امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 3 از 8

آپ نے مفسر قرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ملاحظہ کیا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد اہل بیت میں سب سے بڑے عالم تھے۔ آپ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ نہیں کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کی محبت کاسوال کرتا ہوں ۔بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ : اے اہل عرب ! اے قریش کی جماعت ! میں آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جو میرے اور آپ کے درمیان تعلق ہے : اس صلہ رحمی کا خیال کیجیے۔ اس پر کسی قسم کی سرکشی اور ظلم نہ کرو ؛ اور مجھے اللہ کے دین کی دعوت دینے دو۔

پانچویں وجہ:....اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں :

﴿ قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی﴾ [الشوری ۲۳]

’’ کہہ دیجئے!کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی ۔‘‘

یہ امر قابل غور ہے کہ آیت کے الفاظ ہیں ﴿ اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ یوں نہیں فرمایا:﴿اِلَّا الْمَوَدَّۃَ لِلْقُرْبٰی﴾ اور یوں بھی نہیں فرمایا:﴿اِلَّا الْمَوَدَّۃَ لِذَوِی الْقُرْبٰی﴾ اور اگر وہ مطلب مراد ہوتا جو شیعہ کہتے ہیں تو آیت کے الفاظ اس طرح ہوتے ﴿اِلَّا الْمَوَدَّۃَ لِذَوِی الْقُرْبٰی﴾ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ مندرجہ ذیل آیات ملاحظہ فرمائیے:

۱....﴿وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی ﴾ (الأنفال۴۱)

’’جان لو کہ تم جو کچھ غنیمت حاصل کرو اس میں پانچواں حصہ اللہ کا ہے اور رسول کا اوراہل قرابت کا ۔‘‘

۲....﴿مَا اَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرَی فَلِلَّہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِیْ الْقُرْبَی ﴾ (الحشر:۷)

’’ بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا ۔‘‘

۳....﴿فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ﴾ (الروم:۳۸)

’’ قرابت داروں کو ان کا حق ادا کیجیے؛ اور مساکین کو اور مسافروں کوبھی ۔‘‘

۴....﴿ وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی﴾ (البقرۃ:۱۷۷)

’’ اور اللہ کی محبت میں مال دیا اپنے قرابت داروں کو ۔‘‘

اس طرح کی آیات دیگر بھی کئی مقامات پر آئی ہیں ۔

قرآن کریم میں جہاں جہاں اقارب کے حق میں وصیت کی گئی ہے اسی قسم کے الفاظ آئے ہیں ۔[جہاں پران کے حق میں وصیت ہے تو] اس کے لیے ﴿ذوالقربیٰ﴾ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔[یہاں پر بھی ]اگر اقارب مراد ہوتے تو الفاظ یوں ہوتے :﴿اَلْمَوَدَّۃَ لِذَوِی الْقُرْبٰی﴾ یہاں پر ﴿في القربیٰ﴾ کا لفظ استعمال کیا گیاہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں اہل قرابت کی محبت کا سوال نہیں ‘ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت کی محبت کی رعایت کا کہا گیا ہے۔

چھٹی وجہ :....اگر یہاں پر اقارب مراد ہوتے تو الفاظ یوں ہوتے:﴿اَلْمَوَدَّۃَ لِذَوِی الْقُرْبٰی﴾ ﴿في القربیٰ﴾کے الفاظ نہ ہوتے۔ اس لیے کہ عربی محاورہ میں یوں نہیں کہتے:﴿اَسْئَلُکَ الْمَوَدَّۃَ فِی فُلَانٍ﴾ بلکہ ’’ لفلان‘‘ بولتے ہیں ۔ 

ساتویں وجہ :....ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول تبلیغ شریعت کی اجرت ہر گز طلب نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اللہسے اجرت کا طلب گار ہوتا ہے۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِینَ﴾ (الفرقان:۵۷)

’’فرما دیجئے: میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘

نیز فرمایا:﴿اَمْ تَسْئَلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِنْ مَّغْرَمٍ مُثْقَلُوْنَ﴾ (الطور:۴۰)

’’ کیا آپ اجرت طلب کرتے ہیں کہ وہ تاوان کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ۔‘‘

ارشاد ہوتا ہے:﴿قُلْ مَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَہُوَلَکُمْ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ﴾ (سباء ۴۷)

’’ فرما دیجئے: جو بدلہ تم سے مانگوں وہ تمہارے لیے ہے میرا بدلہ تو اللہ ہی کے ذمے ہے۔‘‘

لیکن یہاں پر استثناء منقطع ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِِلَّا مَنْ شَآئَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا ﴾ [الفرقان ۵۷]

’’کہہ دیجئے :میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راہ پکڑنا چاہے ۔‘‘

اس میں شبہ نہیں کہ اہل بیت کی محبت واجب ہے، مگر اس کا وجوب اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا۔ ان کی محبت کو رسول کی اجرت بھی نہیں کہہ سکتے، بلکہ یہ ان امور میں سے ہے جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ وہ دیگر شرعی مامورا ت کی طرح عبادات کی حیثیت رکھتی ہے۔

حدیث صحیح میں آیا ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خُمّ پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہکو یاد دلاتا ہوں ۔ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہکو یاد دلاتا ہوں ۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ (حدیث:۲۴۰۸)۔ ]

ابوداؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگ اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکیں گے جب تک اللہتعالیٰ اور میری قرابت کی وجہ سے اہل بیت کو چاہنے نہ لگیں ۔‘‘[سنن ابن ماجۃ، المقدمۃ، باب فضل العباس بن عبد المطلب ر ضی اللّٰہ عنہ، (حدیث: ۱۴۰)، مستدرک حاکم(۴؍۷۵) و سندہ ضعیف لانقطاعہ اس کی سند منقطع ہے۔]

لیکن جس کسی نے اہل بیت کی محبت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجرت قرار دیا ہے؛ یقیناً اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔

اگر اہل بیت سے ہماری محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجرت رسالت میں داخل ہوتی تو ہمیں اس کا اجر وثواب نہ دیا جاتا۔اس لیے کہ ہم نے آپ کی وہ اجرت ادا کی تھی جس کا آپ رسالت کی بنا پر استحقاق رکھتے تھے۔ کیا کوئی مسلمان یہ بات کہنے کے لیے تیار ہے؟یہ بات ہمیں تسلیم ہے کہ دیگر دلائل کی بنا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت ہمارے لیے ضروری ہے، مگر اس سے ان کی افضلیت اور امامت و خلافت کیوں کر ثابت ہوئی؟

[اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی] سے استدلال :

صفحہ 3 از 8