حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 5
یعنی وہ صرف زندہ ہی نہیں بلکہ ان کی حیات قائم رکھنے کے لیے انہیں رزق دیا جاتا ہے اور بقول حضرت صاحب یہ ایک تو سلسلہ حقیقت ہے غذا یا رزق صرف زندہ لوگ ہی کھاتے ہیں  دراصل منافقین اور مشرکین اس غلط عقیدہ کا شکار تھے کہ وہ مرگئے اور موت ان کے نزدیک ایک علمی چیز تھی یعنی وہ بالکل نابود ہوگئے اس کے برعکس خالقِ حقیقی نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ مرے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں میں یہ عقیدہ راسخ ہونا چاہیئے کہ وہ زندہ ہیں اور حضرت جیؒ نے یہ بھی ثابت کیا کہ انبیاء کرام علیہم السلام قبور میں نماز پڑھتے ہیں۔
21: اسرار الحرمین
اسرار الحرمین میں آپؒ نے حرمین شریفین کے مبارک سفر کے دوران اولیاء اللہ کے مختلف گروہوں اور ان کی اہمیت و تصرفات کے علاوہ اپنے بعض مشاہداتِ باطنی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ نیز جن دینی مسائل پر آپؒ کا حضور نبی اکرمﷺ سے ہم کلام ہوا ان کی تفصیلات بھی خاص و عام کے فائدے اور واقفیت کے لیے اس تصنیف میں بیان کی گئی ہیں۔ اس کتاب کے سلسلہ میں آپؒ نے خود ایک واقعہ سنایا۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ ایک مولوی صاحب اکثر اپنی تقاریر اور واعظ میں ہمارے سلسلہ پر اعتراض کیا کرتے تھے ان کے ایک بھائی ہمارے ذکر تربیت میں شامل ہوگئے ان کے حالات جب بدلے ہوئے دیکھے تو سوچ میں پڑ گئے یہ ہوا کیا؟ ہماری کتاب اسرار الحرمین ایک عمر رسیدہ عالم دین کے پاس لے گئےیہ بزرگ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد اور مجاز ہیں۔سرگودھا سے دور ایک دیہات میں اپنی زرعی آراضی پر رہتے ہیں مولوی صاحب نے کتاب کے وہ حصے جن میں حرمین شریفین کا بیان ہے ان کے سامنے رکھا اور پوچھا! کیا یہ باتیں درست ہیں اور ایسا ممکن ہے؟ چنانچہ آپؒ کتاب کے ان حصوں کا مطالعہ فرماتے رہے اور پھر فرمایا ہاں بھائی یہ سب درست اور صحیح ہے لیکن بات یہ ہے کہ اب ایسے لوگ کہاں؟ اس دور میں اس قسم کے لوگ نہیں پائے جاتے۔ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس کتاب کے مصنف جن کے احوال کا کچھ ذکر اس کتاب میں ہے اس وقت زندہ موجود ہیں تو آپؒ نے فرمایا بھائی اگر ایسا شخص کہیں موجود ہے تو اس کے پاؤں دھو کر پینا چاہیئں۔ وہ صاحب کہاں تشریف فرما ہیں؟
آپؒ کی تصانیف کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ تاثیر باطنی بھی اثر انداز ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔یہ آپؒ کے فضل و کمال اور تفقہ فی الدین کی زبردست شہادت ہے۔اسی سے پتا چلتا ہے کہ احیائے دین کے لئے آپؒ کوئی لمحہ ضائع کیئے بغیر دن رات کس قدر مصروف رہے۔
الفاروق رسالہ میں معاونت:
شیعہ مناظر مبلغ اسماعیل گوجروی جب مناظروں میں آپؒ اور سید احمد شاہ بخاریؒ سے زچ ہونے لگا تو اس نے گوجرہ سے صداقت کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا جس میں حقائق و دلائل کو توڑ مروڑ کر مناظروں کی غلط رُودادِ پیش کی جاتی۔ اس کے تدارک کے لئے ضرورت محسوس کی گئی النجم کی طرز پر اہلِ سنت کا بھی ایک ترجمان رسالہ ہو۔ سید احمد شاہ بخاریؒ کی زیرِ صدارت دارالہدیٰ چوکیرہ ضلع سرگودھا سے یکم نومبر 1956 کو پندرہ روزہ الفاروق کا اجراء ہوا تو اس کی مجلسِ عامہ نے حضرت مولانا رحمہ اللہ سے معاونت کی درخواست کی جو آپؒ نے قبول فرمائی اور الفاروق کے پہلے شمارے سے لے کر 15 جولائی 1960کے آخری شمارے تک مسلسل مدیرِ معاون کے فرائض سرانجام دئیے۔
اگست 1957 کے شمارے میں آپؒ کا معرکۃالآرا مضمون داعیانِ حسینؓ و قاتلانِ حسینؓ کی خانہ تلاشی شائع ہوا۔ اس وقت تو اس مضمون پر کوئی ردّعمل نہ ہوا کیونکہ آپؒ نے تاریخی حقائق بیان فرمائے تھے لیکن تین سال بعد اسی مضمون کو بنیاد بناتے ہوئے گورنر پنجاب کے حکم سے الفاروق بند کر دیا گیا۔ 
وفات:
علوم ظاہر و باطنی کا بےتاج بادشاہ 18 فروری 1984 کو غروب آفتاب کے ساتھ ہی غروب ہو گیا۔ اس سانحہ عظیم پر ہم کیا رؤے پوری کائنات روئی اور حدیث مبارک کے الفاظ میں آپؒ کی وفات موت العالم، موت العالم کی مصداق بن گئی۔
آپؒ کے بعد آپؒ دو خلفاء حضرت محمد احسن بیگ صاحب دامت برکاتہ اور سید بنیاد حسین شاہ رحمہ اللہ (اکتوبر 2021 میں وفات پا گئے ہیں) نے سلسلے کی باگ ڈور سنبھالی جو سالکین کی تربیت و منازل سلوک طے کروا رہے ہیں۔

صفحہ 5 از 5