امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 7 از 8

اس کی تصدیق ان احادیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے جو صحاح ستہ کی دوسری کتابوں میں مشہور ہیں ۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

’’ اگر میں اس امت میں سے کسی کو گہرا دوست بنانا چاہتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا؛ لیکن اسلام کی محبت [سب کے لیے ہے ]‘‘ [صحیح بخاری حوالہ سابق (حدیث:۳۶۵۸)، عن عبد اللّٰہ بن الزبیر رضی اللّٰہ عنہ ۔ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (حدیث:۴؍۲۳۸۳) عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ ۔]

اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ روئے زمین بسنے والوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سب بڑے حق دار ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہو ؛ وہ اللہ تعالیٰ کو بھی محبوب ہوتا ہے ۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کا محبوب ہو؛ وہ اس بات کا بہت زیادہ حق دار ہے کہ اہل ایمان ان سے محبت کرتے رہیں ۔اس لیے کہ اہل ایمان اسی سے محبت کرتے ہیں جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہوں ۔ او راس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہوں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس محبت کے سب بڑے حق دار ہونے کے دلائل بہت سارے ہیں ۔تو پھر یہ بات کہنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ مفضول سے محبت کرنا تو واجب ہے ؛ مگر افضل سے محبت کرنا واجب نہیں ہے۔

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت ان کی محبت کے منافی ہے۔آپ کے احکامات کی تعمیل کرنا آپ کی محبت ہے ؛ تو آپ واجب الاطاعت ٹھہرے ؛ یہی امامت کا معنی ہے ۔‘‘

[جواب]:اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتاہے:

پہلا جواب:....یہ ہے کہ اگر کسی سے محبت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت واجب ٹھہرتی ہے تو اقارب کی اطاعت بھی ضروری ہوگی، اس لیے کہ ان کی محبت واجب ہے۔ جس سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا امام ہونا لازم آتا ہے۔ اور اگر یہ باطل ہے تو پھر باقی امور بھی اسی کی طرح باطل ہیں ۔

دوسرا جواب:....محبت کے واجب ہونے کی صورت میں محبت و مودت کسی طرح بھی امامت کو مستلزم نہیں ۔اور نہ ہی جس کسی کی محبت واجب ہو تو وہ امام بن جائے گا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی محبت ان کے امام بننے سے پہلے بھی واجب تھی۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں امام نہیں تھے ؛ پھر بھی آپ کی محبت واجب تھی۔ بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل ہونے تک بھی آپ کی محبت واجب تھی۔

تیسرا جواب:....اگر محبت کو امامت کا ملزوم قرار دیا جائے تو ملزوم کا انتفاء لازم کی نفی کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں صرف اسی شخص کی محبت لازم ہوگی جو امام معصوم ہو۔تو اس صورت میں کسی بھی مؤمن سے محبت نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی اہل ایمان سے محبت و مودت رکھنا واجب ہوگی؛ اس لیے کہ وہ امام نہیں ۔ نہ ہی شیعان علی اور نہ ہی کوئی دوسرا ۔یہ بات اجماع کے بھی خلاف ہے اور اسلام میں ضرورت کے تحت معلوم شدہ امور کے بھی خلاف ہے ۔

چوتھا جواب: شیعہ کا یہ قول ہے کہ ’’ مخالفت محبت کے منافی ہے۔‘‘

ہم پوچھتے ہیں :ایسا کب ہوگا؟ جب محبت واجب ہوگی یا پھر مطلق طور پر ؟ مطلق کہنے کی صورت میں یہ ممنوع ہے۔

وگرنہ جو کوئی کسی دوسرے پر کوئی ایسی چیز واجب کرتاہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب نہیں کی؛تو پھر اگر وہ اس کا حکم ماننے میں اس کی مخالفت کرے گا تو اس سے محبت کرنے والا نہیں ہوگا۔اور کوئی مؤمن کسی مؤمن سے اس وقت تک محبت کرنے والا نہیں ہوسکتا جب تک اسکی اطاعت کے واجب ہونے کا یقین نہ کرلے؛ اس نظریہ کی خرابی صاف ظاہر ہے ۔

پہلی صورت میں :جب مخالفت صرف اسی صورت میں محبت میں قادح ہوتی ہے جب وہ شخص واجب الاطاعت ہو۔اس صورت میں پہلے وجوب اطاعت کا علم ضروری ہے۔تاکہ اس کی مخالفت کی صورت میں اس کی محبت پر قدح کرسکیں ۔ جب اطاعت کو اس لیے واجب قرار دیا جائے گا کہ محبت واجب ہے تو دور لازم آئے گا؛ جو کہ ممتنع ہے۔اس لیے کہ کسی مخالفت سے اس وقت تک محبت پر قدح نہیں کی جاسکتی جب تک اس کی اطاعت کا واجب ہونا معلوم نہ ہو۔ اور اطاعت کا واجب ہونا اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتا جب تک یہ معلوم نہ ہوجائے کہ وہ امام ہے ۔ اور امام ہونے کا اس وقت تک علم نہیں ہوسکتا جب تک اس کی محبت واجب ہونے کا علم نہ ہو‘ اور یہ علم ہو کہ اس کی مخالفت محبت میں قدح کا سبب ہوگی۔

پانچواں جواب:....[ہم پوچھتے ہیں ]کیا مخالفت محبت میں اسی صورت میں قادح ہوسکتی ہے [جب وہ شخص امام ہو]اور اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو؟

دوسرے جواب کی ضرورت کے تحت نفی کی گئی ہے۔ جب کہ پہلے جواب کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلفائے ثلاثہ کے زمانہ میں ایسا نہیں کیا تھا۔

چھٹا جواب:....یہی بات حضرات خلفاء ثلاثہ کے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے۔ حضرت ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی محبت و اطاعت بھی واجب ہے۔او ران کی مخالفت ان کی محبت میں قادح ہے۔

ساتواں جواب:....اس حدیث میں سے ترجیح کے امور : اس لیے کہ شیعہ نے اپنی ولایت و محبت اور اطاعت کے دعوی کے ساتھ ساتھ امامت کا بھی دعوی کیا ہے۔ اور [ان کا دعوی ہے کہ] اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت واجب کی ہے ۔ اور ان کی مخالفت ان کے ساتھ محبت میں قادح ہے۔ بلکہ اللہ اوراس کے رسول کی محبت میں بھی قدح کا سبب ہے ۔ او راس میں کوئی شک نہیں کہ جس نے رافضیت کی بدعت کو ایجاد کیا ؛ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والا نہیں تھا۔ بلکہ حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کا پکا دشمن تھا۔

ان لوگوں کا اہل سنت کے ساتھ ایسے ہی معاملہ ہے جیسا عیسائیوں کا مسلمانوں کے ساتھ۔ اس لیے کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کو تو رب قرار دیتے ہیں ‘ اور حضرت ابراہیم ؛ موسیٰ ؛ اور محمد علیہم السلام کوان حواریوں سے بھی کم درجہ کا سمجھتے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ تھے۔

صفحہ 7 از 8