امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 5 از 8

اگر شیعہ کہے کہ ’’ احادیث نبویہ سے اور ان کی شان میں قرآن کے نزول سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ولی ہونا ثابت ہے ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب رحمۃ الناس والبہائم(حدیث:۶۰۱۱)، صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ۔ باب تراحم المؤمنین (حدیث :۲۵۸۶)۔ ]

تو اس کا جواب یہ ہے کہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب کی احادیث کثرت کے ساتھ اور واضح ہیں مگر شیعہ ان پرتنقید اوراعتراض کرتے ہیں ۔ دوسری جانب فضیلت علی رضی اللہ عنہ میں شیعہ جو روایات بیان کرتے ہیں ان کے ناقل وہی صحابہ ہیں جو شیعہ کے نزدیک مطعون ہیں ۔ اب دو ہی صورتیں ہیں :

۱۔ اگر صحابہ پر شیعہ کی جرح و قدح درست ہے تو فضیلت علی رضی اللہ عنہ میں ان کی روایات بھی معتبر نہیں ہیں ۔

۲۔ اگر فضیلت علی رضی اللہ عنہ کی روایات قابل اعتماد ہیں تو صحابہ رضی اللہ عنہم پر شیعہ کے مطاعن لغو ہیں ۔

اگر روافض کہیں کہ فضیلت علی رضی اللہ عنہ کی روایات شیعہ کی نقل اور تواتر کے مطابق معتبر ہیں ۔

تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کوئی بھی رافضی نہیں تھا۔اور معدودے چند کے سوا شیعہ کے نزدیک سب صحابہ رضی اللہ عنہم مطعون ہیں ۔[کافی میں ہے : ابو جعفر - علیہ السلام - سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگ مرتد ہوگئے تھے ‘ سوائے تین کے۔ میں نے کہا : وہ تین کون تھے۔ فرمایا : اور تین ہیں :حضرت مقداد بن اسود ؛ اورحضرت ابو ذر غفاری ؛ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم ۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد لوگوں نے پہچان لیا۔ اور فرمایا یہی لوگ تھے جن پر-ظلم کی - چکی چلی ۔ اور انہوں نے بیعت کرنے سے انکار کیا ۔ یہاں تک کہ امیر المؤمین کو زبردستی پکڑ کر لائے ‘ اور انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بیعت کی ۔‘‘ روضۃ الکافی ۸؍ ۲۴۵۔ ۲۴۶‘ روایت نمبر ۳۴۱۔ شیعہ شیوخ کا عقیدہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام مسلمان مرتد ہوگئے تھے۔ لہٰذا شیعہ عالم محمد رضا مظفرکہتا ہے:’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اورہر مسلمان نے بھی یقینافوت ہونا ہے، مجھے اب معلوم نہیں ، وہ سب مرتد ہوگئے تھے ۔ [السقیفۃ: ۱۹] بلکہ شیعہ یہاں تک کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام انسانوں میں سے صرف ایک شخص ایمان لایا تھا اور وہ شخص تھا جو اپنے ملک سے حقیقی مذہب کی تلاش میں نکلا تھا، اور وہ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ ہیں ۔‘‘ [کتاب الشیعۃ و السنۃ فی المیزان:۲۰۔ ۲۱۔] شیعہ کے علامہ الجزائری بیان کرتے ہیں کہ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چار افراد کے سوا تمام لوگ مرتد ہوگئے(]

کہا جاتا ہے کہ دس سے زائد صحابہ ایسی روایات کے نقل کرنے میں یک زبان ہیں ، جب روافض جمہور صحابہ کی مرویات کو صحیح تسلیم نہیں کرتے تو معدودے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت کردہ احادیث کیوں کر ان کے نزدیک حجت ہوں گی؟ اس مسئلہ پر اپنی جگہ پر تفصیل سے بحث کی جاچکی ہے۔

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ شیعہ کا قول کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ تینوں خلفاء کرام رضی اللہ عنہم کی محبت واجب نہیں ۔‘‘ جمہور کے ہاں یہ کلام باطل ہے۔ بلکہ اہل سنت و الجماعت کے ہاں ان تینوں حضرات کی محبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت سے بڑھ کر واجب ہے ۔اس لیے کہ محبت فضلیت کی مقدار کے لحاظ سے واجب ہوتی ہے۔ پس جس کی جتنی زیادہ فضیلت ہوگی؛ اس کی محبت بھی اتنی زیادہ واجب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴾ [مریم۹۶]۔

’’بیشک جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے؛ ان کے لیے اللہ رحمن محبت پیدا کر دے گا ۔‘‘

صفحہ 5 از 8