امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 6 از 8

اس کی تفسیر میں علمائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ خود بھی ان سے محبت کرتا ہے ‘ اور لوگوں کے دلوں میں بھی ان کے لیے محبت ڈال دیتا ہے۔ یہ جماعت اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سے افضل ترین لوگ تھے جوایمان لائے اور نیک اعمال کیے۔[تھے ۔ وہ چار یہ ہیں : سلمان فارسی، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور عمار۔اس بات میں ذرہ برابر اشکال نہیں ہے۔[ الأنوار النعمانیۃ: ۱؍ ۸۱۔] فضیل بن یسار، ابو جعفر سے بیان کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا:’’بیشک جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو چار افراد کے سوا تمام لوگ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے تھے؛ وہ چار یہ ہیں : علی، مقداد، سلمان اور ابوذر۔ ‘‘ میں نے پوچھاحضرت عمار کو شمار نہیں کیا؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو بالکل تبدیل نہ ہوئے تو وہ یہی تین ہیں ۔حالانکہ پہلے چار افراد ذکر کیے تھے ؟!‘‘ تفسیر العیاشی: ۱؍ ۲۲۳۔ حدیث نمبر: ۱۴۹ سورۃ آل عمران۔ تفسیر الصافی: ۱؍ ۳۸۹ تفسیر البرہان: ۱؍ ۳۱۹۔ بحار الأنوار: ۲۲؍ ۳۳۳۔ حدیث نمبر:۴۶۔ باب فضائل سلمان وأبی ذر ۔‘‘ شیعہ عالم الکاشانی لکھتا ہے: ’’صحابہ سے علم حاصل کرنے والے -تابعین - میں سے اکثر لوگ صحابہ کرام کی حقیقت سے لاعلم تھے؛ اس لیے وہ انہیں عادل قرار دیتے تھے۔اور ان کے ہاں یہ طے شدہ تھا کہ تمام صحابہ عدول ہیں ۔ اوران میں سے کسی ایک نے بھی راہ حق سے روگردانی نہیں کی۔انہیں یہ پتہ چل نہیں سکا کہ ان میں سے اکثر کے دلوں میں نفاق تھا۔وہ اﷲ پر بڑی جرأت سے باتیں بناتے اور رسول اﷲکی دشمنی میں ان پر الزام تراشیاں کرتے ہیں ‘ اور خود نافرمانی پر سر بستہ ہیں ۔‘‘ [تفسیر الصافی: ۱؍ ۹( کتاب کا دیباچہ )۔] [ شیعہ کے امام خمینی کا کہنا ہے کہ:’’ صحابہ رضی اللہ عنہم کو منافقین کا نام دیا جاتا تھا ۔ [الحکومۃ الا سلامیہ: ۶۹۔ دیکھیے: علی و منا وؤہ: ۱۲] یعنی دنیا میں لوگوں کے دلوں میں اس کی نیکی اور پارسائی کی وجہ سے محبت پیدا کر دے گا، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے؛جب اللہ تعالیٰ کسی (نیک ) بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اللہ جبرائیل علیہ السلام کو کہتا ہے، میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ پس جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنی شروع کر دیتے ہیں پھر جبرائیل علیہ السلام آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس تمام آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین میں اس کے لیے قبولیت اور پذیرائی رکھ دی جاتی ہے۔(صحیح بخاری)] جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : 

﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِِنْجِیلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَوَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا﴾ [الفتح۲۹]

’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں ، تو انہیں دیکھے گا رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں ، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے۔ ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے۔مثل اس کھیتی کے جس نے انکھوا نکالاپھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سید ھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگاتاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔ ‘‘[یعنی مسلمان پہلے صرف ایک تھا اور وہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس جو اپنی نبوت پر سب سے پہلے خود ایمان لائے۔ پھر ایک سے دو ہوئے، دو سے تین، تین سے سات۔ اسی طرح رفتہ رفتہ اسلام کا پودا زمین سے باہر نکل آیا۔فتح مکہ کے دن یہ پودا ایک مضبوط اور تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا۔ جب یہ مضبوط درخت بن کر اپنی جڑوں پر استوار ہوگیا۔ اس درخت کی آبیاری اور نگہداشت کرنے والی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وہ مقدس جماعت تھی جو نبی اخر الزمان پر ایمان لائے تھے پھر عمر بھر دل و جان سے آپکی اطاعت کرتے اور آپکے اشاروں پر چلتے رہے۔ ایسے لوگوں کا اللہ کے ہاں اجر بھی بہت زیادہ ہے جو ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں کو معاف کرکے انہیں جنت کے بلند درجات عطا فرمائے گا۔ اس آیت سے بعض علما نے یہ استنباط کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جلنے والا اور ان کے متعلق بغض اور کینہ رکھنے والا شخص کبھی مسلمان نہیں ہوسکتا۔[الدراوی ]]

[یہ درست ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہونے کے اعتبار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت ہم پر واجب ہے۔ تاہم دیگر صحابہ کی محبت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا]۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا کہ:

’’سب لوگوں میں سے آپ کو عزیز تر کون ہے؟ فرمایا: ’’ عائشہ۔‘‘

’’ عرض کیا گیا مردوں میں سے کون عزیز ہیں ؟ فرمایا: ’’ ان کے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ۔ باب قول النبی رضی اللّٰہ عنہم ’’لوکنت متخذًا خلیلاً‘‘ (ح:۳۶۶۲) صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۴) ۔ ]

صحیح حدیث میں ہے سقیفہ بنی ساعدہ کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے کہا تھا:

’’ آپ ہمارے سردار اور ہم سب سے بہتر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سب سے عزیز ہیں ۔‘‘ [صحیح بخاری حوالہ سابق(حدیث:۳۶۶۸)، مطولاً۔]

صفحہ 6 از 8