حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 5
میں نے علومِ ظاہری سے فارغ ہو کر علومِ باطنیہ کی طرف توجہ کی، منازل سلوک طے کرتے ہوئے جب دربار نبویﷺ تک رسائی ہوئی تو ارادہ کیا کہ اب بقیہ عمر تخلیہ میں بیٹھ کر یادِ الہیٰ کروں گا۔ ایک روز سحری کے وقت اپنے معمول میں دربارِ نبویﷺ میں حاضر ہوا تو اچانک حضور نبی کریمﷺ کی طرف سے یہ القائے روحانی میرے قلب پر شروع ہوا! حضورﷺ نے فرمایا: اسلام کا مکان پتھروں اور اینٹوں سے تیار نہیں ہوا اس میں میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہڈیاں لگائی گئیں، پانی کی جگہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا خون لگایا گیا اور گارے کی جگہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا گوشت لگایا گیا، اب لوگ (شیعہ) اس مکان کو گرانے پر لگے ہوئے ہیں، میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین کی جا رہی ہیں اور جو شخص اس کے انسداد کی قدرت رکھتے ہوئے خاموشی سے بیٹھا رہے کل قیامت میں خدا کے سامنے کیا جواب دے گا ایک صوفی عارف عالم کو ہمیشہ خدا پر بھروسہ اور توکل چاہیئے، جب تک خدا تعالیٰ نے اس کے وجود سے کام لینا ہے اس کو محفوظ رکھے گا، جب اس کی ڈیوٹی پوری ہو گئی اس کو بلا لے گا۔
آپؒ کے بقول یہ واقعہ تقسیم ملک (پاکستان) کے بعد پیش آیا۔ اس کے بعد سے آپؒ نے نہایت جرأت کے ساتھ عظمتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دفاع کیا اور میدانِ مناظرہ میں مخالفین کو پے درپے فاش شکستوں سے دوچار کیا۔ آپؒ کے ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں مناظرے ہوئے۔ ان تمام مناظروں میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق کو غالب رکھا۔ جن لوگوں نے آپؒ کے مناظرے دیکھے ہیں انہیں علم ہے کہ ہر میدان میں فتح و کامیابی نے آپؒ کے قدم چومے تبھی اس دور میں فاتحِ اعظم کے لقب سے مشہور ہوئے آپؒ نے ایک زمانہ تک دینِ اسلام کے مخالفین و معترضین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عصمت و عظمت پر گندگی اچھالنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا، اور دین اسلام اور اصحابِ رسولﷺ کا دفاع کیا، یہی خدمات بارگاہِ ایزی میں شرفِ قبولیت پا گئی کہ آپؒ کو وہ روحانی منصب و مرتبہ عطا ہوا جو اس وقت کسی اور کو حاصل نا ہوا 
پنجند کو ربوہ ثانی بنانے کی قادیکوششصص:کوشش
1963ء میں آپؒ نے اپنے علاقے میں قادیانی مذہب کے رد میں ایک یادگار جلسہ منعقد کیا تلہ گنگ میانوالی روڈ پر پنجند ایک مشہور قصبہ ہے وہاں قادیانیوں کا بہت اثر ہو گیا نا صرف چند بڑے بڑے با اثر زمیندار قادیانی ہو گئے۔ بلکہ ان کے زیرِ اثر کئی سادہ دیہاتی بھی گمراہ ہو گئے چنانچہ انہوں نے وہاں ربوہ سے دو قادیانی خواتین مبلغہ بھی متعین کیں اور مردوں کا بھی پروگرام ترتیب دیا کہ یہاں سکول اور خیراتی ہسپتال بنایا جائے۔ ختمِ نبوت تحریک کے جلسے بھی زور و شور سے ہوتے تھے مگر کوئی تدارک نہ ہوپا رہا تھا۔ چنانچہ ایک بہت ہی غریب آدمی نے آ کر آپؒ کو صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے جلسہ کرنے کی دعوت دی۔ آپؒ وہاں پیدل تشریف لے گئے رات وہاں ٹھہرے آپؒ ؒکے لئے روکھی سوکھی روٹی کا اہتمام کیا گیا اور رات ہم نے زمین پر لیٹ کر بسر کی۔ صبح جلسہ ہوا۔ آپؒ نے فرمایا کہ یہ ان پڑھ لوگ ہیں علمی دلائل کو نہیں سمجھ سکتے اس لیے تحریک کے جلسے کوئی اثر پیدا نہیں کر پا رہے۔ چنانچہ آپؒ نے اس کی اپنی کتب اور سوانح سے اس کی شخصیت کردار اور عقائد کا نقشہ کھینچا تو وہ لوگ تائب ہو گئے اور پنجند کو ربوہ ثانی بنانے کا قادیان منصوبہ خاک میں مل گیا۔ الغرض آپؒ کے 60 سالہ مناظرانہ دور کے شب و روز ایسے ہی درخشاں اور زریں کارناموں سے عبارات مرقوم ہیں جو یقیناً آپؒ کی تبحر علمی، حاضر دماغی اور قوت ایمانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مذاہبِ باطلہ کا کوئی بھی فرقہ آپؒ کی ایمانی یلغار کے سامنے اپنے باطل عقائد و نظریات کو منوانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ 
تصانیف:
آپؒ نے عقائد، تصوف اور تردیدِ روافض پر درجنوں کتب لکھیں جو انتہائی دقیق تحقیق کے نچوڑ پر مشتمل ہیں ان کے بعد رہتی دنیا تک مزید کسی کو تحقیق کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور یہ کتب امتِ مسلمہ کی دینی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔
1: تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین
تحذیر المسلمین میں اہلِ سنت و الجماعت اور شیعہ مذہب کے دینی عقائد کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور دونوں جانب کی مستند اور دین کی بنیادی تعلیمات و نظریات کی حامل کتابوں کے حوالہ جات سے مختلف عقائد مثلاً عقیدہ بداء، عقیدہ رسالت و خلافت، عقیدہ امامت، حکومتِ ائمہ ،عقیدہ آخرت وغیرہ جیسے مضامین پر قرآن وحدیث اور تاریخی حقائق کی روشنی میں بحث کی گئی ہے تاکہ دینِ اسلام اور دینِ شیعہ کے متعلق عوام کی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔تحقیق کی رُو سے یہ ایک نادر تصنیف ہے۔
2: ایمان بالقرآن
 آپؒ کی ایک اور مایہ ناز تصنیف ایمان بالقرآن ہے۔ اس کی مقبولیت کا اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کئی بار طبع ہو چکی ہے۔ آپؒ نے مسلمانوں کو یہودی اور اہلِ شیعہ کی اس سازش سے باخبر کرنا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ الله کی کتاب قرآنِ کریم محرف ہے۔ اس لئے یہ قرآن قابلِ اعتبار نہیں۔حضرت جیؒ ایک بڑے پایہ کے عالم ربانی تھے۔ آپؒ نے مناظروں کے دوران علمائے شیعہ کو بار بار چیلنج کیا تھا کہ وہ قرآن پر اپنا ایمان ثابت کریں۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ شیخین بالخصوص اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالغموم کو مسلمان تسلیم نہ کرنے کے بعد قرآن کو اللہ کی کتاب ثابت کرنا۔نبی کریمﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا اور سیدنا علیؓ کی خلافت حقہ ثابت کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ نزولِ قرآن کے اور نبوت کے عینی گواہ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو شیعہ حضرات امین تو کیا صاحبِ ایمان بھی نہیں سمجھتے۔
لہٰذا آپؒ نے علمائے اہلِ سنت و الجماعت کو دعوت دی کہ وہ ایسی سازشوں کے ہتھکنڈوں سے باخبر ہو کر اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کی اہمیت سے آشنا ہوں۔
3: الجمال والکمال
صفحہ 2 از 5