حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 5
(یکم اکتوبر 1955 کو بمقام میرپور (آزاد کشمیر) "قاتلان حسینؓ" کے موضوع پر اہلِ سنت و الجماعت اور اہلِ تشیع کے مابین ایک مناظرہ ہونا طے پایا تھا۔اہلِ سنت و الجماعت کی طرف سے جناب ڈاکٹر محمد یعقوب صاحب اور اہلِ تشیع کی طرف سے جناب احمد علی شاہ صاحب مناظرہ کے منتظم و مہتمم تھے شیعہ حضرات نے اس مناظرہ کے لیے اپنے معروف مناظر مولوی محمد اسماعیل گوجروی کو دعوت دی تھی جب کہ اہلِ سنت و الجماعت کی طرف سے مجھے مدعو کیا گیا تھا۔
حسبِِ عادت جب شیعہ مناظر مولوی محمد اسماعیل دعوت و وعدہ کے باوجود وقت مقررہ اور مقام مقررہ پر بغیر کسی جواز کے تشریف نہ لائے تو منتظمین اور حاضرین نے بے حد مایوس ہوئےشیعہ منتظمین نے وقت مقررہ پر اپنے کسی دوسرے مناظر کو بھی نہ بلا کر اپنی شکست تسلیم کر لی شیعہ حضرات نے بغیر مناظرہ کی شکست اس لئے قبول کر لی تھی کہ ان کے لئے ایسی شکست دے مناظرہ کی یقین شکست سے بدرجہا بہتر تھی۔
میں نے اس مناظرہ کے لئے جو دلائل مرتب کیے تھے وہ مختصر طور پر اس کتابچے میں شائع کر رہا ہوں۔ اہلِ تشیع کی اس سکشت کی یادگار کے طور پر میں نے اس کتابچے کے نام سکشتِ اعدائے حسینؓ رکھا ہے امید ہے کہ ہر مکتب فکر کے لوگ اس سےکماحقہ، مستفید اور مستفیض ہوں گے۔
9: ایجادِ مذہبِ شیعہ
(اس کتاب میں یہ تحقیق سے پیش کیا گیا ہے کہ شیعہ ایک الگ مذہب ہے جو نہ نبی کریمﷺ سے چلا اور نہ بارہ ائمہ سے بلکہ اسکی بنیاد ایک دشمنِ اسلام نے رکھی)
10: بناتِ رسولﷺ
(رسول اللہﷺ کی چار بیٹیاں دلائلِ شیعہ کتب سے اور اہلِ سنت کا شیعہ کو 1956 کا چیلنج)
11: تفسیر آیاتِ اربعہ
(خلفائے راشدین کی خلافت پر قرآنِ پاک سے دلائل)
12: ایمان بالقرآن
(یہ ایک چھوٹا سا کتابچہ ہے جس میں تحریفِ قرآن پر روافض (شیعہ) سے مناظرے کے اصول بیان کیے گئے ہیں) 
13: الدین الخالص
ایک اور نایاب تصنیف الدین الخالص کے مرتب کرنے میں ایک عجب جذبہ محرک ہوا جو آپؒ کے قلب پر روحانی طور پر وارد ہوا آپؒ فرماتے ہیں کہ اس جذبہ نے مجھے اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ ایک ایسا رسالہ لکھوں جس میں مذہب اہلِ سنت و الجماعت کی حقانیت کو قرآنِ کریم کی ظاہر نصوصِ قطعیہ سے ثابت کیا جائے اور جو مسئلہ بیان کیا جائے وہ آیتِ قرآنی کا مدلول مطابقی ہو اور اس مدلول پر ایک آیتِ قرآنی دال ہونے میں کسی حدیث کی محتاج نہ ہو۔  کیونکہ آیتِ قرآنی اگر اس مدلول پر دلالت کرنے میں محتاجِ حدیث ہوگی تو وہ مدلولِ ظنی ہو جائے گا۔البتہ جو حدیث آیتِ قرآنی کی مؤید ہے وہ تائید میں پیش کی جائے گی، مگر استدلال مدعا آیت سے ہی ہوگا چنانچہ آپؒ نے اس کتاب میں کتابِ الہیٰ کے بعض حصوں کی مستند علمی اور عملی تفسیر پیش کر کے خالص دین کی وہ صورت پیش کی جس میں کسی غل وغش کی کوئی گنجائش نہیں رہنے دی۔ آیاتِ جہاد، اہلِ بیت ،بناتِ رسولﷺ، ثبوتِ نکاح اُمِ کلثومؓ، خلفائے ثلاثہ اور صحابہؓ کا ایمان، شیخین کی فضیلت۔آیتِ رضوان ،آیتِ اظہار دین وغیرہ مسائل زیرِ بحث لائے گئے۔ اس کتاب میں ایسے خطرناک موڑوں کی نشاندہی بھی فرمائی جہاں سے انسانیت کا قافلہ غلط سمت مڑتا رہا۔
14: عقائد و کمالات علمائے دیوبند
جس میں تمام عقائد کا بہت عمدہ انداز میں لکھا گیا ہے 
15: تصوف و سلوک:
آپؒ کو جیسے علومِ ظاہری میں اللہ تعالیٰ نے کمال عطاء فرمایا تھا ایسے ہی علومِ باطنی میں آپؒ مجدد اور مجتہد فی التصوف تھے آپؒ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے شیخ تھے یہ سلسلہ 12 واسطوں سے رسول اللہﷺ سے جا ملتا ہے اسی موضوع پر آپؒ کی مشہور زمانہ کتاب دلائل االسلوک ہے جو کہ اُردو، عربی، انگلش، سندھی، ہندی، پشتو میں اس کتاب کے منظرِ عام پر آتے ہی جعلی پیروں کی دکانیں بند ہو گئیں، اس کتاب میں صحیح اسلامی تصوف سے روشناس کرایا گیا ہے جہاں تک تصوف کے علمی پہلو کا تعلق ہے تو بقول مولانا صاحبؒ صحیح اسلامی تصوف کے خد و خال کا تعین اور اسکی حقیقت سے علمی حلقوں کو روشناس کرانا نہایت ضروری ہے کیونکہ آج کل جس چیز کو تصوف کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اسے تصوف اسلامی سے دور کا تعلق نہیں یہی وجہ ہے کہ تصوف اور صوفیائے کرام کے متعلق عوام بلکہ علماء کے دلوں میں بھی شکوک و شبہات پاۓ جاتے ہیں لہٰذا آپؒ نے غلط فہمیوں کے ازالہ اور عوام و خواص کی علمی تشفی کی خاطر اور عامۃ المسلمین کو صحیح اسلامی تصوف سے روشناس کرانے کا بیڑا اٹھایا جس کی اساس قرآن و حدیث پر ہو تاکہ عام لوگ بھی اپنی فکری اور عملی اصلاح کرسکیں 
آپؒ کی یہ مشہور زمانہ اور مرکۃالارا تصنیف "دلائل السلوک" جو پہلی مرتبہ سنہ 1964 میں طبع ہوئی تصوف اور سلوک پر ایک سند اور اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ ایک کرامت ہے اس لیے آپؒ تاکید فرماتے کہ:یہ کتاب کسی ذی علم کو ہی دکھائی جائے کیونکہ جو شخص علم سے اندھا ہے وہ کسی روشنی سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ چونکہ اس تصنیف کا مقصد تصوف و سلوک کو دلائلِ شرعیہ سے ثابت کرنا مقصود تھا اس لیے اس کا اسلوب بیان سادہ و سلیس ہونے کے ساتھ نہایت مدلل اور محققانہ ہے۔
16: رد منکرین حیات النبیﷺ
حیات النبیﷺ کے موضوع پر آپؒ نے چار کتب تحریر فرمائی جو کہ منکرین حیات النبیﷺ کی کتب کا رد ہے ایسی گہری دقیق تحقیق سے لکھی آج تک جواب نہیں دیا۔
17: حیاتِ برزخیہ
اس کتاب میں ندائے حق کا رد کیا گیا ہے منکرین حیات النبیﷺ کے تمام دلائل کا قرآن وحدیث سے رد کیا گیا ہے
18: سیف اویسیہ
19: حیات النبیﷺ
29: حیات انبیاء
ان چاروں کتب میں آپؒ نے مسلئہ حیات النبیﷺ پر تفصیل سے بحث فرمائی اور قرآنی آیات اور حدیث سے ثابت کیا کہ حیات انبیاء یا حیات بعد موت ایسی حقیقت ہے جس کی نشاندہی خود خالقِ کائنات نے فرما دی ہے کہ: بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَ۞
(سورۃ آلِ عمران: آیت، 169)
صفحہ 4 از 5