امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دسویں دلیل:
امام ابنِ تیمیہؒامامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دسویں دلیل:
[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’امامت علی رضی اللہ عنہ کی دسویں دلیل یہ آیت ہے:
﴿فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ﴾ (البقرۃ:۳۷)
’’آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کچھ کلمات حاصل کیے اور ان کے ذریعہ توبہ کی ۔‘‘
فقیہ ابن المغازلی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب دریافت کیا گیا کہ ان ’’کَلِمَاتٍ‘‘ سے کیا مراد ہے جو حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے سیکھے تھے اور ان پر توبہ قبول کی تھی ؟ تو آپ نے فرمایا :حضرت آدم علیہ السلام نے بحق محمد و علی و فاطمہ و حسن و حسین رضی اللہ عنہم اپنے گناہ کی بخشش چاہی تھی؛چنانچہ اللہ تعالیٰ
[[ا ن دلائل و براہین کی روشنی میں شیعہ کو چاہیے کہ وہ نصوص صریحہ کو نظر انداز کرکے مجمل الفاظ کا سہارا نہ لیں اور نہ کسی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم سر و ہم پلہ قرار دیں ۔ اسی طرح اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو وہ بھی مباہلہ میں ضرور شرکت کرتے۔[الدراوی]]
نے ان کا یہ گناہ معاف کردیا۔پس اس سے معلوم ہوا کہ آپ ہی امام ہوں گے اس لیے کہ آپ اللہ کی بارگاہ میں توسل حاصل کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برابر ہیں ۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]
[جواب]: اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے:
پہلا جواب :ہم اس روایت کی صحت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اہل علم کا اتفاق ہے کہ صرف ابن مغازلی کے روایت کرلینے کی بنا پر کسی روایت سے احتجاج کرنا جائز نہیں ہوجاتا ۔
دوسرا جواب :....اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع ہے۔[ہمارا دعوی ہے کہ یہ روایت اللہ و رسول پر بدترین جھوٹ ہے۔ اور روافض اس کی صحت ثابت نہیں کر سکتے]۔ محدث ابن الجوزی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الموضوعات ‘‘ میں امام دارقطنی کی سند سے نقل کیا ہے ۔امام دار قطنی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ الأفراد والغرائب ‘‘ میں ذکر کیاہے ۔ آپ فرماتے ہیں :
یہ روایت بیان کرنے میں عمرو بن ثابت منفرد ہے۔اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے؛وہ ابو المقدام سے روایت کرتا ہے۔ابو المقدام حسین الاشقریہ روایت بیان کرنے میں منفرد ہے۔
یحی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عمر و بن ثابت ثقہ اور مأمون نہیں ہے۔
ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ ثقہ راویوں کے نام پر موضوع روایتیں بیان کیا کرتا ہے۔
تیسرا جواب:....جوکلمات حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سیکھتے تھے ؛ قرآن کریم میں خود اس کی تفسیر مذکور ہے۔فرمایا:
﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ﴾ (الأعراف:۲۳)
’’دونوں نے کہا اے ہمارے رب!ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘
بعض سلف سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے ؛ اور کچھ اس کے مشابہ تفاسیر بھی ہیں ۔لیکن اس شیعہ نے جو تفسیر وسیلہ کی ذکر کی ہے اس کی کوئی بھی سند ثابت نہیں ہے۔
چوتھا جواب:....یہ ایک بدیہی بات ہے کہ توبہ کرنے میں حضرت آدم علیہ السلام کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ جب کوئی کافر و فاسق بھی اللہکے حضور میں توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوتی ہے؛ چاہے وہ اللہ کی بارگاہ میں کسی کا وسیلہ دے یا نہ دے۔ تو پھر حضرت آدم علیہ السلام کو توبہ کرنے میں کسی ایسی چیز کی ضرورت کیونکر ہوسکتی ہے جس کی ضرورت کسی عام گنہگارکو نہ ہو خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر؟ایک جماعت سے روایت کیا گیاہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی تھی ؛ تو اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرلی؛یہ بھی جھوٹ ہے۔ اس بابت امام مالک رحمہ اللہ اور منصور کے مابین جو حکایت نقل کی گئی ہے وہ بھی جھوٹ ہے۔ اگرچہ یہ روایت قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ الشفاء ‘‘ میں نقل کی ہے۔
پانچواں جواب :....نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی کویہ کلمات پڑھ کر توبہ کرنے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ کسی کو بھی یہ حکم نہیں دیا کہ وہ توبہ کرتے ہوئے یا دعا میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرے۔ اور نہ ہی آپ نے اپنی امت کے لیے یہ مشروع کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق میں سے کسی کا واسطہ یا قسم دے کر سوال کریں ۔اگر ایسی دعا مشروع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو اس سے ضرور آگاہ فرماتے ۔
چھٹا جواب:....اللہ تعالیٰ کو ملائکہ یا انبیائے کرام علیہم السلام کی قسم یا وسیلہ دینے کی کوئی بھی دلیل کتاب و سنت میں موجود نہیں ہے۔بلکہ کئی ایک بڑے علمائے کرام رحمہم اللہ جیسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فتوی دیا ہے کہ : ’’ اللہ تعالیٰ کو مخلوق میں سے کسی کی قسم دینا جائز نہیں ۔‘‘
ہم اپنے موقع پر اس کی اچھی طرح وضاحت کرچکے ہیں ۔
ساتواں جواب : [مان لیجیے کہ]اگر ایسا کرنا مشروع ہی تھا؛ توحضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی ہیں ۔تو پھر آپ اللہ کو کسی ایسے کا وسیلہ کیونکر دیتے آپ خود جس سے افضل ہیں ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام سے افضل ہیں ؛ حضرت آدم علیہ السلام حضرت علی؛ و فاطمہ اور حسن وحسین رضی اللہ عنہم سے افضل ہیں ۔
آٹھواں جواب:....[اگر اس کو ہم تسلیم بھی کرلیں تو پھر بھی] یہ ائمہ کی خصوصیت نہ ہوئی؛ اس لیے کہ یہ فضیلت تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے بھی ثابت ہے۔جب کہ ائمہ کی خصوصیات عورتوں کے لیے ثابت نہیں ہوتیں ۔اور جو چیز ان کی خصوصیات میں سے نہ ہو؛ اس سے امامت لازم نہیں آتی۔کیونکہ یہ لازم ہے کہ امامت کی دلیل مدلول کے ساتھ لازم وملزوم ہو۔ اگر یہ روایت امامت کی دلیل ہوسکتی ہے تو پھر جو بھی اس تعریف کے دائرہ میں آتا ہو وہ امامت کا مستحق ہوگا؛ حالانکہ نص واجماع کی روشنی میں عورت امامت کی مستحق نہیں ہوسکتی ۔