امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 8

آپ کی کتاب فضائل صحابہ میں دونوں قسم کی اسناد پائی جاتی ہیں ۔ اور اس میں کچھ زیادات قطیعی سے بھی منقول ہیں ۔ وہ احمد بن عبد الجبار الصوفی اور اس کے امثال جیسے عبداللہ بن احمد کے طبقہ کے لوگوں سے روایت کرتا ہے۔ اس کی آخری حدیہ ہے کہ اس نے امام احمد رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہو۔ اس لیے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے آخری عمر میں حدیث کی روایت ترک کردی تھی۔ اس لیے کہ خلیفہ نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ خلیفہ اور اس کے بیٹے کو تعلیم دیں اور ان کے پاس ہی قیام کریں ۔ آپ کو اپنے آپ پر دنیاکا فتنہ محسوس ہوا تو آپ نے مطلق طور پر حدیث روایت کرنا ترک کردیاتاکہ اس فتنہ سے محفوظ رہ سکیں ۔ اس لیے کہ اس سے پہلے خلفاء کے ساتھ جو احوال پیش آچکے تھے وہ مخفی نہیں تھے۔

قطیعی اپنی روایات کو اپنے مشائخ کے اساتذہ سے روایت کرتا تھا۔ اس سے روایت سننے والے خوش ہو جاتے تھے۔ قطیعی نے آپ کے شیوخ کے نام پر جو روایات نقل کی ہیں ان میں سے اکثر جھوٹ ہی جھوٹ ہیں ۔ پس جب ان لوگوں کے ہاتھ یہ کتاب لگی تو انہوں نے باقی تمام صحابہ کرام کے فضائل نہیں دیکھے؛ بس صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل دیکھ لینے پر اکتفا کر لیا۔اور جیسے جیسے مزید احادیث دیکھتے پڑھتے جاتے تو یہ خیال کرتے کہ ان کو روایت کرنے والے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ہیں ۔ اس لیے کہ ان لوگوں کو رجال اور ان کے طبقات کا علم ہی نہیں ۔ اور یہ بات ممتنع ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ قطیعی کے مشائخ سے کوئی روایت نقل کریں ۔

ان لوگوں کی جہالت کی انتہاء یہ ہے کہ انہوں نے امام احمد رحمہ اللہ کی مسند کا نام سن لیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ مسند أحمد میں جو کچھ ہے وہ سب امام احمد کا روایت کردہ ہے ۔چنانچہ امام احمد کی مسند میں جو قطیعی کی زیادہ کردہ روایات ہیں ؛ وہ ان کو بھی امام احمد کی روایات شمار کرنے لگ گئے۔ اور بسا اوقات قطیعی کی روایات پر بھی زیادہ کردیتے ہیں ؛ اس لیے کہ یہ لوگ جھوٹ سے ہر گز نہیں بچ سکتے۔یہی وجہ ہے کہ ’’ الطرائف ‘‘اور ’’العمدۃ ‘‘ کے مصنفین کبھی امام احمد رحمہ اللہ کی طرف ایسی روایات منسوب کرتے ہیں ؛ جو تو امام احمد نے نہ ہی کسی کتاب میں روایت کی ہوتی ہیں ؛ اور نہ ہی آپ نے کبھی وہ روایات سنی ہوں گی۔اس میں زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ : وہ روایات قطیعی نے زیادہ کی ہوں ۔ اور قطیعی نے جو من گھڑت اور جھوٹی روایات اس میں داخل کی ہیں ؛ وہ کسی بھی عالم پر مخفی نہیں ہیں ۔[امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے خلفاء اربعہ کے فضائل و مناقب میں ایک کتاب تصنیف کی تھی جس میں صحیح و سقیم ہر قسم کی روایات موجود ہیں ۔ بعد ازاں امام احمد کے بیٹے عبد اﷲ اور القطیعی نامی عالم نے بھی اس میں بہت کچھ اضافہ کیا تھا جس میں جھوٹی اور ضعیف روایات شامل کرلیں ۔ جہلاء نے سمجھا کہ یہ سب امام احمد کی مرویات ہیں حالانکہ یہ بدترین غلطی ہے۔ عبد اﷲ کی زیادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انھوں نے اپنے والد حضرت امام احمد رحمہ اللہ سے روایت نہیں کیں ۔ القطیعی کی زیادات بھی عبد اﷲ بن احمد کی بجائے دیگر راویوں سے منقول ہیں ۔[الدراوی ؛کشمیری]]

اس رافضی کذاب کی نقول بھی ’’ العمدۃ ‘‘ اور ’’ الطرائف ‘‘ کے مصنفین کی جنس سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ معلوم نہیں کہ اس مصنف نے انہی کتابوں سے یہ سب کچھ نقل کیا ہے ؛ یا پھر ان کے ناقلین سے نقل کیا ہے ۔وگرنہ جس انسان کو علم کی ادنی سی بھی معرفت ہو ؛ اسے ایسی روایات صحیحین یا مسند احمد کی طرف منسوب کرنے سے حیاء آتی ہے۔ صحیحین اور مسند کے نسخوں سے زمین بھری ہوئی ہے ؛ ان میں کہیں بھی اس قسم کی کوئی روایت نہیں پائی جاتی۔ بلکہ حقیقت میں کسی بھی قابل اعتماد اہل علم نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس قسم کی روایات وہی نقل کرتے ہیں جو رات کے اندھیرے میں لکڑیاں چن رہے ہوتے ہیں ۔جیسے ثعلبی اور اس جیسے دوسرے مصنفین ؛ جو کہ ہر موٹی اور چھوٹی چیزکو جمع کر لیتے ہیں مگر صحیح اور خراب کی تمیز سے عاری ہوتے ہیں ۔ 

دوسری وجہ :....یہ حدیث باتفاق محدثین و اہل علم جھوٹ ہے۔حدیث کی کسی بھی مستند کتاب میں اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا ۔ اس حدیث کی حقیقت جاننے کے لیے ان ہی سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کہاں سے گھڑ لائے ہیں ؟

تیسری وجہ:....اس پرمزید یہ کہ مذکورہ صدر آیت سورۂ شوریٰ میں شامل ہے، جو بالاتفاق مکی سورۃ ہے۔بلکہ تمام وہ سورتیں جو ’’ حَ،م سے شروع ہوتی ہیں ؛وہ مکہ میں نازل ہوئی ہیں ۔اس پر اہل سنت کا اتفاق ہے۔ یہ بھی معلوم شدہ بات ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکاح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مدینہ میں ہوا تھا۔ حضرت حسن ۳ھ میں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما ۴ھ میں پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح یہ سورت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے وجود سے بھی کئی سال پہلے نازل ہوئی تھی۔ تو پھراب سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکی آیت کی تفسیر میں ان لوگوں کی محبت کو کیوں کر واجب قرار دے سکتے تھے ؛ جو کہ ابھی تک نہ ہی پیدا ہوئے ‘ اور نہ ہی ان کو کوئی پہچانتا تھا۔

چوتھی وجہ :....صحیح بخاری میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی﴾ [الشوری ۲۳]

’’ کہہ دیجئے!کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی ۔‘‘

تو میں نے کہا : ’’اس سے مراد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوان سے قرابت کا تعلق رکھنے والوں کی بابت اذیت نہ دو ۔‘‘

یہ سن کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ آپ نے جلد بازی سے کام لیا، قریش کا کوئی چھوٹا بڑا قبیلہ بھی ایسا نہ تھا جس کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دارانہ روابط نہ ہوں ۔ اس لیے فرمایا ﴿لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا﴾ یعنی اس قرابت داری کی بنا پر جو میں آپ سے رکھتا ہوں میں چاہتا ہوں تم مجھ سے محبت کا سلوک روا رکھو۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب التفسیر ، سورۃ الشوری(حدیث:۴۸۱۸،۳۴۹۷)۔]

صفحہ 2 از 8