Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ کا قتل

  علی محمد الصلابی

الف: اسود عنسی کا خاتمہ اور اہل یمن کا دوبارہ ارتداد:

الف: اسود عنسی کا نام عبہلہ بن کعب تھا، ذوالخمار اس کی کنیت تھی کیونکہ یہ ہمیشہ عمامہ باندھتا اور چادر ڈالے رہتا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 17)

چونکہ چہرہ میں سیاہ پن تھا اس لیے اسود عنسی کے نام سے معروف تھا۔ ضخامت جسم اور قوت شجاعت کا مالک تھا، کہانت، شعبدہ بازی اور بلیغ خطاب سے لوگوں کو متاثر کرتا، شعبدہ باز کاہن تھا، اپنی قوم کو عجائب و غرائب دکھاتا، اپنی باتوں کے ذریعہ سے لوگوں کے دلوں کو اسیر کر لیتا اور لوگوں پر اثر انداز ہونے کے لیے مال بے دریغ استعمال کرتا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ 364)

حجۃ الوداع کے بعد جیسے ہی رسول اللہﷺ کے مرض کی اطلاع ملی، اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور بعض روایات میں ہے کہ جس طرح مسیلمہ کذاب اپنے آپ کو رحمٰن الیمامہ کہلاتا تھا اسی طرح اسود اپنے آپ کو رحمن الیمن کہلانے لگا۔

(الیمن فی صدر الاسلام للشجاع: صفحہ 256)

یہ نبی کریمﷺ کی نبوت کے اقرار کے ساتھ اپنی نبوت کا اعلان کرتا اور یہ اس زعم میں مبتلا تھا کہ اس کے پاس دو فرشتے وحی لے کر آتے ہیں جن میں سے ایک کا نام سحیق اور دوسرے کا نام شقیق یا شریق ہے۔ 

(البدء والتاریخ: جلد 5 صفحہ 154)

شروع میں اپنی دعوت کو مخفی رکھا، اپنے مناسب لوگوں کو خفیہ طور سے اپنے پاس جمع کرتا رہا، پھر اچانک اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 257)

سب سے پہلے اس کی دعوت کو قبول کرنے والے اسی کے قبیلہ عنس کے نوجوان تھے۔

(فتوح البلدان للبلاذری: جلد 1 صفحہ 125)

پھر اس نے قبیلہ مذحج کے زعماء سے خط کتابت کی تو اس قبیلہ کی عوام اس کے ساتھ ہو گئی۔

(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 151، 152)

اور اسی طرح قیادت و سیادت کے بھوکے بعض زعماء بھی اس کے پھندے میں آ گئے۔ اس نے لوگوں کے مابین قبائلی عصبیت بھڑکائی کیونکہ اس کا تعلق قبیلہ عنس سے تھا جو قبیلہ مذحج کی ایک شاخ تھی۔ اسی طرح اس نے اہل نجران میں سے بنو حارث بن کعب سے خط کتابت کی جو اس وقت مسلمان تھے۔ ان سے اس نے ان کے یہاں آنے کا مطالبہ کیا پھر وہاں پہنچ بھی گیا، لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کر لی کیونکہ انہوں نے برضا و رغبت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اسی طرح زبید، اَود، مَسلیہ اور حکم بن سعد عشیرۃ کے کچھ لوگ اس کے تابع ہو گئے۔ کچھ دن نجران میں رہا، اس وقت اس کی قوت مضبوط ہو گئی جب عمرو بن معدیکرب الزبیدی اور قیس بن مکشوح المرادی اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس نے فروہ حضرت بن مسیک رضی اللہ عنہ کو مراد سے اور سیدنا عمرو بن حزمؓ کو نجران سے نکال باہر کر دیا پھر اس کو صنعاء پر قبضہ کرنے کی فکر دامن گیر ہوئی اور چھ سو یا سات سو شہسواروں کو لے کر اس کی طرف روانہ ہوا، ان میں سے اکثر بنو حارث اور عنس کے لوگ تھے۔

(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 151، 152)

اس وقت صنعاء کے عامل شہر بن باذان الفارسی تھے، جو اپنے والد کے ساتھ صنعاء سے باہر شعوب کے علاقہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ دونوں کے درمیان سخت لڑائی ہوئی جس کے نتیجہ میں شہر بن باذان الفارسی شہید ہو گئے اور اسود عنسی صنعاء پر غالب آ گیا اور اپنے ظہور کے صرف پچیس دن بعد قصر غمدان میں نزول کیا۔

(البدء والتاریخ: جلد 5 صفحہ 229)

اسلام پر قائم رہنے والوں کو سزا دینے کے سلسلہ میں انتہائی بھیانک مؤقف اختیار کیا، نعمان نامی ایک مسلمان کو پکڑا اور ان کے ایک ایک عضو کو کاٹ ڈالا۔

(ابنِ سعد فی الطبقات: جلد 5 صفحہ 535)

اسی لیے جو مسلمان اس کے مقبوضہ علاقوں میں آباد تھے انہوں نے تقیہ اختیار کیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام للشجاع: صفحہ 258)

جو مسلمان اس کے مقبوضہ علاقہ سے باہر تھے انہوں نے اپنی جمعیت اکٹھی کرنے اور اپنی صفوں کو نئے سرے سے منظم کرنے کی کوشش کی چنانچہ فروہ بن مُسَیک المرادی احسیہ مقام پر پناہ گزیں ہوئے۔

(یمن میں ایک مقام کا نام ہے۔ دیکھیے، المعجم: یاقوت الحموی جلد 1 صفحہ 112)

اور دیگر مسلمان اس کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس نے اسود عنسی کے سلسلہ میں رسول اللہﷺ کو بذریعہ خط مطلع کیا۔ یہ پہلے شخص تھے جنہوں نے رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع بھیجی اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما حضر موت میں سکاسک اور سکون کے پڑوس میں جمع ہو گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 49، 50)

رسول اللہﷺ نے اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے نام، اسود کی ارتدادی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے خطوط ارسال کیے اور انہیں حکم دیا کہ کسی طرح اس کا خاتمہ کریں خواہ قتال کے ذریعہ سے ہو یا دھوکہ سے قتل کریں اور اپنے خطوط اور پیغام بروں کو حمیر و ہمدان کے بعض زعماء کی طرف ارسال فرمایا کہ وہ آپس میں متحد و متفق ہو کر اسود عنسی کے خلاف مجاہدین کا ساتھ دیں۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 271)

چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نے حضرت وبربن یخنس رضی اللہ عنہ کو فیروز دیلمی، جُشَیش دیلمی اور داذویہ اصطخری کے پاس بھیجا اور سیدنا جریر بجلیؓ کو ذوالکلاع حمیری اور ذوظلیم حمیری کے پاس روانہ کیا اور حضرت اقرع بن عبداللہ حمیری رضی اللہ عنہ کو ذو زود ہمدانی اور ذومران ہمدانی کے پاس ارسال فرمایا۔

اسی طرح آپؓ نے اہل نجران اور وہاں آباد لوگوں کو خطوط ارسال کیے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 52)

آپؓ نے سيدنا حارث بن عبداللہ جہنی رضی اللہ عنہ کو اپنی وفات سے قبل یمن روانہ فرمایا اور ان کو یمن میں رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر ملی۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 271)

مراجع سے یہ سراغ نہ مل سکا کہ ان کو کس کے پاس بھیجا تھا لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ہو گا کیونکہ سیدنا معاذؓ کو رسول اللہﷺ کا خط ملا تھا جس میں آپﷺ نے ان کو حکم دیا تھا کہ اسود عنسی سے مقابلہ کے لیے مجاہدین بھیجیں تاکہ اس کا خاتمہ ہو سکے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 272)

اسی طرح سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا طاہر بن ابوہالہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہﷺ کا خط ملا جس میں آپﷺ نے انہیں اسود عنسی سے مقابلہ کا حکم دیا تھا، خواہ باقاعدہ جنگ کے ذریعہ سے یا اچانک قتل کے ذریعہ سے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 51)

رسول اللہﷺ کے اس طرز عمل کا بڑا گہرا اثر ہوا، آپﷺ نے جن کو خطوط بھیجے وہ آپﷺ کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد متحد ہو کر اسلام پر ڈٹ گئے، نہ تو یہ شکوک و شبہات کا شکار ہوئے اور نہ ارتداد کو اختیار کیا چنانچہ حمیر اور ہمدان کے زعماء نے ابنائے فارس کو خطوط بھیجے اور ہر طرح کی مدد کا ان سے وعدہ کیا۔ اسی طرح نجران کے لوگ اسود عنسی کی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہو گئے، اس وقت اسود عنسی کو یقین ہو گیا کہ اب اس کا انجام ہلاکت ہے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 272)

ہمدان و حمیر اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر یمنی سرداروں کے درمیان خط کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کا بھی قوی احتمال ہے کہ ابنائے فارس اور فروہ بن مسیک کے مابین خط کتابت رہی ہو کیونکہ اسود عنسی کے قتل میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 272)

لیکن اسود عنسی پر سب سے پہلے اعتراض کرنے والے عامر بن شہر ہمدانی تھے۔

اس طرح تمام اسلامی قوتیں یمن میں اسود عنسی کو ختم کرنے کے لیے اکٹھی ہو گئیں اور بظاہر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ تمام اس بات پر متفق تھے کہ اسود عنسی کو کسی طرح قتل کر دیا جائے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر اس کا قتل ہو گیا تو اس کے ماننے والے بکھر جائیں گے اور ان کی قوت باقی نہ رہے گی پھر ایسی صورت میں ان سے نمٹنا آسان ہو گا۔ اس لیے اس منصوبہ پر اتفاق ہوا کہ اس وقت تک کوئی کارروائی نہ کی جائے جب تک اندرونی کارروائی مکمل نہ ہو جائے۔

چنانچہ ابنائے فارس فیروز دیلمی اور داذویہ، اسود عنسی کے قائد الجیش قیس بن مکشوح مرادی کے ساتھ اسود عنسی کے قتل پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ قیس بن مکشوح المرادی کا اسود کے ساتھ اختلاف تھا اور اس کو اپنے بارے میں اسود سے خطرہ تھا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 272، 273)

ان لوگوں نے اپنے ساتھ اسود کی بیوی آزاد فارسیہ کو شامل کیا جو پہلے شہر بن باذان کی بیوی تھی اور فیروز فارسی کی چچا زاد بہن تھی۔ کذابِ یمن اسود عنسی نے اس کے شوہر کو قتل کر کے اس کو غصب کر لیا تھا۔ وہ پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ جاہلی درندوں کے پنجے سے نجات حاصل کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور ابنائے فارس کے ساتھ مل کر اس ظالم کے قتل کا پروگرام مرتب کیا.

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 309)

اور بستر پر ہی اس کے قتل کا راستہ ہموار کیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 273)

اور جب اسود قتل کر دیا گیا تو اس کے سر کو اس کے ساتھیوں کے درمیان ڈال دیا گیا جس سے ان پر خوف طاری ہوا اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 273)

جس رات اسود عنسی قتل ہوا اسی رات آسمان سے رسول اللہﷺ کو اس کی خبر دی گئی اور آپﷺ نے لوگوں کو بشارت سناتے ہوئے فرمایا: آج رات عنسی قتل کر دیا گیا، بابرکت گھرانے کے ایک بابرکت شخص نے قتل کیا ہے۔ دریافت کیا گیا: وہ کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: فیروز، فیروز کامیاب ہو گیا۔

(تاریخ الطبری: جلدں4 صفحہ 55)

اسود عنسی کے قتل کا تذکرہ ڈاکٹر صلاح الخالدی نے اپنی کتاب صورمن جہاد الصحابہ میں تفصیل سے کیا ہے۔

(صورمن جہاد الصحابۃ للخالدی: صفحہ 211، 228)

صنعاء کے امور فیروز، داذویہ اور قیس بن مکشوح کے درمیان مشترک رہے، یہاں تک کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ صنعاء پہنچے ان سب نے ان کو اپنا امیر بنا لیا، تین دن تک وہ ان میں رہ کر نماز پڑھاتے رہے، اتنے میں رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر وہاں پہنچ گئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 56)

اسود عنسی کے قتل کی تفصیلات مدینہ میں لشکر اسامہ کی روانگی کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پہنچیں اور مدینہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ فتح کی پہلی خبر پہنچی تھی۔

(البلاذری، فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 127)

ب: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فیروز دیلمیؓ کو صنعاء کا والی مقرر فرما دیا اور ان کی تقرری کا خط ان کو ارسال کیا۔ قیس بن مکشوح المرادی کو نظر انداز کیا، اس کو والی مقرر نہ فرمایا کیونکہ وہ اسود کا مخلص پیروکار تھا۔ قبائلی عصبیت اور قیادت کے شوق میں اس کا ساتھ دیا تھا۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ اصول تھا کہ مرتد ہونے والوں سے احتیاط برتی جائے، ان سے مدد نہ لی جائے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 275)

اور آپؓ نے داذویہ، جُشیش اور قیس بن مکشوح کو سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کے معاون کی حیثیت سے رکھا۔ قیس کو یہ چیز اچھی نہ لگی اور اس نے ان تینوں قائدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور داذویہ کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ حضرت فیروزؓ کو اس سازش کا سراغ لگ گیا اور انہوں نے خولان میں اپنے ماموؤں کے پاس جا کر پناہ لی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 140)

قیس نے نسلی عصبیت کو ہوا دی اس طرح بعض قبائل کے زعماء کو ابنائے فارس کے خلاف اکسانے کی کوشش کی اور یہ باور کرایا کہ یہ لوگ تم پر قابض ہیں اور میں ان کے سرغنہ لوگوں کو قتل اور باقی کو نکال باہر کرنا چاہتا ہوں لیکن قبائلی سرداروں نے کنارہ کشی اختیار کی اور اس سے کہا: تم سب ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ جب یہاں سے اس کو مایوسی ہوئی تو اسود عنسی کے بچے کھچے پیرو کاروں سے خط کتابت شروع کی، خواہ وہ افراد جو صنعاء و نجران کے درمیان تذبذب کی زندگی گذار رہے تھے، یا وہ جو لحج میں پناہ گزیں تھے۔ ان سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ وہ سب اساسی مقصد یعنی ابنائے فارس کو جلا وطن کرنے پر جمع ہو جائیں۔ صنعاء کے لوگوں کو اس وقت خبر ملی جب وہ چہار جانب سے گھر چکے تھے اور پھر قیس نے ابنائے فارس کو جلا وطن کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 140 الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 264)

ادھر جب سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ خولان پہنچے تو وہاں سے حضرت ابوبکرؓ کو خط تحریر کیا اور قیس کی کارستانیوں سے آپؓ کو باخبر کیا۔ یہ خبر پاتے ہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سرداروں کو خطوط ارسال کیے جنہیں رسول اللہﷺ نے خطوط بھیجے تھے۔ آپؓ کا خط بالکل واضح اور صریح تھا۔ مخالفین کے خلاف ان کا ساتھ دو اور فیروز کی بات مانو، اس کے ساتھ لگ جاؤ، میں نے اس کو والی مقرر کیا ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 140)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے اس طریقہ عمل سے دو لازم و ملزوم امور کو ہدف بنایا:

آپؓ نے اس کو جنگی منصوبہ کے طور پر اختیار کیا کیونکہ اس وقت لشکر اسامہ شام کی طرف روانہ ہو چکا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کے لوٹنے کا انتظار تھا تا کہ یمامہ، بحرین، عمان اور تمیم میں اٹھنے والے فتنہ ارتداد سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے کیونکہ ان علاقوں میں ارتداد کا فتنہ یمن میں رونماء ہونے والے فتنہ ارتداد سے زیادہ سنگین تھا، جس کا علاج خطوط اور پیغام رساں لوگوں کے ذریعہ سے کرنے پر اکتفا کیا۔

دوسرا مقصد یہ تھا کہ اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کو موقع ملے تاکہ وہ اپنے اسلام کی صداقت کو ثابت کر سکیں تاکہ ان کی ثابت قدمی اور دین پر تمسک میں اضافہ ہو کیونکہ اصل ذمہ دار اور اقرار اسلام کی امانت کے حامل یہی لوگ تھے۔ خاص کر جن لوگوں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خط کتابت کی وہ وہ لوگ تھے جن کو رسول اللہﷺ نے خطوط بھیجے تھے اور وہ ثابت قدم رہے اور ان سے جس کا مطالبہ کیا گیا اس کو پورا کر دکھایا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 275)

سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے جن دوسرے دیگر قبائل سے اتصال کر کے اپنا حامی بنانا چاہا ان میں سر فہرست بنو عقیل بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ تھے پھر اس کے بعد قبیلہ عک سے اسی مقصد کے تحت خط کتابت کی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت طاہر بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ.

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 144)

اور مسروق عکی کو پیغام بھیجا کہ وہ ابنائے فارس کی مدد کریں۔ یہ دونوں عک اور اشعریین کے درمیان تھے۔ ہر ایک اپنی اپنی طرف سے نکل پڑے اور قیس کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا جو ابنائے فارس کو یمن سے نکالنے کا عزم کر چکا تھا۔ ان کو اس سے بچایا اور پھر سب ایک ساتھ ہو کر صنعاء کی طرف نکلے اور قیس سے مڈ بھیڑ ہوئی اور وہ صنعاء چھوڑنے پر مجبور ہو گیا اور اسود عنسی کے ساتھیوں کے پاس جو نجران و صنعاء اور لحج کے درمیان سرگرداں تھے، ان کے پاس چلا گیا اور عمرو بن معد یکرب الزبیدی سے جا ملا اور اس طرح صنعاء دوبارہ خطوط اور سفراء کے ذریعہ سے استقرار اور امن و امان کی طرف واپس آ گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 142)

ج: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فتنہ کو اندر سے ناکام کرنے کی سیاست پر قائم رہے، اس کی تعبیر مؤرخین نے ان الفاظ میں کی ہے کہ اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے ذریعہ سے مرتدین پر چڑھ دوڑنا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 277)

تہامۂ یمن میں ارتداد کی تحریک کو خلیفہ کی طرف سے بغیر کسی قابل ذکر کوشش کے کچل دیا گیا۔ تہامہ کے مسروق عکی جیسے مسلمان سپوتوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور قبیلہ عک کے ساتھ مرتدین سے قتال کیا۔ تہامہ کے ارتداد کو کچلنے میں سر فہرست حضرت طاہر بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ تھے جو رسول اللہﷺ کی جانب سے تہامہ کے علاقہ پر والی تھے، جو قبیلہ عک اور اشعریوں کا موطن تھا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 277)

پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عکاشہ بن ثور کو حکم دیا کہ وہ تہامہ میں اقامت پذیر ہوں اور اپنے پاس اس کے باشندوں کو اکٹھا کر کے حکم کا انتظار کریں۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 277)

بجیلہ کے پاس حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو واپس بھیجا۔

(آپؓ کی کنیت ابو عمرو تھی، آپؓ 10 ہجری میں مشرف بہ اسلام ہوئے)

اور انہیں حکم دیا کہ اپنی قوم کے ثابت قدم رہنے والے مسلمانوں کو لے کر اسلام سے مرتد ہونے والوں سے قتال کریں اور پھر خثعم کے پاس پہنچیں اور ان کے مرتدین سے قتال کریں۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ اپنی مہم پر روانہ ہوئے اور حضرت صدیق اکبرؓ نے جو حکم دیا تھا اس کو بجا لائے۔ تھوڑے سے افراد کے علاؤہ ان کے مقابلہ میں کوئی نہ آیا۔ آپؓ نے ان کو قتل کیا اور بقیہ کو منتشر کر دیا۔

(الثابتون علی الاسلام فی ایام فتنۃ الردۃ: صفحہ 42)

اور نجران میں بنو حارث بن کعب کے کچھ لوگوں نے اسود عنسی کی پیروی اختیار کر لی تھی اور رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد تردد کا شکار رہے۔ ان سے مقابلہ کی نیت سے مسروق عکی ان کی طرف نکلے۔ اولا انہیں اسلام کی طرف دعوت دی تو وہ سب بغیر کسی قتال کے مسلمان ہو گئے پھر ان کے اصلاح حال کے لیے مسروق نے ان کے درمیان اقامت اختیار کی اور جب سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو نجران کی حالت بالکل درست ہو چکی تھی۔

(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 156)

ارتداد کی تحریک کو اندر سے ناکام کرنے کی صدیقی سیاست کامیاب رہی اور لشکر اسامہ کی واپسی کے بعد فوج بھیجنا شروع کی۔