حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 5
(شیعہ مجتہد علی اطہر نے ایک رسالہ ارسال الیدین تصنیف کر کے الفاروق کے دفتر بھیجا اور اس کا جواب لکھنے کی دعوت دی، سید احمد شاہ بخاری رحمۃ اللہ نے اس کا جواب لکھنے کی ذمہ داری آپؒ کو دی، ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کے متعلق شیعہ جتنے دلائل دیے تھے ان سب کا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب اس کتاب میں موجود ہے)
3: فقہ جعفریہ کی تاریخی سرگزشت
4: نفاذ شریعت و فقہ جعفریہ
(جب جنرل ضیاء الحق شہید کے دورِ حکومت میں بعض اسلامی قوانین اور اسلامی حدود کے نفاز کا تاریخ ساز اعلان ہوا تو دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے مختلف معروف فرقوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی مہم شروع کر دی۔ ایک آواز یہ اٹھائی گئی کہ فقہ جعفریہ کا نفاذ الگ کیا جائے۔ چنانچہ صدرِ مملکت نے اس کا حل تلاش کرنے کے لیے مختلف فقہی مکاتبِ فکر کے نمائندگان پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کر دی۔جون 1979 میں فقہ جعفریہ کے متعلق ایک اجتماع اسلام آباد میں ہونے والا تھا مولانا رحمہ اللہ نے فقہ اسلامی کے نفاذ کی راہ میں سے ایک سنگین سازش قرار دیا۔ چنانچہ آپؒ نے وقت کی کمی کے باوجود ایک علمی تحقیقی مقالہ نفاذِ شریعت مرتب فرمایا لیکن بہتر قانونی پیشِ نظریہ جناب چودھری امان اللہ صاحب ایڈوکیٹ کے نام سے شائع ہوا، اور اس کی کاپیاں صدرِ مملکت وزیرِ قانون ممبران کمیٹی وغیرہ کو فوری طور پر دستی پہنچائی گئیں۔ مگر حقائق تسلیم کرنے کی بجائے حوالہ جات کے صحیح ہونے کے متعلق شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لہٰذا آپؒ نے فقہ جعفریہ کی مستند کتابوں کے متعلقہ اقتباسات کے فوٹو سٹیٹ کرا کر مقالہ میں شامل کر کے دوسرا ایڈیشن شائع کرا دیا۔ جس نے متعلقہ حلقوں میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ بعض شیعہ یہ کہتے سنے گئے کہ اگر یہی فقہ جعفریہ ہے تو پھر ہمارے مذہب میں کیا باقی رہ گیا۔
اس مقالہ میں آپؒ نے "تاریخ فقہ جعفریہ" کے عنوان کے تحت ایک اہم اضافہ بھی فرمایا اور ثابت کیا کہ کسی اسلامی حکومت نے کسی دور میں فقہ جعفریہ کو اپنے دستور یا قانون میں جگہ نہیں دی۔ بلکہ فقہ جعفریہ کی سب سے پہلی کتاب "اصولِ کافی" اس وقت لکھی گئی جب خلفائے عباسیہ کے اکیسویں خلیفہ المتقی باللہ کا دور خلافت تھا، گویا پانچویں صدی ہجری کے آخر تک تو اس فقہ کے کسی حکومت میں نافذ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس کے بعد خلافتِ عثمانیہ یا براعظم پاک و ہند میں آخری مغل بادشاہ تک کسی وقت بھی اس فقہ کے نفاذ کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا۔ خلفائے ثلاثہ کے عہد میں وہی فقہ جعفریہ رائج تھا جو رسول اللہﷺ نے کتابِ الہیٰ کی روشنی میں رائج فرمایا۔ سیدنا علیؓ نے بھی عہدِ خلافت میں اس فقہ سے بال برابر بھی انحراف نہیں کیا یہی وہ فقہ ہے جو خلفائے عباسیہ کے عہد میں آ کر باقاعدہ فقہی ترتیب سے مدون ہوکر "فقہ حنفی" کے نئے نام سے تمام اسلامی سلطنتوں میں نافذ ہوتی رہی لہٰذا آپؒ کو سخت صدمہ تھا کہ جس نظام اور طریقہ کار کو حضور نبی کریمﷺ نے اپنی 23 سالہ نبوی زندگی میں عملاً نافذ کرکے دکھا دیا تھا آج اسی کے متعلق نزاعی صورت پیدا کی جا رہی ہے اس مقالہ کے ذریعہ کسی کے عقائد کو مجروح کرنا ہرگز مقصود نہ تھا بلکہ غور و فکر کے لیے آپؒ نے مستند حقائق بڑی جرات کے ساتھ پیش کر دیئے اور حکومت کی صحیح راہنمائی کا فریضہ بر وقت اور بڑے احسن طریقے سے انجام دیا۔)
5: حرمتِ ماتم
اس کتاب میں مشہور تبرائی شیعہ مجتہد اسماعیل گوجروی کی کتاب "براہینِ ماتم" کا دندان شکن جواب لکھا اور قرآن و حدیث و اہل بیتؓ کی روشنی میں رد کیا گیا ہے۔
6: تحقیق حلال و حرام "در جواب" متعہ اور اسلام
اس کتاب میں شیعہ مجتہد ملا علی نقی لکھنؤی کی کتاب "متعہ اور اسلام" کا جواب دیا گیا اور متعہ (زنا) پر شیعہ کے تمام دلائل کا علمی محقق اور مدلل رد پیش کیا گیا ہے۔
جس پر تقریظ سید احمد شاہ بخاریؒ نے ان الفاظ میں تحریر فرمائی: تمام اہلِ اسلام کی خدمت میں گزارش ہے کہ سید علی نقی صاحب شیعی لکھنؤی نے ایک چھوٹا سا رسالہ نامی متعہ اور اسلام اہلِ سنت و الجماعت کے خلاف لکھا جس کو امامیہ مشن لاہور نے شائع کیا۔ اس رسالے میں سید موصوف نے متعہ کے حلال ہونے کو بزعمِ خویش قرآن و حدیث سے ثابت کیا۔ اور اہلِ سنت و الجماعت کے مسلک کو عقل و نقل کے خلاف قرار دیا ہے سخت ضرورت تھی کہ اس مسئلہ میں مسلک حقہ اہلِ سنت و الجماعت کے دلائل و براہین کو آسان اردو عبارت میں واضح کیا جائے۔ اور سید صاحب کے اعتراضات کے عام فہم اور مضبوط جواب تحریر کیے جائیں تاکہ عام الناس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر دین و ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں خداوند تبارک تعالیٰ تمام اہلِ اسلام خصوصاً طالبانِ تحقیق کی طرف سے مولانا اللہ یار خان صاحبؒ کو جزائے خیر عطا کرے جنہوں نے باوجود مشاغل  کثیرہ کے اس  دینی ضرورت کو باحسن وجوہ پورا کیا ہے 
میں نے اول سے آخر تک اس مضمون کو دیکھا ہے بفضلہٖ تعالیٰ مضمون کیا ہے۔ ایک دریائے تحقیقات ہے جو ساون کے دریاؤں کی طرح موجیں مار رہا ہے حق یہ ہے کہ مولانا اللہ خانؒ نے حق تحقیق ادا کر دیا ہے اس لئے اہلِ اسلام سے درخواست ہے کہ اس رسالہ کو زیادہ سے زیادہ شائع کرنے کی کوشش کریں۔ اور اس کے مضامین کو محفوظ رکھنے میں سُستی سے کام نہ لیں۔ مجھے تسلیم ہے کہ اس کتاب کی زبان اہلِ زبان کے محاورات کے مطابق نہیں ہے مگر آپ اس رسالہ کو ادبی رسالہ تصور نہ کریں بلکہ ایک علمی اور تحقیقی مضمون خیال کر کے اس کا مطالعہ کر کے اس کے مطالعہ سے شرف اندوز ہوں۔
7: دامادِ علی رضی اللہ عنہ
 (امِ کلثوم بنتِ علیؓ و فاطمہؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے محقق کتاب علمائے کرام کی فرمائش پر لکھی گئی)
8: شکستِ اعدائے حسین رضی اللہ عنہ
اس کتاب کے بارے آپؒ نے تحریر فرمایا کہ 
صفحہ 3 از 5