اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ…

اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ کا قتل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

رسول اللہﷺ کے اس طرز عمل کا بڑا گہرا اثر ہوا، آپﷺ نے جن کو خطوط بھیجے وہ آپﷺ کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد متحد ہو کر اسلام پر ڈٹ گئے، نہ تو یہ شکوک و شبہات کا شکار ہوئے اور نہ ارتداد کو اختیار کیا چنانچہ حمیر اور ہمدان کے زعماء نے ابنائے فارس کو خطوط بھیجے اور ہر طرح کی مدد کا ان سے وعدہ کیا۔ اسی طرح نجران کے لوگ اسود عنسی کی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہو گئے، اس وقت اسود عنسی کو یقین ہو گیا کہ اب اس کا انجام ہلاکت ہے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 272)

ہمدان و حمیر اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر یمنی سرداروں کے درمیان خط کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کا بھی قوی احتمال ہے کہ ابنائے فارس اور فروہ بن مسیک کے مابین خط کتابت رہی ہو کیونکہ اسود عنسی کے قتل میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 272)

لیکن اسود عنسی پر سب سے پہلے اعتراض کرنے والے عامر بن شہر ہمدانی تھے۔

اس طرح تمام اسلامی قوتیں یمن میں اسود عنسی کو ختم کرنے کے لیے اکٹھی ہو گئیں اور بظاہر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ تمام اس بات پر متفق تھے کہ اسود عنسی کو کسی طرح قتل کر دیا جائے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر اس کا قتل ہو گیا تو اس کے ماننے والے بکھر جائیں گے اور ان کی قوت باقی نہ رہے گی پھر ایسی صورت میں ان سے نمٹنا آسان ہو گا۔ اس لیے اس منصوبہ پر اتفاق ہوا کہ اس وقت تک کوئی کارروائی نہ کی جائے جب تک اندرونی کارروائی مکمل نہ ہو جائے۔

چنانچہ ابنائے فارس فیروز دیلمی اور داذویہ، اسود عنسی کے قائد الجیش قیس بن مکشوح مرادی کے ساتھ اسود عنسی کے قتل پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ قیس بن مکشوح المرادی کا اسود کے ساتھ اختلاف تھا اور اس کو اپنے بارے میں اسود سے خطرہ تھا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 272، 273)

ان لوگوں نے اپنے ساتھ اسود کی بیوی آزاد فارسیہ کو شامل کیا جو پہلے شہر بن باذان کی بیوی تھی اور فیروز فارسی کی چچا زاد بہن تھی۔ کذابِ یمن اسود عنسی نے اس کے شوہر کو قتل کر کے اس کو غصب کر لیا تھا۔ وہ پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ جاہلی درندوں کے پنجے سے نجات حاصل کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور ابنائے فارس کے ساتھ مل کر اس ظالم کے قتل کا پروگرام مرتب کیا.

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 309)

اور بستر پر ہی اس کے قتل کا راستہ ہموار کیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 273)

اور جب اسود قتل کر دیا گیا تو اس کے سر کو اس کے ساتھیوں کے درمیان ڈال دیا گیا جس سے ان پر خوف طاری ہوا اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 273)

جس رات اسود عنسی قتل ہوا اسی رات آسمان سے رسول اللہﷺ کو اس کی خبر دی گئی اور آپﷺ نے لوگوں کو بشارت سناتے ہوئے فرمایا: آج رات عنسی قتل کر دیا گیا، بابرکت گھرانے کے ایک بابرکت شخص نے قتل کیا ہے۔ دریافت کیا گیا: وہ کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: فیروز، فیروز کامیاب ہو گیا۔

(تاریخ الطبری: جلدں4 صفحہ 55)

اسود عنسی کے قتل کا تذکرہ ڈاکٹر صلاح الخالدی نے اپنی کتاب صورمن جہاد الصحابہ میں تفصیل سے کیا ہے۔

(صورمن جہاد الصحابۃ للخالدی: صفحہ 211، 228)

صنعاء کے امور فیروز، داذویہ اور قیس بن مکشوح کے درمیان مشترک رہے، یہاں تک کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ صنعاء پہنچے ان سب نے ان کو اپنا امیر بنا لیا، تین دن تک وہ ان میں رہ کر نماز پڑھاتے رہے، اتنے میں رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر وہاں پہنچ گئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 56)

اسود عنسی کے قتل کی تفصیلات مدینہ میں لشکر اسامہ کی روانگی کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پہنچیں اور مدینہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ فتح کی پہلی خبر پہنچی تھی۔

(البلاذری، فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 127)

ب: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فیروز دیلمیؓ کو صنعاء کا والی مقرر فرما دیا اور ان کی تقرری کا خط ان کو ارسال کیا۔ قیس بن مکشوح المرادی کو نظر انداز کیا، اس کو والی مقرر نہ فرمایا کیونکہ وہ اسود کا مخلص پیروکار تھا۔ قبائلی عصبیت اور قیادت کے شوق میں اس کا ساتھ دیا تھا۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ اصول تھا کہ مرتد ہونے والوں سے احتیاط برتی جائے، ان سے مدد نہ لی جائے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 275)

اور آپؓ نے داذویہ، جُشیش اور قیس بن مکشوح کو سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کے معاون کی حیثیت سے رکھا۔ قیس کو یہ چیز اچھی نہ لگی اور اس نے ان تینوں قائدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور داذویہ کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ حضرت فیروزؓ کو اس سازش کا سراغ لگ گیا اور انہوں نے خولان میں اپنے ماموؤں کے پاس جا کر پناہ لی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 140)

قیس نے نسلی عصبیت کو ہوا دی اس طرح بعض قبائل کے زعماء کو ابنائے فارس کے خلاف اکسانے کی کوشش کی اور یہ باور کرایا کہ یہ لوگ تم پر قابض ہیں اور میں ان کے سرغنہ لوگوں کو قتل اور باقی کو نکال باہر کرنا چاہتا ہوں لیکن قبائلی سرداروں نے کنارہ کشی اختیار کی اور اس سے کہا: تم سب ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ جب یہاں سے اس کو مایوسی ہوئی تو اسود عنسی کے بچے کھچے پیرو کاروں سے خط کتابت شروع کی، خواہ وہ افراد جو صنعاء و نجران کے درمیان تذبذب کی زندگی گذار رہے تھے، یا وہ جو لحج میں پناہ گزیں تھے۔ ان سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ وہ سب اساسی مقصد یعنی ابنائے فارس کو جلا وطن کرنے پر جمع ہو جائیں۔ صنعاء کے لوگوں کو اس وقت خبر ملی جب وہ چہار جانب سے گھر چکے تھے اور پھر قیس نے ابنائے فارس کو جلا وطن کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 140 الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 264)

ادھر جب سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ خولان پہنچے تو وہاں سے حضرت ابوبکرؓ کو خط تحریر کیا اور قیس کی کارستانیوں سے آپؓ کو باخبر کیا۔ یہ خبر پاتے ہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سرداروں کو خطوط ارسال کیے جنہیں رسول اللہﷺ نے خطوط بھیجے تھے۔ آپؓ کا خط بالکل واضح اور صریح تھا۔ مخالفین کے خلاف ان کا ساتھ دو اور فیروز کی بات مانو، اس کے ساتھ لگ جاؤ، میں نے اس کو والی مقرر کیا ہے۔

صفحہ 2 از 3