مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام…

مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام بھی ہے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

﴿وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَo وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مُہَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ہُمْ عَمَّا جَآئَ کَ مِنَ الْحَقِّ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْہَاجًا وَ لَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ o وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ہُمْ وَ احْذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّصِیْبَہُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِہِمْ وَ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ oاَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ﴾ [المائدۃ 47۔50]

’’ اور لازم ہے کہ انجیل والے اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ نافرمان ہیں ۔ اور ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابوں میں سے اس سے پہلے ہے اور اس پر محافظ ہے۔ پس ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر، اس سے ہٹ کر جو حق میں سے تیرے پاس آیا ہے۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمھیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن تاکہ وہ تمھیں اس میں آزمائے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔ پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمھیں بتائے گا جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔اور یہ کہ ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر اور ان سے بچ کہ وہ تجھے کسی ایسے حکم سے بہکا دیں جو اللہ نے تیری طرف نازل کیا ہے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو جان لے کہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے کچھ گناہوں کی سزا پہنچائے اور بے شک بہت سے لوگ یقیناً نا فرمان ہیں ۔پھر کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے، ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں ۔‘‘

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تورات اور انجیل کا حکم بیان فرمایا ہے؛ اور پھر بیان کیا کہ اس نے قرآن نازل کیا ہے؛ اور اپنے نبی کریمﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان لوگوں میں قرآن کے مطابق فیصلے کریں ؛ اور کتاب اللہ کی تعلیمات کو چھوڑ کر ان کی خواہشات پر نہ چلیں ۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نبی کے لیے ایک شریعت اور منہج ہوا کرتا تھا۔ پس موسی علیہ السلام کا اپنا منہج تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام کا اپنا منہج تھا۔ یہ منہج وشریعت تورات اور انجیل میں موجود تھے۔ اور جو کچھ قرآن میں ہے؛ اسے اپنے نبی اکرمﷺ کے لیے شریعت و منہج مقرر کیا تھا۔ اور آپ کو حکم دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کیا کریں ۔ اور اس بات سے خبردار کیا تھا کہ کہیں لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تعلیمات سے فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے؛ وہی اس کا حکم ہے۔اور جو کوئی اس کے علاوہ کوئی دوسرا حکم چاہتا ہے تو یقیناً وہ جاہلیت کے احکام کے مطابق فیصلے کروانا چاہتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ﴾ [المائدۃ 42۔44]

’’جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جو کوئی رسول اللہﷺ پر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام واجب نہ ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو؛ وہ کافر ہے۔ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی شریعت کو چھوڑ کر اپنی رائے کے مطابق لوگوں کے مابین فیصلہ کرنے کو عادلانہ نظام سمجھتا ہو؛ وہ بھی کافر ہے۔ بیشک کوئی بھی امت ایسی نہیں ہے جو عدل و انصاف کا حکم نہ دیتی ہو۔ اور بسا اوقات ان کے دین میں عدل وہی ہوتا ہے جسے ان کے بڑے عدل خیال کرتے ہیں ۔ بلکہ بہت سارے اسلام کی طرف منسوب لوگ اپنی ان عادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جن کی کوئی دلیل اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کی۔جیسا کہ اہل بادیہ ؛ میں ان کے بڑے وڈیروں کے فیصلے ۔ان کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں اسی طرح کے فیصلے کرنے چاہیے۔ اورہ کتاب و سنت کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ ایسا کرنا کفر ہے۔ بیشک بہت سارے وہ لوگ جنہوں نے اسلام تو قبول کیا ہے؛ مگر اس کے باوجود وہ اپنے مابین چلتی ہوئی عادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ۔ جب ان لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت سے ہٹ کر فیصلہ؍قانون سازی جائز نہیں ہے؛ تو وہ اس کا التزام نہیں کرتے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے برعکس قانون سازی کو حلال سمجھتے ہیں ۔یہ لوگ بھی کافر ہیں ؛ اگر ان سے جہالت کا عنصر ختم ہو جائے تو؛ جیساکہ اس سے پہلے ان کی بابت گزر چکا۔

اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جب ان کے مابین کسی معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو وہ اس کے حل کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کریں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا﴾ [النساء 59]

صفحہ 2 از 3