اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ…

اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ کا قتل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

الف: اسود عنسی کا خاتمہ اور اہل یمن کا دوبارہ ارتداد:

الف: اسود عنسی کا نام عبہلہ بن کعب تھا، ذوالخمار اس کی کنیت تھی کیونکہ یہ ہمیشہ عمامہ باندھتا اور چادر ڈالے رہتا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 17)

چونکہ چہرہ میں سیاہ پن تھا اس لیے اسود عنسی کے نام سے معروف تھا۔ ضخامت جسم اور قوت شجاعت کا مالک تھا، کہانت، شعبدہ بازی اور بلیغ خطاب سے لوگوں کو متاثر کرتا، شعبدہ باز کاہن تھا، اپنی قوم کو عجائب و غرائب دکھاتا، اپنی باتوں کے ذریعہ سے لوگوں کے دلوں کو اسیر کر لیتا اور لوگوں پر اثر انداز ہونے کے لیے مال بے دریغ استعمال کرتا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ 364)

حجۃ الوداع کے بعد جیسے ہی رسول اللہﷺ کے مرض کی اطلاع ملی، اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور بعض روایات میں ہے کہ جس طرح مسیلمہ کذاب اپنے آپ کو رحمٰن الیمامہ کہلاتا تھا اسی طرح اسود اپنے آپ کو رحمن الیمن کہلانے لگا۔

(الیمن فی صدر الاسلام للشجاع: صفحہ 256)

یہ نبی کریمﷺ کی نبوت کے اقرار کے ساتھ اپنی نبوت کا اعلان کرتا اور یہ اس زعم میں مبتلا تھا کہ اس کے پاس دو فرشتے وحی لے کر آتے ہیں جن میں سے ایک کا نام سحیق اور دوسرے کا نام شقیق یا شریق ہے۔ 

(البدء والتاریخ: جلد 5 صفحہ 154)

شروع میں اپنی دعوت کو مخفی رکھا، اپنے مناسب لوگوں کو خفیہ طور سے اپنے پاس جمع کرتا رہا، پھر اچانک اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 257)

سب سے پہلے اس کی دعوت کو قبول کرنے والے اسی کے قبیلہ عنس کے نوجوان تھے۔

(فتوح البلدان للبلاذری: جلد 1 صفحہ 125)

پھر اس نے قبیلہ مذحج کے زعماء سے خط کتابت کی تو اس قبیلہ کی عوام اس کے ساتھ ہو گئی۔

(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 151، 152)

اور اسی طرح قیادت و سیادت کے بھوکے بعض زعماء بھی اس کے پھندے میں آ گئے۔ اس نے لوگوں کے مابین قبائلی عصبیت بھڑکائی کیونکہ اس کا تعلق قبیلہ عنس سے تھا جو قبیلہ مذحج کی ایک شاخ تھی۔ اسی طرح اس نے اہل نجران میں سے بنو حارث بن کعب سے خط کتابت کی جو اس وقت مسلمان تھے۔ ان سے اس نے ان کے یہاں آنے کا مطالبہ کیا پھر وہاں پہنچ بھی گیا، لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کر لی کیونکہ انہوں نے برضا و رغبت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اسی طرح زبید، اَود، مَسلیہ اور حکم بن سعد عشیرۃ کے کچھ لوگ اس کے تابع ہو گئے۔ کچھ دن نجران میں رہا، اس وقت اس کی قوت مضبوط ہو گئی جب عمرو بن معدیکرب الزبیدی اور قیس بن مکشوح المرادی اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس نے فروہ حضرت بن مسیک رضی اللہ عنہ کو مراد سے اور سیدنا عمرو بن حزمؓ کو نجران سے نکال باہر کر دیا پھر اس کو صنعاء پر قبضہ کرنے کی فکر دامن گیر ہوئی اور چھ سو یا سات سو شہسواروں کو لے کر اس کی طرف روانہ ہوا، ان میں سے اکثر بنو حارث اور عنس کے لوگ تھے۔

(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 151، 152)

اس وقت صنعاء کے عامل شہر بن باذان الفارسی تھے، جو اپنے والد کے ساتھ صنعاء سے باہر شعوب کے علاقہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ دونوں کے درمیان سخت لڑائی ہوئی جس کے نتیجہ میں شہر بن باذان الفارسی شہید ہو گئے اور اسود عنسی صنعاء پر غالب آ گیا اور اپنے ظہور کے صرف پچیس دن بعد قصر غمدان میں نزول کیا۔

(البدء والتاریخ: جلد 5 صفحہ 229)

اسلام پر قائم رہنے والوں کو سزا دینے کے سلسلہ میں انتہائی بھیانک مؤقف اختیار کیا، نعمان نامی ایک مسلمان کو پکڑا اور ان کے ایک ایک عضو کو کاٹ ڈالا۔

(ابنِ سعد فی الطبقات: جلد 5 صفحہ 535)

اسی لیے جو مسلمان اس کے مقبوضہ علاقوں میں آباد تھے انہوں نے تقیہ اختیار کیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام للشجاع: صفحہ 258)

جو مسلمان اس کے مقبوضہ علاقہ سے باہر تھے انہوں نے اپنی جمعیت اکٹھی کرنے اور اپنی صفوں کو نئے سرے سے منظم کرنے کی کوشش کی چنانچہ فروہ بن مُسَیک المرادی احسیہ مقام پر پناہ گزیں ہوئے۔

(یمن میں ایک مقام کا نام ہے۔ دیکھیے، المعجم: یاقوت الحموی جلد 1 صفحہ 112)

اور دیگر مسلمان اس کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس نے اسود عنسی کے سلسلہ میں رسول اللہﷺ کو بذریعہ خط مطلع کیا۔ یہ پہلے شخص تھے جنہوں نے رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع بھیجی اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما حضر موت میں سکاسک اور سکون کے پڑوس میں جمع ہو گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 49، 50)

رسول اللہﷺ نے اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے نام، اسود کی ارتدادی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے خطوط ارسال کیے اور انہیں حکم دیا کہ کسی طرح اس کا خاتمہ کریں خواہ قتال کے ذریعہ سے ہو یا دھوکہ سے قتل کریں اور اپنے خطوط اور پیغام بروں کو حمیر و ہمدان کے بعض زعماء کی طرف ارسال فرمایا کہ وہ آپس میں متحد و متفق ہو کر اسود عنسی کے خلاف مجاہدین کا ساتھ دیں۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 271)

چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نے حضرت وبربن یخنس رضی اللہ عنہ کو فیروز دیلمی، جُشَیش دیلمی اور داذویہ اصطخری کے پاس بھیجا اور سیدنا جریر بجلیؓ کو ذوالکلاع حمیری اور ذوظلیم حمیری کے پاس روانہ کیا اور حضرت اقرع بن عبداللہ حمیری رضی اللہ عنہ کو ذو زود ہمدانی اور ذومران ہمدانی کے پاس ارسال فرمایا۔

اسی طرح آپؓ نے اہل نجران اور وہاں آباد لوگوں کو خطوط ارسال کیے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 52)

آپؓ نے سيدنا حارث بن عبداللہ جہنی رضی اللہ عنہ کو اپنی وفات سے قبل یمن روانہ فرمایا اور ان کو یمن میں رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر ملی۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 271)

مراجع سے یہ سراغ نہ مل سکا کہ ان کو کس کے پاس بھیجا تھا لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ہو گا کیونکہ سیدنا معاذؓ کو رسول اللہﷺ کا خط ملا تھا جس میں آپﷺ نے ان کو حکم دیا تھا کہ اسود عنسی سے مقابلہ کے لیے مجاہدین بھیجیں تاکہ اس کا خاتمہ ہو سکے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 272)

اسی طرح سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا طاہر بن ابوہالہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہﷺ کا خط ملا جس میں آپﷺ نے انہیں اسود عنسی سے مقابلہ کا حکم دیا تھا، خواہ باقاعدہ جنگ کے ذریعہ سے یا اچانک قتل کے ذریعہ سے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 51)

صفحہ 1 از 3