اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ…

اسود عنسی اور طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ اور مالک بن نویرہ کا قتل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 140)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے اس طریقہ عمل سے دو لازم و ملزوم امور کو ہدف بنایا:

آپؓ نے اس کو جنگی منصوبہ کے طور پر اختیار کیا کیونکہ اس وقت لشکر اسامہ شام کی طرف روانہ ہو چکا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کے لوٹنے کا انتظار تھا تا کہ یمامہ، بحرین، عمان اور تمیم میں اٹھنے والے فتنہ ارتداد سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے کیونکہ ان علاقوں میں ارتداد کا فتنہ یمن میں رونماء ہونے والے فتنہ ارتداد سے زیادہ سنگین تھا، جس کا علاج خطوط اور پیغام رساں لوگوں کے ذریعہ سے کرنے پر اکتفا کیا۔

دوسرا مقصد یہ تھا کہ اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کو موقع ملے تاکہ وہ اپنے اسلام کی صداقت کو ثابت کر سکیں تاکہ ان کی ثابت قدمی اور دین پر تمسک میں اضافہ ہو کیونکہ اصل ذمہ دار اور اقرار اسلام کی امانت کے حامل یہی لوگ تھے۔ خاص کر جن لوگوں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خط کتابت کی وہ وہ لوگ تھے جن کو رسول اللہﷺ نے خطوط بھیجے تھے اور وہ ثابت قدم رہے اور ان سے جس کا مطالبہ کیا گیا اس کو پورا کر دکھایا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 275)

سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے جن دوسرے دیگر قبائل سے اتصال کر کے اپنا حامی بنانا چاہا ان میں سر فہرست بنو عقیل بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ تھے پھر اس کے بعد قبیلہ عک سے اسی مقصد کے تحت خط کتابت کی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت طاہر بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ.

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 144)

اور مسروق عکی کو پیغام بھیجا کہ وہ ابنائے فارس کی مدد کریں۔ یہ دونوں عک اور اشعریین کے درمیان تھے۔ ہر ایک اپنی اپنی طرف سے نکل پڑے اور قیس کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا جو ابنائے فارس کو یمن سے نکالنے کا عزم کر چکا تھا۔ ان کو اس سے بچایا اور پھر سب ایک ساتھ ہو کر صنعاء کی طرف نکلے اور قیس سے مڈ بھیڑ ہوئی اور وہ صنعاء چھوڑنے پر مجبور ہو گیا اور اسود عنسی کے ساتھیوں کے پاس جو نجران و صنعاء اور لحج کے درمیان سرگرداں تھے، ان کے پاس چلا گیا اور عمرو بن معد یکرب الزبیدی سے جا ملا اور اس طرح صنعاء دوبارہ خطوط اور سفراء کے ذریعہ سے استقرار اور امن و امان کی طرف واپس آ گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 142)

ج: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فتنہ کو اندر سے ناکام کرنے کی سیاست پر قائم رہے، اس کی تعبیر مؤرخین نے ان الفاظ میں کی ہے کہ اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے ذریعہ سے مرتدین پر چڑھ دوڑنا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 277)

تہامۂ یمن میں ارتداد کی تحریک کو خلیفہ کی طرف سے بغیر کسی قابل ذکر کوشش کے کچل دیا گیا۔ تہامہ کے مسروق عکی جیسے مسلمان سپوتوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور قبیلہ عک کے ساتھ مرتدین سے قتال کیا۔ تہامہ کے ارتداد کو کچلنے میں سر فہرست حضرت طاہر بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ تھے جو رسول اللہﷺ کی جانب سے تہامہ کے علاقہ پر والی تھے، جو قبیلہ عک اور اشعریوں کا موطن تھا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 277)

پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عکاشہ بن ثور کو حکم دیا کہ وہ تہامہ میں اقامت پذیر ہوں اور اپنے پاس اس کے باشندوں کو اکٹھا کر کے حکم کا انتظار کریں۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 277)

بجیلہ کے پاس حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو واپس بھیجا۔

(آپؓ کی کنیت ابو عمرو تھی، آپؓ 10 ہجری میں مشرف بہ اسلام ہوئے)

اور انہیں حکم دیا کہ اپنی قوم کے ثابت قدم رہنے والے مسلمانوں کو لے کر اسلام سے مرتد ہونے والوں سے قتال کریں اور پھر خثعم کے پاس پہنچیں اور ان کے مرتدین سے قتال کریں۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ اپنی مہم پر روانہ ہوئے اور حضرت صدیق اکبرؓ نے جو حکم دیا تھا اس کو بجا لائے۔ تھوڑے سے افراد کے علاؤہ ان کے مقابلہ میں کوئی نہ آیا۔ آپؓ نے ان کو قتل کیا اور بقیہ کو منتشر کر دیا۔

اور نجران میں بنو حارث بن کعب کے کچھ لوگوں نے اسود عنسی کی پیروی اختیار کر لی تھی اور رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد تردد کا شکار رہے۔ ان سے مقابلہ کی نیت سے مسروق عکی ان کی طرف نکلے۔ اولا انہیں اسلام کی طرف دعوت دی تو وہ سب بغیر کسی قتال کے مسلمان ہو گئے پھر ان کے اصلاح حال کے لیے مسروق نے ان کے درمیان اقامت اختیار کی اور جب سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو نجران کی حالت بالکل درست ہو چکی تھی۔

(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 156)

ارتداد کی تحریک کو اندر سے ناکام کرنے کی صدیقی سیاست کامیاب رہی اور لشکر اسامہ کی واپسی کے بعد فوج بھیجنا شروع کی۔


صفحہ 3 از 3