حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 5

حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ

قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے شیعیت کا مرکز چکڑالہ ضلع میانوالی تھا۔ اللہ پاک کی شان کہ شیعیت کی سرکوبی کے لئے منتخب ہونے والی شخصیت کا تعلق چکڑالہ سے تھا۔ جس نے علمی کتابیں لکھ کر اور مناظرے کر کے رفض و الحاد کو خوب پچھاڑا اور شکست روافض (شیعہ) کا مقدر بنی۔ آپؒ نے پوری زندگی مذاہبِ باطلہ کے رد میں گزاری۔ آپؒ چوٹی کے مناظر تھے، صاحبِ علم و تحقیق مصنف تھے، مشہور منکر حدیث عبداللہ چکڑالوی کے باطل مذہب کی بیخ کنی بھی آپؒ کے حصے میں آئی چودہ سو سالہ حق و باطل کی جنگ میں جہاں محققین اہلِ سنّت نے ناموسِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے زندگیاں قربان کی انہیں ہستیوں میں ایک نامور محقق ،امام یگانہ، مقبول اہلِ زمانہ ،مجتہد فی التصوف، مجدد طریقت، فاتحِ اعظم رافضیت، مناظر اسلام، حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ کی ذات بابرکت ہے۔
نام و نسب:
آپؒ کا نامِ اسمِ گرامی الله یارؒ ہے عقیدت مند اور شاگرد آپؒ کو ادب سے شیخِ مکرم کہہ کر پکارتے۔ آپؒ کے والد بزرگوار کا نام ذوالفقار تھا۔ آپؒ کا مولد و مسکن پنجاب کے شہر میانوالی سے تقریباً 45 میل کے فاصلے پر واقع موضع چکڑالہ ہے۔ جہاں 1904ء میں ایک متوسط زمیندار گھرانے میں آپؒ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ 
سِلسلہ نسب:
آپؒ کا تعلق قبیلہ اعوان سے ہے۔ قبیلہ اعوان کا سلسلہ نسب سادات ہاشمیہ علویہ سے بتایا جاتا ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد سادات بنی فاطمہؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی دوسری بیویوں کی اولاد مدینہ منورہ سے ہجرت کر کے پہلے دمشق اور پھر مصر چلی گئی۔پھر ان میں سے بعض بنی اُمیّہ اور عباسی خاندان کے عہدِ حکومت میں خراسان اور ایران چلے گئے قبیلہ ہاشمیہ علویہ نے اپنی خاندانی حشمت و امارت کے سبب موقع پاکر ہرات کے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ جب امان شاہ اپنے باپ شاہ حسین کے بعد مسند نشین ہوئے تو وہ سادات بنی فاطمہؓ کی بہت اعانت کرتے تھے۔اسی وجہ سے ان کی اولاد کا لقب اعوان یعنی معاون سادات مشہور ہوگیا تین چار پُشت کے بعد جب مغلوبیت کا دور شروع ہوا تو اس قبیلہ کے لوگ سرحد پار کرکے اٹک اور مالا باغ کے علاقے میں چلے گئے اور یہاں اپنی شجاعت اور دلیری سے ہندو راجاؤں کو شکست دے کر کوہستان کے علاقے پر قبضہ کر لیا اور پھر یہیں مستقل آباد ہوگئے۔
آپؒ نے خود بھی ایک مکتوب میں اسی طرف اشارہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
دوسری دنیا خواہ کچھ کرے ،مگر خلفائے اربعہؓ کی نسل خاص کر سیدنا علی المرتضیٰؓ اور خاص کر سیدہ فاطمہ الزہراؓ کی اولاد کا اوّلین فرض ہے کہ وہ اپنی جدّی میراث کو سنبھالیں۔ عزیزم! میں بھی سیدنا علی المرتضیٰؓ کی اولاد سے ہوں۔
(مکتوب مؤرخہ 7جولائی  1972ء بنام کیپٹن امان شاہ) 
والدہ کا خواب:
ابھی آپؒ کی عمر تقریباً بیس سال ہی کی تھی ایک دن اپنی والدہ ماجدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دینی علوم کے لیے اجازت طلب کی حُسنِ اتفاق دیکھئے کہ اسی رات آپؒ کی والدہ صاحبہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ ان کے گھر تشریف لائے ہیں اور انہوں نے دو تھیلیاں پیش کر کے فرمایا کہ یہ تمہارے بیٹے کے لیے ہیں در حقیقت یہ آپؒ کےلئے علومِ باطنی کی غائبانہ بشارت تھی چنانچہ بعد کے حالات سے اس خواب کی تعبیر کی بھرپور تصدیق ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو ان دونوں نعمتوں سے خوب خوب سیراب فرمایا حتیٰ کہ آپؒ علوم میں کمال کی حدود پر پہنچ گئے۔ 
تعلیم و تربیت:
آپؒ ابتدائے عمر سے ہی بے حد ذہین اور محتنی تھے۔اس لیے جب آپؒ کی توجہ تعلیم کی طرف ہوئی تو پرائمری جماعتوں کا نصاب مکمل کرنے میں آپؒ کو کوئ مشکل پیش نہ آئی اس وقت اس علاقہ میں باقاعدہ مدرسے نہ تھے اس لیے جس گاؤں میں بھی آپؒ کو کسی فن کا استاد کا پتا لگتا آپؒ فوراً ان کی پاس تحصیلِ علم کے لیےچلے جاتے۔ اسی سلسلہ میں آپؒ موجودہ  ضلع چکوال کے ایک نواحی قصبہ موڑہ کورچشم تشریف لے گئے۔ اور پھر ضلع جھنگ کے ایک قصبہ لنگر مخدوم کے نزدیک واقع چک نمبر 10 میں دینی تعلیم حاصل کی۔ چونکہ آپؒ میں خدا داد صلاحیتیں پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر تھیں، اس لیے تھوڑے ہی عرصہ میں صرف و نحو، منطق، فلسفہ، عربی اور فارسی زبان میں مہارت حاصل کر لی۔
آپؒ کی حافظہ اور یاداشت کا یہ عالم تھا کہ اپنے استاد سے جو سبق ایک بار سن لیتے وہ یاد ہو جاتا۔اس لیے آپؒ کو کسی استاد کے پاس چند ماہ سے زیادہ عرصہ گزارنے کی ضرورت پیش نہ آئی اور تین سال سے بھی کم عرصہ میں علومِ ظاہری کی تعلیم مکمل کرلی، حتیٰ کہ اپنے زمانے کے چوٹی کے مناظروں میں آپؒ کا شمار کیا جانے لگا۔
دورہ حدیث کے لیے آپؒ دہلی تشریف لے گئے جہاں مدرسہ امینیہ میں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیا۔یہ مدرسہ مشہور عالمِ دین مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کی  زیرِ سرپرستی چل رہا تھا۔ وہاں اس وقت دارالعلوم دیوبند کے علماء کرام درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کیونکہ ان دنوں ریشمی رومال تحریک کے سبب دارالعلوم دیوبند میں تعلیم کا سلسلہ تعطل کا شکار تھا۔ چنانچہ اس کے اساتذہ انگریزی حکومت کے ظلم و ستم کے باعث قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار تھے اور جو بچ گئے وہ مدرسہ امینیہ دہلی سے منسلک ہوگئے۔ آپؒ نے مفتی کفایت اللہ دہلوی سے دورہ حدیث کیا جب آپؒ کو سند ملی تو اس پر لکھا یہ میرا ایسا شاگرد ہے جس سے مجھے بھی بہت فائدہ ہوا آپؒ کو بائیبل اور ہندوؤں اور سکھوں کی مذہبی کتابوں پر بھی عبور حاصل تھا۔اس سلسلہ میں گرُمکھی اور سنسکرت زبانیں بھی سیکھیں۔
آپؒ نے کچھ عرصہ قاسم العلوم ملتان کے ایک مدرسہ میں مدرس کے فرائض انجام دیئے۔ 
آغاز رد شیعیت:
آپآپؒ نے ابتداءً شیعیت کے خلاف تقریراً و تحریراً خوب کام کیا، ایک دن دل میں خیال آیا کہ شیعہ کی غلاظت بھری کتب پڑھ کر کام کرنا پڑتا ہے اس خیال سے شیعہ کتب کا مطالعہ ترک کر دیا اور کام میں بھی کمی واقع ہوئی چنانچہ اپنی کتاب الدین الخالص صفحہ 338 رقم طراز ہیں:
صفحہ 1 از 5