فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 18

’’میں ضرور بالضرور جہنم کو تجھ سے اور تیری پیروی کرنے والوں سے بھر دوں گا۔‘‘

اللہ سبحانہ و تعالیٰ قسم اٹھا رہے ہیں : کہ جہنم کو ابلیس اور اس کے اتباع گزاروں اور پیروکاروں سے بھرا جائے گا۔ اس کے پیروکار وہ ہیں جو اس کی بات مان کر چلتے ہیں ۔ پس جو کوئی گناہ کا نہیں کرتا؛ وہ اس کی اطاع سے گریز کرتا ہے۔ تو پھر اس کا شمار بھی ان میں نہیں ہوگا جن سے جہنم بھری جائے گا۔ جب جہنم اس کے پیروکاروں سے بھری ہوگی تو پھر کسی دوسرے کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

صحیحین میں حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’ لوگ مسلسل جہنم میں ڈالے جا رہے ہوں گے؛ اور جہنم کہتی جائے گی کہ:’’ اور کچھ باقی ہے؟ یہاں تک کہ رب العالمین اس میں اپنا پاؤں رکھ دیں گے۔ تو اس کے حصے آپس میں مل کر سمٹ جائیں ، پھر وہ کہے گی: کافی ہوگیا؛ کافی ہوگیا۔‘‘ جبکہ جنت میں جگہ باقی بچ جائے گی؛حتی کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوسری مخلوق پیدا کرے گا اور ان کو جنت کی بچی ہوئی جگہ میں ٹھہرائے گا۔‘‘[صحیح بخاری:جلد2: ح: 2058]

صحاح میں کئی اسناد سے یہ حدیث یونہی روایت کی گئی ہے؛بخاری کی بعض اسناد میں غلطی واقع ہوئی ہے۔ وہاں پر ہے: ’’جبکہ جہنم میں جگہ باقی بچ جائے گی ۔‘‘جبکہ بخاری کی تمام اسناد میں ہر جگہ پر صحیح الفاظ میں روایت کیا گیا ہے۔ اور آپ نے ایسے اس لیے کیا ہے تاکہ راوی کی غلطی کو واضح کرسکیں ؛ جیسا کہ ایسے مواقع پر آپ کی عادت ہے ۔جب کسی راوی سے الفاظ میں غلطی ہو جائے تو آپ ان الفاظ کو ذکر کرتے ہیں جو سارے راویوں کے ہاں منقول ہوتے ہیں ؛ اس سے صحیح بات کا پتہ چل جاتا ہے۔ میرے علم کے مطابق بخاری میں کہیں پر کوئی ایسی غلطی واقع نہیں ہوئی جس کی اصلاح بھی انہوں نے نہ کردی ہو۔ بخلاف صحیح مسلم کے؛ ان کی صحیح میں کئی احادیث کے روایت کرنے میں غلطی واقع ہوئی ہے۔ جن کی وجہ سے کئی حفاظ حدیث نے صحیح مسلم میں ان احادیث پر بہت سخت نکیر کی ہے۔ جبکہ صحیح بخاری کی بعض روایات کی تخریج پر کچھ اہل علم نے اعتراض و نکیر کی ہے؛ لیکن حق یہ ہے کہ اس میں امام بخاریؒ کی بات ہی درست ہے۔ اور ان دونوں حضرات کی جن احادیث پر اعتراض کیا گیا ہے؛ وہ بہت ہی کم ہیں ۔ جب کہ ان کے باقی تمام متون کی صحت و درستگی؛ ان کی تصدیق اور قبول پر علماء و محدثین کا اتفاق ہے؛اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ یٰا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا قَالُوْا شَہِدْنَا عَلٰٓی اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ شَہِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَo ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَھْلُہَا غٰفِلُوْنَ ﴾ [الانعام 130۔131]

’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا تمھارے پاس تم میں سے کوئی رسول نہیں آئے، جو تم پر میری آیات بیان کرتے ہوں اور تمھیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں ؟ وہ کہیں گے ہم اپنے آپ پر گواہی دیتے ہیں اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ یقیناً وہ کافر تھے۔یہ اس لیے کہ بے شک تیرا رب کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ، جب کہ اس کے رہنے والے بے خبر ہوں ۔‘‘

ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں سے خطاب کیا ہے؛ اور مخاطبین نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے رسول آئے تھے؛ جو انہیں قیامت کے دن سے ڈراتے اور انہیں آیات پڑھ پڑھ کر سناتے۔ پھر فرمایا:

﴿ ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَھْلُہَا غٰفِلُوْنَ ﴾

’’یہ اس لیے کہ بے شک تیرا رب کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ، جب کہ اس کے رہنے والے بے خبر ہوں ۔‘‘

یعنی اس کا سبب یہ ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ کسی غافل کو اس وقت تک عذاب نہ دیا جائے گا جب تک ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آ جائے۔ تو پھر اس بچے کو کیسے عذاب دیا جاسکتا ہے جسے کوئی عقل ہی نہ ہو۔

ظلم و جور سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ 

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم و جور سے منزہ اور پاک ہیں ۔ اگر ظلم بذات خود ممتنع ہوتا پھران کو ظلم سے ہلاک کرنے کاتصور بھی نہ کیا جاسکتا۔ بلکہ انہیں جیسے بھی ہلاک کیا جاتا تو جبریہ جہمیہ کے نزدیک ان پر کوئی ظلم نہ ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

﴿وَ مَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا وَّتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِنَا وَ مَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرٰٓی اِلَّا وَ اَھْلُہَا ظٰلِمُوْنَ ﴾ [القصص 59]

’’اور تیرا رب کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ، یہاں تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول بھیجے جو ان کے سامنے ہماری آیات پڑھے اور ہم کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر جب کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَھْلُہَا مُصْلِحُوْنَ ﴾(ہود 117)

’’ اور تیرا رب ایسا نہ تھا کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے، اس حال میں کہ اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَ۔لَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا ہَضْمًا ﴾ (طہ 112)

’’ اور جو شخص اچھی قسم کے اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو وہ نہ کسی بے انصافی سے ڈرے گا اور نہ حق تلفی سے۔‘‘

مفسرین کرامؒ فرماتے ہیں : ظلم یہ ہے کہ کسی انسان پر دوسرے کے گناہوں کا بوجھ ڈال دیا جائے اور ہضم : یہ ہے کہ: اس کی نیکیوں کو کم کردیا جائے۔تو اللہ تعالیٰ نے انسان کی سزا کو ظلم پر مبنی نہیں بنایا۔ بلکہ اپنی ذات گرامی کا ظلم و ستم سے منزہ ہونا بیان کیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ﴾[البقرۃ 286]

’’ اس کے نیک عمل اس کے لیے؛ اور برے اعمال کا بوجھ بھی اسی پر۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 8 از 18