی .اصل ثانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اسی شخص کو سزا دے گا جو ترک مامور یا فعل محظور کی بنا پر اللہکی نافرمانی کرے۔معتزلہ اس اصول میں اہل سنت و الجماعت کے ساتھ یک زبان ہیں ۔بخلاف جھمیہ اور ان کی راہ پر چلنے والے اشاعرہ اور دیگر فرقوں کے۔جو کہتے ہیں کہ:’’وہ ایسوں کو بھی عذاب دے گا جن کا کوئی گناہ نہ ہو۔‘‘ اور اس طر ح کے دیگر اقوال بھی ہیں ۔ 

پھر یہ لوگ معتزلہ کے خلاف عقلی ایجاب و تحریم پر اس آیت سے دلیل پیش کرتے ہیں :

﴿ وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا﴾ (الإسراء15)

’’ اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں ، یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں ۔‘‘

یہ آیت بھی ان کے خلاف عذاب کی نفی میں ایسے ہی حجت ہے؛ مگر رسولوں کے مبعوث کردینے کے بعد۔ جب کہ وہ رسولوں کو مبعوث کرنے سے پہلے بھی لوگوں کو عذاب دیے جانے کے قائل ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ: جن کی طرف رسولوں کو مبعوث نہیں کیا گیا؛ ہ بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں جن کا قبیح ہونا عقلی طور پر معلوم ہے؛ اسے لیے انہیں عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ معتزلہ وغیرہ کہتے ہیں : ایسے لوگوں کو بھی عذاب ہوگا جنہوں نے کبھی کوئی قبیح حرکت نہ کی ہو؛ جیسے چھوٹے بچے۔

یہ بات کتاب و سنت کے بھی خلاف ہے۔کیونکہ فرمان الٰہی تو یہ ہے :

﴿ وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا﴾ (الإسراء15)

’’ اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں ، یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ آگے کے بارے میں فرماتے ہیں :

﴿کُلَّمَا اُلْقِیَ فِیْہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَتُہَا اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیرٌ () قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَائَنَا نَذِیرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ اِِنْ اَنْتُمْ اِِلَّا فِیْ ضَلاَلٍ کَبِیْرٍ﴾ [الملک8۔9]

’’ جب بھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے کیا تمھارے پا س کوئی ڈرانے والا نہیں آیا؟وہ کہیں گے کیوں نہیں ؟ یقیناً ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔‘‘

اللہ سبحانہ و تعالیٰ یہاں پر عمومی الفاظ میں خبر دے رہے ہیں کہ:’’ جب بھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا، تو جہنم کے داروغے ان سے پوچھیں گے: کیا تمھارے پا س کوئی ڈرانے والا نہیں آیا؟

تو وہ ان کے آنے کا اعتراف کریں گے ؛ اور کہیں گے: کیوں نہیں ؟ یقیناً ہمارے پاس ڈرانے والا آیا۔ تو پھر کوئی گروہ ایسا نہیں ہوگا جسے جہنم میں ڈالا جائے مگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو۔ جیسے فرمان الٰہی ہے:

﴿ لاََمْلاََنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ ﴾ (ص85) 

صفحہ 7 از 18