امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 4 از 8

آٹھویں وجہ :....یہاں پر ﴿القربیٰ﴾ کا لفظ ’’ال ‘‘ لگاکر معرفہ بنا کر لایا گیا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ قرابت دار مخاطبین کے ہاں معروف ہوں ؛ جن کے متعلق یہ حکم دیاگیا ہے کہ: ﴿ قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا﴾ [الشوری ۲۳] ’’فرما دیجئے!کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا ۔‘‘

ہم پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں اس وقت تک ابھی حسن و حسین رضی اللہ عنہما پیدا ہی نہیں ہوئے تھے ؛ اور نہ ہی حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی ہوئی تھی۔ پس آیت میں جن اہل قرابت کے لیے خطاب کیا گیا ہے ؛ بہت ناممکن ہے کہ یہ لوگ ہوں ۔بخلاف اس قرابت داری کے جو آپ کے اور قریش کے مابین تھی۔ یہ تعلق و قرابت اس وقت کے لوگوں میں معروف تھا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ فرما رہے ہوں : میں تم سے اس خونی رشتہ داری کی رعایت کا سوال کرتا ہوں جو میرے اورآپ کے مابین ہے۔جیسا کہ کوئی کہتا ہے : میں آپ سے اپنے اور آپ کے مابین عدل کا سوال کرتا ہوں ۔ او رکوئی دوسرا کہتا ہے کہ : میں صرف آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔

نویں وجہ:....ہم تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اس آیت سے استدلال کیے بغیر بھی واجب ہے ۔لیکن آپ کی محبت اور دوستی کے واجب ہونے سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امامت صرف آپ کے لیے ہی خاص ہے ؛ اور نہ ہی آپ کی کوئی خاص فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

[ اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’خلفاء ثلاثہ سے محبت رکھنا ضروری نہیں ہے۔‘‘ 

[جواب]:یہ بات ہمارے لیے ناقابل قبول ہے، بلکہ اہل بیت کی الفت و محبت کے دوش بدوش اصحاب ثلاثہ کی محبت بھی ناگزیر ہے ۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اللہتعالیٰ خلفائے ثلاثہ سے محبت رکھتے ہیں اور جس سے اللہتعالیٰ محبت رکھتے ہوں اس سے الفت و محبت کا سلوک روا رکھنا ہم پر واجب ہے ’’اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہ‘‘[سنن ابی داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب مجانبۃ أھل الاہواء (حدیث:۴۵۹۹)۔]اسلام کاطرہ امتیاز اور ایمان کی مضبوط ترین کڑی ہے۔ 

خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کبار اہل تقوی اولیاء اللہ میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے دوستی رکھنے کو واجب قرار دیا ہے۔بلکہ کتاب وسنت کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔ اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں ۔اس پر قرآنی نصوص موجود ہیں ۔ہر وہ شخص جس سے اللہ راضی ہوجائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اہل تقوی سے؛ احسان کرنے والوں سے؛عدل و انصاف کرنے والوں سے اور صبر کرنے والوں سےمحبت کرتے ہیں ۔یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان لوگوں میں سے افضل ترین لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان نصوص میں داخل ہیں ۔

[تمام صحابہ رضی اللہ عنہم واجب الاحترام ہیں ]:

بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مسلمانوں کے باہمی رحم و کرم اور الفت و محبت کی مثال ایک جسم جیسی ہے کہ جب اس کا کوئی عضو بیمار پڑتا ہے تو پورا جسم بخار و بیداری سے بے قرار ہو جاتا ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب رحمۃ الناس والبہائم(حدیث:۶۰۱۱)، صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ۔ باب تراحم المؤمنین (حدیث :۲۵۸۶)۔]

اس حدیث میں ہمیں خبر دی گئی ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت کرتے ہیں ‘ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں اور رحم کی دعا کرتے ہیں ۔ اور اس باب میں وہ ایک جسم کی مانند ہیں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایمان نصوص کتاب و سنت اوراجماع امت کی روشنی میں ثابت ہے ؛ جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایمان ثابت ہے۔ اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں قدح کرنا چاہیے تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایمان کبھی بھی ثابت نہیں کرسکتا۔ بلکہ ہر وہ دلیل جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان پر دلالت کرتی ہے ؛ وہ باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان پر بہت زیادہ قوت کے ساتھ دلالت کرتی ہے۔ اور جو بات بھی باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں قدح کے طور پر بیان کی جاتی ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں بدرجہ اولی قدح کا موجب بنتی ہے۔ اس لیے کہ جو رافضی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے تعصب کرتاہے ‘ اور باقی صحابہ پر قدح کرتا ہے ؛ یہود و نصاری کی طرح اس کی حجت بالکل ناکارہ اور بودی ہے؛ جو حضرت عیسی اور موسی علیہماالسلام کی نبوت تو ثابت کرنا چاہتے ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر قدح واعتراض کرنا چاہتے ہیں ۔

ایک رافضی قوت دلیل سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے اور آپ کے ایمان پر قدح کرنے والے خوارج و نواصب کو قائل نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ اس مکالمہ سے ظاہر ہے۔ اگر خارجی و ناصبی ایک شیعہ سے کہیں تمھیں کیوں کر معلوم ہوا کہ علی اللہکے ولی اور متقی مؤمن ہیں ؟‘‘

اگر شیعہ اس کے جواب میں کہے کہ ’’ مجھے تواتر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ولی اللہ ہونا معلوم ہوا کیوں کہ آپ مسلمان تھے اور اعمال صالحہ انجام دیتے تھے۔‘‘

تو خارجی و ناصبی اس کے جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ ’’نقل متواتر توحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کے بارے میں بھی موجود ہے۔بلکہ ان لوگوں کی نیکیوں کے بارے میں موجود تواتر کسی بھی معارض سے محفوظ ہے۔

اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نقل کردہ تواتر سے بڑھ کر ہے۔ ‘‘

اگر شیعہ کہے کہ قرآن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ولی اللہ ہونا ثابت ہے۔ توخوارج و نواصب کہہ سکتے ہیں کہ ’’ قرآنی عمومات میں تو دیگر صحابہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل ہیں ؛ جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ [الفتح۱۸]

’’یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا ۔‘‘اور اس طرح کی دوسری آیات بھی ہیں ۔

مگرتم شیعہ اکابر صحابہ کو ان عمومات سے خارج کرتے ہو؛تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتنی بڑی جماعت کی بجائے آسان تر ہے کہ صرف ایک حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان سے خارج کردیا جائے۔

صفحہ 4 از 8