مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام…

مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام بھی ہے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3


مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام بھی ہے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ﴾ [ الحدید 25]

’’ بلا شبہ یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو کو نازل کیا، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اللّٰہُ الَّذِیْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیزَانَ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ ﴾ [شوری 17]

’’ اللہ وہ ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی اور میزان بھی، اور تجھے کون سی چیز آگاہ کرتی ہے، شاید کہ قیامت قریب ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِہَا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالَعَدْل﴾ [النساء 58]

’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًا وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ﴾ [المائدۃ 42]

’’ پھر اگر وہ تیرے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کر، یا ان سے منہ پھیر لے اور اگر تو ان سے منہ پھیر لے تو ہر گز تجھے کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ہُمْ عَمَّا جَآئَ کَ مِنَ الْحَقِّ﴾

’’ پس ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر، اس سے ہٹ کر جو حق میں سے تیرے پاس آیا ہے۔‘‘

پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ انصاف کریں ؛ اور لوگوں کے مطابق اللہ کے نازل کردہ احکام کی روشنی میں فیصلے کریں ۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام عادلانہ ہیں ۔انصاف اس کی طرف سے نازل کردہ ہے۔

فریقین کے مابین فیصلہ کرنے والے پر یہ واجب ہوتا ہے کہ وہ عادلانہ فیصلہ کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالَعَدْل﴾ [النساء 58]

’’ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو ۔‘‘

حاکم کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کبھی بھی کسی بھی صورت میں ظلم کرے۔ وہ شریعت جو مسلمان حکمرانوں پر واجب ہے؛ وہ ساری کی ساری عدل ہے۔ شریعت میں اصل میں کوئی ظلم نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام سب سے بہترین احکام ہوتے ہیں ۔ شریعت وہ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہو۔پس ہر وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرے؛ وہ عادلانہ فیصلے کرتا ہے۔ لیکن عدل مختلف قسم کا ہے۔ جو کہ شریعت اور منہج کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔پس ہر شریعت میں اس کے حساب سے عدل ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَoوَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَ ہُمُ التَّوْرٰیۃُ فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَ مَآ اُولٰٓئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَo اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰیۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّ نُوْرٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ وَ کَانُوْا عَلَیْہِ شُہَدَآئَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ﴾ [المائدۃ 42۔44]

’’ اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اور وہ تجھے کیسے منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے پھر وہ اس کے بعد پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ہرگز مؤمن نہیں ۔بے شک ہم نے تورات اتاری، جس میں ہدایت اور روشنی تھی، اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے انبیاء جو فرماں بردار تھے، ان لوگوں کے لیے جو یہودی بنے اور رب والے اور علماء، اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر گواہ تھے۔ تو تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘

آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 1 از 3