فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 18

﴿وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ﴾[الانعام 164

’’کسی جی پر کسی دوسرے گنہگار کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔‘‘

اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قَالَ لاَ تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِِلَیْکُمْ بِالْوَعِیْدِo مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَا اَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیدِo ﴾[ق : 28، 29]

’’ فرمایا میرے پاس جھگڑا مت کرو، حالانکہ میں نے تو تمھاری طرف ڈرانے کا پیغام پہلے بھیج دیاتھا ۔ میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا نہیں ۔‘‘

تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ:انہوں نے پہلے وعید بھیجی ہے؛ اوروہ کسی پر ہرگز ظلم کرنے والے نہیں ۔جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآئِ الْقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیْکَ مِنْہَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌo وَ مَا ظَلَمْنٰہُمْ وَ لٰکِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْہُمْ اٰلِہَتُہُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ لَّمَّا جَآئَ اَمْرُ رَبِّکَ وَ مَا زَادُوْہُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍo﴾[ھود: 100، 101]

’’ یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم تجھے بیان کرتے ہیں ، ان میں سے کچھ کھڑی ہیں اور کچھ کٹ چکی ہیں ۔ اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن انھوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، پھر ان کے وہ معبود ان کے کچھ کام نہ آئے جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب تیرے رب کا حکم آ گیا اور انھوں نے ہلاک کرنے کے سوا انھیں کچھ زیادہ نہ دیا۔‘‘

پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ ظلم و جبر سے اپنی ذات کی پاکیزگی بیان فرماتے ہیں ؛ اور یہ واضح کرتے ہیں کہ لوگ شرک کرکے خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں ؛جو کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا نہ ہو؛ اسے سزا دینا ظلم ہوگا۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ ظلم سے بالکل منزہ اور پاک ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَo لاَ یُفَتَّرُ عَنْہُمْ وَہُمْ فِیْہِ مُبْلِسُونَo وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلٰ۔کِنْ کَانُوْا ہُمْ الظٰلِمِیْنَ o﴾[الزخرف :74 تا 76]

’’بے شک مجر م لوگ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔ وہ ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں ناامید ہوں گے۔اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ خود ہی ظالم تھے۔‘‘

ظلم کے امکان اور امتناع کا مسئلہ 

یہی وہ ظلم ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو منزہ قرار دیا ہے؛ اگر یہ ظلم ممتنع ہوتا؛ اس کا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ممکن نہ ہوتا ؛ تو پھر اس کی نفی یا انکار میں کون سا فائدہ مضمر تھا۔ تو پھر کیا کسی کو خوف ہوتا کہ اس کے ساتھ کوئی ظلم ہوگا۔ ؟ اور پھر اس میں تنزیہ والی کونسی سی بات ہوتی۔ اور جب یہ کہا جائے کہ: اللہ تعالیٰ صرف وہی چیز کر سکتے ہیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہیں ؛ تو جواب یہ ہے کہ: یہ بات تو سبھی کو معلوم ہے؛ ہر ایک وہی کچھ کرسکتا ہے جس پر وہ قدرت رکھتا ہو۔ تو پھر اس میں مدح والی کون سی بات ہوئی جس کی وجہ سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ باقی تمام جہانوں کی مخلوق سے جدا اور ممتاز ہوئے۔

تو اس سے معلوم ہوا کہ ممکن امور میں سے ظلم بھی ہے؛ جس پر قدرت اور اس کی استطاعت کے باوجود اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات گرامی کی تنزیہ اور پاکیزگی بیان کی ہے؛ اور اس چیز پر اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد و ثناء بیان کی جاتی ہے۔ بلاشک حمد و ثناء اختیاری امور کے کرنے یا ترک کرنے پر ہوتی ہے۔ جیساکہ قرآن مجید میں عموماً حمد و ثناء بیان ہوئی ہے۔ اور شکر اس سے تھوڑا خاص معنی رکھتا ہے۔ شکر نعمتوں پر ہوتا ہے اور مدح اس کی نسبت عام ہوتی ہے۔ ایسے ہی تسبیح میں تعظیم اور تنزیہ پائی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کی جاتی ہے تو یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کے لیے جمع کر دیے جاتے ہیں ۔ یہ باتیں ہم اپنی جگہ پر تسبیح اور تحمید کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کر چکے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ﴾ ( الانبیاء 26)

’’اور انھوں نے کہا رحمان نے اولاد بنا لی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ وہ اس کے عزت دار بندے ہیں ۔‘‘

پس افعال میں سے کسی ایک فعل کو اپنانا بھی فعل ہے؛ جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ و تقدیس بیان کی ہے؛ پس اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کچھ افعال ایسے بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کی ہے۔ اور جبریہ کسی بھی فعل سے اللہ تعالیٰ کو منزہ نہیں مانتے ۔

جامع ترمذی میں روایت کردہ حدیث بطاقہ ہے؛ جسے امام ترمذیؒ نے صحیح کہا ہے؛ اور امام حاکم نے بھی اسے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے؛ اس میں ہے:

’’اور اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر کھولے جائیں گے۔ ہر دفتر اتنا بڑا ہوگا جہاں تک انسان کی نگاہ پہنچتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ....آج تجھ پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ تیرے لیے کاغذ کا ایک ٹکڑا ہمارے پاس ہے ۔‘‘

پھر کاغذ کا وہ ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس پر کلمہ شہادت لکھا ہوگا۔....پھر ایک پلڑے میں وہ ننانوے دفتر رکھ دیئے جائیں گے اور دوسرے پلڑے میں کاغذ کا وہ پر زہ رکھا جائے گا۔ دفتروں کا پلڑا ہلکا ہوجائے گا جبکہ کاغذ [کا پلڑا]بھاری ہوگا۔‘‘ [الترمذی جلد 2: ح: 548]

یہ الفاظ ’’آج تم پر کوئی ظلم نہ ہوگا‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے ان نیکیوں کا بدلہ نہ دیتے؛ اور اس کی نیکیوں کو برائیوں کے ساتھ نہ تولا جاتا ؛ تو یہ ظلم ہوتا؛ مگر اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور بری ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عدل کرنے والے اور عدل و انصاف کو قائم رکھنے والے ہیں ۔یقیناً اللہ تعالیٰ فرما چکے ہیں :

﴿وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰہَا وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ﴾ [الکہف 49]

صفحہ 9 از 18