معرکہ بزاخہ کے نتائج
علی محمد الصلابیمدعیان نبوت میں سے ایک کی قوت کا خاتمہ ہوا اور عربوں کی بڑی جماعت اسلام میں واپس آ گئی۔ بزاخہ کی شکست کے بعد بنو عامر یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ: ہم جہاں سے نکلے ہیں وہاں داخل ہو جائیں گے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان سے اس شرط پر بیعت لی جس پر اہلِ بزاخہ، اسد، غطفان اور طے سے ان سے قبل بیعت لی تھی اور انہوں نے اسلام پر اپنے ہاتھ ان کے ہاتھوں میں ڈال دیے۔ سیدنا خالدؓ نے اسد، غطفان، ہوازن، سلیم اور طے سے یہ شرط لگائی کہ ان لوگوں کو حاضر کریں گے جنہوں نے ارتداد کی حالت میں مسلمانوں کو نذر آتش کیا، ان کا مثلہ کیا اور ان پر زیادتی کی ہے۔ انہوں نے ان کو حاضر کیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کے جرم کی پاداش میں ان سے قصاص لیتے ہوئے کچھ کو نذر آتش کر دیا، کچھ کو پتھر سے کچل کر مارا، کچھ کو پہاڑ سے دھکیل کر ختم کر دیا، کچھ کو کنویں میں اوندھا لٹکا دیا اور کچھ کو تیر سے مارا۔ بقرہ بن ہبیرہ اور قیدیوں کو دارالخلافہ مدینہ روانہ کیا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خط تحریر کیا:
بنو عامر اعراض کے بعد واپس آ گئے ہیں اور تردد و انتظار کے بعد اسلام میں داخل ہو گئے ہیں اس سے کم پر میں کسی سے راضی نہیں ہوا، خواہ اس نے مجھ سے قتال کیا ہو یا مصالحت کی ہو کہ وہ ان لوگوں کو میرے پاس لا حاضر کریں جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں۔ پھر ان مجرموں کو میں نے ہر طرح قتل کر دیا اور آپؓ کے پاس بقرہ اور اس کے ساتھیوں کو بھیج رہا ہوں۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 82)
ان قیدیوں میں عیینہ بن حصن بھی تھا، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے سخت جکڑنے کا حکم دیا تا کہ عبرت حاصل ہو۔ جس وقت وہ مدینہ میں داخل ہوا اس کے دونوں ہاتھ گردن میں بندھے ہوئے تھے تا کہ اس پر عتاب ہو اور دوسروں کو خوف پیدا ہو۔ جب وہ اس کیفیت میں مدینہ میں داخل ہوا تو مدینہ کے بچے اس کا مذاق اڑانے لگے اور یہ کہتے ہوئے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے مکے رسید کرنے لگے: اللہ کے دشمن! تو اسلام سے مرتد ہو گیا۔ وہ جواب دیتا: میں کبھی ایمان لایا ہی نہ تھا۔ اس کو خلیفہ رسول سیدنا ابوبکرؓ کے پاس حاضر کیا گیا، آپؓ نے اس کے ساتھ عفو و درگزر کا ایسا برتاؤ کیا کہ وہ اس کی تصدیق نہ کر سکا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے اس کے ہاتھ کھولنے کا حکم دیا پھر اس سے توبہ کرائی، عیینہ نے خالص توبہ کا اعلان کیا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت پیش کی اور اسلام لایا، پھر اچھی طرح اسلام پر کار بند رہا۔
(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 87)
طلیحہ بھاگا اور جا کر بنو کلب میں پناہ لی پھر اسلام قبول کیا اور بنو کلب ہی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات تک مقیم رہا۔ وہ اس وقت اسلام لایا جب اس کو یہ خبر ملی کہ بنو اسد، بنو غطفان اور بنو عامر اسلام لا چکے ہیں۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں عمرہ کے لیے مکہ روانہ ہوا، مدینہ کے گردونواح سے گزرا، لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خبر دی کہ یہ طلیحہ جا رہا ہے۔ سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا: میں کیا کروں! اس کو چھوڑو، اللہ نے اسے اسلام کی ہدایت دے دی ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 59)
اور ابنِ کثیر نے ذکر کیا ہے کہ طلیحہ اس کے بعد اسلام کی طرف لوٹ آیا اور دورِ صدیقی میں مکہ عمرہ کے لیے گیا اس نے شرم کی وجہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں آپؓ سے ملاقات نہ کی۔
سیدنا ابوبکرؓ نے عراق و شام کی فتوحات میں گزشتہ مرتدین کو شرکت سے روک دیا تھا۔ یہ امت کے سلسلہ میں بطورِ احتیاط تھا کیونکہ جو ماضی میں ضلالت و گمراہی کا شکار ہوئے ہوں یا مسلمانوں کے ساتھ مکر و کید کیا ہو ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہو سکتا ہے ان کی فرماں برداری مسلمانوں کی قوت و طاقت کے پیش نظر رہی ہو۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آئمہ میں سے ہیں جو لوگوں کے لیے نقوش راہ متعین کرتے ہیں اور لوگ ان کے اقوال و افعال کی اقتدا کرتے ہیں۔ اس لیے سیدنا ابوبکرؓ امت کے مصالح کے پیش نظر احتیاط کے پہلو کو اختیار کرتے رہے اگرچہ اس سے بعض لوگوں کی شان میں تنقیص ہو رہی ہو۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 67)
امت کو اس سے عظیم درس مل رہا ہے کہ ان لوگوں پر اعتماد نہ کیا جائے جو ماضی میں الحاد کا شکار ہوئے ہوں اور پھر بعد میں دین کی پابندی اختیار کی ہو۔
ایسے لوگوں پر کلی اعتماد کرنے اور قائدانہ اعمال ان کے سپرد کرنے کی وجہ سے بسا اوقات امت کو خطرناک مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ان لوگوں کے سلسلہ میں احتیاط اختیار کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ان کے دین میں ان کو متہم قرار دیں اور ان پر سرے سے اعتماد ہی نہ کیا جائے۔ اس طرح کے لوگوں کے ساتھ تعامل کے سلسلہ میں صدیقی سیاست کے یہ نقوش ہیں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 67)
طلیحہ پکا مسلمان ہو گیا اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوا۔
سيدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تم عکاشہ بن محصن اور ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہما کے قاتل ہو۔ واللہ میں تمہیں کبھی پسند نہیں کر سکتا۔
اس نے عرض کیا: امیر المؤمنین سیدنا عمرؓ ایسے دو شخصوں کے بارے میں متہم نہ قرار دیں جنہیں اللہ نے میرے ہاتھوں سے شرف و منزلت عطا فرمائی۔ ان کے ہاتھوں کو رسوا نہیں کیا۔
اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلیحہ سے بیعت لے لی، پھر اس سے فرمایا: اے فریب خوردہ! تمہاری کہانت میں سے کچھ باقی ہے؟
کہا: بھٹی کے ایک یا دو پھونک۔
پھر اپنی قوم کے پاس چلا گیا اور وہیں اقامت اختیار کر لی، پھر عراق کی طرف چلا گیا۔
(التاریخ الاسلامی جلد 9 صفحہ 59 تاریخ الطبری جلد 4 صفحہ 81)
اس کا اسلام صحیح تھا اور اس سلسلہ میں اس کو مطعون نہ کیا جا سکا۔ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف اور معذرت پیش کرتے ہوئے کہا:
نَدِمْتُ علی ما کان من قَتْلِ ثابت
وعُکَّاشۃ الغُنْمِیِّ ثم ابن مَعْبَدِ
ترجمہ: عکاشہ غنمی اور ثابت پھر ابن معبد کے قتل پر میں نادم ہوں۔
واعظم من ہاتین عندی مصیبۃً
رجوعی عن الاسلام فِعْلَ التعمُّدِ
ترجمہ: ان دونوں واقعات سے بڑھ کر مصیبت میرے نزدیک میرا قصداً اسلام سے پھر جانا رہا۔
وترکی بلادی والحوادث جَمَّۃٌ
طریدا وقِدْمًا کنت غَیْرَ مطرَّد
ترجمہ: حادثات بے شمار ہیں، من جملہ ان حادثات کے میرا وطن چھوڑ کر جلا وطنی کی زندگی گزارنا ہے اور برابر میں جلا وطن ہی رہا۔
فہل یقبل الصدیق انی مراجعٌ
ومُعطٍ بما احدثتُ من حَدَثٍ یدی
ترجمہ: تو کیا سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اس بات کو قبول فرمائیں گے کہ میں اپنے کیے سے رجوع کرتا ہوں اور اپنا ہاتھ بیعت کے لیے بڑھاتا ہوں۔
وأنِّی من بعد الضلالۃ شاہدٌ
شہادۃ حقٍّ لَسْتُ فیہا بِمُلحِدٍ
ترجمہ: اور میں ضلالت کے بعد کلمہ حق کی شہادت دیتا ہوں اور اس شہادت میں ملحد نہیں ہوں۔
بأنَّ الہ الناس ربی وأنَّنی
ذلیل وان الدین دین محمدٍ
ترجمہ: میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ لوگوں کا معبود برحق ہی میرا رب ہے اور میں ذلیل ہوں اور صحیح دین محمدﷺ کا ہی دین ہے۔
(دیوان الردۃ للعتوم: صفحہ 86)