Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

درس و عبرت

  علی محمد الصلابی

امت کی تعمیر و ترقی اور انہدام و افساد میں عورت کا کردار

یمن میں حروب ارتداد کے دوران خواتین کے دو کردار نمایاں ہوئے

ایک پیکر عفت و عصمت خاتون کا کردار جو اسلام کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی اور رذائل و فساد سے برسرِ پیکار ہوئی۔ مسلمانوں کے ساتھ مل کر شیاطین انس و جن کی سرکشی کو کچلنے کے لیے ڈٹ گئی۔ یہ نیک بخت خاتون شہر بن باذان کی بیوی، سیدنا فیروز فارسی رضی اللہ عنہ کی چچا زاد بہن آزاد تھی، جو پورے عزم و حوصلے اور تدبر کے ساتھ کذابِ یمن اسود عنسی کے قتل کا محکم منصوبہ تیار کرنے میں شریک ہوئی۔ ہر دور کے مسلمان آزاد کی دینی غیرت و حمیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور محمد حسین ہیکل نے اس نیک بخت خاتون کے سلسلہ میں جو بکواس کی ہے اس کو انتہائی قبیح جانتے ہیں۔ چنانچہ ہیکل نے کذاب یمن اسود عنسی کے سلسلہ میں ان کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے اس کو شہوانی عصبیت پر محمول کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: اسود جب غالب آیا تو زمین میں لوگوں کو خوب قتل کیا، قیس اور فیروز کو ذلیل کیا اور ان دونوں کے ساتھ ابنائے فارس کے سلسلہ میں سوچنے لگا جو اس کے قتل کی سازش کر رہے تھے۔ اس کی فارسی بیوی (آزاد) کو اپنے شوہر کے ارادے کا پتہ چلا، اس کے اندر نسلی رگ پھڑک اٹھی اور اس کے دل میں اس کمینے کاہن کے خلاف بغض و عناد کے اسباب حرکت میں آگئے، کیونکہ اس نے اس کے فارسی نوجوان شوہر کو قتل کیا تھا، جس پر یہ دل و جان سے فریفتہ تھی۔ اس نے نسوانی خصلت سے اس کو مخفی رکھا اور اپنی نسوانیت کو پوری فیاضی کے ساتھ اس کے سپرد کر دیا، جس کی وجہ سے وہ اس پر اعتماد کرنے لگا اور اس کی وفاداری کا خواہاں ہو گیا۔

(الصدیق ابوبکر: صفحہ 79)

اس اسلوب میں اس مومنہ خاتون پر طنز پایا جاتا ہے، ہیکل صاحب یہاں اس خاتون کو غداری کے ساتھ متہم کرنا چاہتے ہیں کہ اس نے فارسی النسل ہونے کی وجہ سے عربی النسل اسود کے ساتھ غداری کی اور یہ تنقید کرنا چاہتے ہیں کہ اس کے ظاہر و باطن میں فرق تھا لیکن اس واقعہ کی یہ توجیہ اپنے موقع و محل سے ہٹی ہوئی ہے۔

(الکا مل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 310)

اس نیک خاتون آزاد کے مسلم شوہر کو قتل کر کے اسود نے اس کو زبردستی بیوی بنا لیا تھا، وہ خود اسود کذاب سے متعلق فرماتی ہیں: واللہ اس سے بڑھ کر میرے نزدیک مبغوض اللہ تعالیٰ نے کسی کو پیدا نہیں کیا۔ اللہ کے کسی حق کو پورا نہیں کرتا اور کسی حرام سے باز نہیں آتا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 310)

اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کو اسود عنسی جیسے ظالم شخص کی ہلاکت کا سبب بنایا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کرم نہ ہوتا اور پھر اس خاتون کی بابرکت کوشش نہ ہوتی تو سیدنا فیروز رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی اسود کو قتل نہ کر سکتے۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 308)

اس عظیم کارنامے کا اصل محرک دین و عقیدہ اور اسلام سے سچی محبت اور کذاب اسود عنسی سے بغض تھا جو یمن سے اسلام کا صفایا کرنے پر تلا ہوا تھا۔

یہ ایک مسلم خاتون کی نہایت روشن اور تابناک تصویر ہے جو یمن میں دین کی خاطر جہاد کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

اور دوسرا کردار یمن کی ان حسیناؤں کا ہے جن کا تعلق یہود اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے حضر موت کے لوگوں سے تھا، ان کا کردار انتہائی گھناؤنا اور تاریک ہے۔ یہ رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر سن کر پھولے نہ سمائیں، فسق و فجور کا بازار گرم کیا، رنگین راتیں سجائیں، لوگوں کو فواحش و رزائل پر ابھارا، شیطان اور اس کے مریدوں نے ان راتوں میں ان کے ساتھ ننگا ناچ ناچا اور اسلام سے پھرنے اور اسلام کے خلاف تمرد و عصیان پر جشن منایا۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 119)

یہ زانیہ خواتین جاہلیت اور اس میں موجود منکرات و فواحش کی مشتاق ہوئیں اور جس طرح مکھیاں گندگی کے ڈھیر پر کھچی چلی آتی ہیں اسی طرح یہ فواحش و منکرات پر فریفتہ ہو گئیں۔ جاہلیت میں فواحش کی عادی ہو چکی تھیں، اسلام کی نظافت نے ان کو ان گندگیوں سے روک دیا تھا، جسے یہ قید خانہ تصور کر رہی تھیں اور تنگی محسوس کر رہی تھیں گویا کہ ان کی جان گھٹ رہی تھی۔ 

جیسے ہی انہوں نے رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر سنی، خوشی و مسرت کا اظہار کیا اور اپنے ہاتھ مہندی سے رنگ لیے اور خوشی سے دف بجا بجا کر گانے لگیں۔ نئی حکومت کے سلسلہ میں ان کی تمنائیں بر آئیں۔ ان میں سے اکثر کا تعلق شرفائے عرب سے تھا اور بعض یہودی تھیں۔ اسلام کے خلاف بغاوت اور اسلامی حکومت کے خلاف تمرد و عصیان سے دونوں کی مصلحتیں وابستہ تھیں، خواہ وہ یہود ہوں یا شرفائے عرب۔ یہ تحریک تاریخ کے اندر فاحشہ خواتین کی تحریک سے معروف ہے۔ ان فاحشہ خواتین کی تعداد بیس سے زیادہ تھی، جو حضر موت کی مختلف بستیوں میں آباد تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت یاب یامن یہودیہ تھی، یہ زنا میں ضرب المثل بن چکی تھی۔ کہا جاتا تھا: بلی سے بڑھ کر زانیہ۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ دور جاہلیت میں فاسقوں اور فاجروں کی ان کے یہاں باری لگتی تھی۔ لیکن ان کو ایسے ہی نہیں چھوڑا گیا کہ جس طرح چاہیں معاشرہ کو تباہ کریں۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 119)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی خبر پہنچی، یمن کے ایک شخص نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو یہ اشعار ارسال کیے:

أبلغ ابابکر اذا ماجِئْتَہٗ

أنَّ البَغَایا رُمَنَ أیَّ مَرامِ

ترجمہ: جب تم سیدنا ابوبکرؓ کے پاس پہنچو تو انہیں یہ بتا دینا کہ فاحشہ عورتیں بری طرح حرکت میں آگئی ہیں۔

أظْہَرْنَ مِنْ مَوتِ النَّبِیِّ شَمَاتَۃً

وخضَّبْنَ أیْدِ یَہُنَّ بِالعُلّام

ترجمہ: نبی کریمﷺ کی وفات پر خوشی منائی ہے اور اپنے ہاتھوں کو مہندی سے رنگا ہے۔

فاقْطَعْ ہُدیت أکُفَّہُنَّ بِصَارِمٍرِمٍ

کالبَرْقِ أمضی مِنْ مُتونِ غَمامٍ

ترجمہ: اللہ آپ کو ہدایت دے، ان کی ہتھیلیاں بدلیوں کے اوپر سے چمکنے والی بجلی کی طرح تلوار سے کاٹ دیں۔

(عیون الاخبار: جلد 3 صفحہ 133)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خبر پاتے ہی اپنے عامل حضرت مہاجر بن ابی امیہؓ کو پورے جزم اور سختی کے ساتھ خط لکھا اور اس میں تحریر فرمایا:

جب میرا یہ خط تمہیں پہنچے تو اپنے شہسواروں اور پیادہ فوج کے ساتھ ان خواتین تک پہنچو اور ان کے ہاتھ کاٹ دو۔ اگر کوئی اس راستے میں تمہارے سامنے آئے تو اسے موقع دے کر حجت قائم کرو اور جس عظیم گناہ اور عدوان میں وہ شریک ہوا، اس کو بتا دو۔ اگر وہ باز آ جائے تو ٹھیک ورنہ اس سے اعلان جنگ کرو، اللہ خائنوں کی چال کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کرتا۔

جب سیدنا مہاجر رضی اللہ عنہ نے یہ خط پڑھا تو اپنے شہسواروں اور پیادہ فوج کو جمع کیا اور اپنی مہم پر ان فاحشہ خواتین کی طرف نکل پڑے۔ کندہ اور حضر موت کے کچھ لوگ آڑے آئے ان کو اپنے مؤقف سے باز آنے کا موقع دیا لیکن وہ لڑنے کے لیے ڈٹ گئے۔ آپؓ نے ان سے قتال کیا اور شکست فاش دی اور پھر ان خواتین کو گرفتار کیا، ان کے ہاتھ کاٹ دیے، ان میں سے اکثر مر گئیں اور بعض کوفہ کی طرف بھاگ گئیں۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 184)

ان کو اسلام کے محکمہ عدل سے سزا مل گئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عامل نے ان کو گرفتار کیا اور ڈاکہ زنی کی حد جاری کی۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 119)

خلیفہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضر موت میں دو عورتوں نے رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کی ہجو میں گانا گایا ہے۔ حالانکہ حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سزا دی تھی اور اس کی پاداش میں ان کے ہاتھ کاٹ دیے تھے اور ان کے دانت نکال دیے تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ اس سزا سے راضی نہ ہوئے اور اس کو ہلکا تصور کیا اور اس سلسلہ میں ان کو خط روانہ کیا، اس میں اس خاتون کے بارے میں فرمایا جس نے رسالت مآبﷺ پر سب و شتم کے ساتھ راگ الاپے تھے: مجھے اس کی خبر ملی ہے جو تم نے اس خاتون کے بارے میں اختیار کیا ہے، جس نے رسول اللہﷺ پر سب و شتم کرتے ہوئے گانے گائے ہیں۔ اگر تم اس سلسلہ میں سبقت نہ کر جاتے تو میں اس کو قتل کرنے کا حکم دیتا کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے حدود عام حدود کی طرح نہیں ہیں۔ جو مسلمان اس کا ارتکاب کرے وہ مرتد ہے اور جو معاہد ارتکاب کرے وہ محارب اور غدار ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 157)

اور دوسری خاتون کے بارے میں فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے اس خاتون کے ہاتھ کاٹ دیے اور دانت نکال دیے ہیں، جس نے مسلمانوں کی ہجو میں گانا گایا ہے۔ اگر وہ مدعیان اسلام میں سے ہے تو اسے ادب سکھاؤ اور مثلہ کیے بغیر قتل کر دو، اور اگر ذمیہ ہے تو شرک واللہ سب سے بڑا گناہ ہے اگر اس سلسلہ میں میں پہل کیا ہوتا تو تم ناپسندیدہ چیز پاتے، وقار کو اختیار کرو، قصاص کے علاؤہ مثلہ کرنے سے بچو، یہ گناہ ہے اور نفرت دلانے والی چیز ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 157)